Al-Risala · July 1998

نکاح کا معاملہ

Al-Risala, July 1998, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر مشہور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: النکاح من سنتى فمن رغب عن سنتی فلیس منی (نکاح میری سنت سے ہے، پس جو شخص میری سنت سے انحراف کرے تو وہ مجھ سے نہیں) یہ پورا جملہ اس صورت میں حدیث نہیں ہے۔ ابن ماجہ (کتاب النکاح) کی روایت کے مطابق، حدیث کے اصل الفاظ صرف یہ ہیں: النکاح من سنتی۔

البتہ ایک اور روایت میں بقیہ الفاظ آئے ہیں۔ ایک تفصیلی روایت میں آیا ہے کہ تین صحابی نے آپ کی عبادات کے بارے میں حضرت عائشہ سے پوچھا۔ حضرت عائشہ نے آپ کی عبادات کے بارے میں جو بتایا وہ انہیں کم دکھائی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ کے برابر نہیں اس لئے ہمیں زیادہ عمل کرنا چاہئے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ تیسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ کے لئے ازدواجی زندگی کو ترک کردوں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتاہوں۔ لیکن میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ اور عورتوں سے ازدواجی تعلق بھی قائم کرتا ہوں۔ پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔ (فتح الباری ۶/۹)

جیسا کہ متن سے واضح ہے، حدیث میں فمن رغب عن سنتی کا تعلق تمام شرعی اعمال سے ہے نہ کہ مخصوص طور پر نکاح سے۔ دوسری بات یہ کہ اس حدیث کا تعلق سادہ طور پر صرف نکاح نہ کرنے سے بلکہ اعتقادی طور پر نکاح کو قابل ترک سمجھنے سے ہے۔ (فتح الباری ۸/۹) اصل یہ ہے کہ نکاح کی حیثیت نماز کی طرح کسی لازمی فریضہ کی نہیں۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جو شخص نکاح نہ کرے وہ تارک صلاۃ کی طرح گنہگار ہو جائے۔ یا اس کا ایمان مکمل نہ ہو۔ اس معاملہ میں اصل مطلوب چیز با عفت زندگی ہے نہ کہ ہر حال میں اور لازمی طور پر نکاح کرنا۔ کوئی گروہ اگر اجتماعی طور پر نکاح کا طریقہ چھوڑ دے تو یہ یقیناً درست نہ ہوگا کیوں کہ ایسی صورت میں بقاء نسل خطرہ میں پڑ جائے گی۔

انفرادی طور پر کوئی شخص اپنے حالات کے اعتبار سے نکاح نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو ایسا کرنا اس کے لئے عین جائز ہوگا، بشر طیکہ وہ اپنی عفت کو محفوظ رکھے۔

تاریخ میں بہت سی ایسی دینی شخصیتیں پائی جاتی ہیں جنہوں نے نکاح نہیں کیا اور پوری زندگی غیر ازدواجی حالت میں گذار دی۔ پیغمبروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کی ایک مثال ہیں۔ امت محمدی میں بھی کئی ایسے ممتاز بزرگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے ساری عمر نکاح نہیں کیا، مثال کے طور پر امام نووی (وفات ۶۷۶) اور امام ابن تیمیه (وفات ۷۲۸)۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ اگر نکاح مطلق طور پر مطلوب ہو تا اور نکاح سے اعراض دین سے اعراض کے ہم معنی ہو تا تو ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ مذکورہ قسم کی شخصیتیں نکاح کے بغیر زندگی گزاریں اور اسی حال میں دنیا سے چلی جائیں۔ فقہ کی زبان میں، نکاح حسن لذاتہ نہیں ہے بلکہ حسن لغيره ہے۔ یعنی وہ بذات خود مطلوب نہیں ہے بلکہ ایک اور ضرورت کے تحت مطلوب ہے اور وہ بقاء نسل ہے۔ چونکہ مرد اور عورت کے درمیان ازدواجی تعلق کے بغیر نسل انسانی کا باقی رہنا ممکن نہیں اس لئے نکاح کی حیثیت ایک اجتماعی فریضہ کی ہے۔ لیکن وہ ہر فرد پر لازم نہیں۔ کوئی فرد اگر اپنے ذاتی مصالح کی بنا پر غیر ازدواجی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے تو ایسا کرنا اس کے لئے عین جائز ہوگا۔ ایسی حالت میں شریعت اس سے پاکدامنی کا تقاضا کرے گی نہ کہ جبری ازدواج کا۔ نکاح کی دینی اہمیت اصلاً اس اعتبار سے ہے کہ وہ بقاء نسل کے مقصد کو حاصل کرنے کا جائز طریقہ مرد اور عورت اگر نکاح کے بغیر باہم ملیں تو اس کے ذریعہ سے بھی نسل انسانی کا سلسلہ جاری رہ سکتا مگر یہ طریقہ اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے۔ اسلام میں بقاء نسل مطلوب ہے مگر یہ بقاء نسل نکاح کی صورت میں ہونا چاہئے نہ کہ اس کے بغیر۔

بعض افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو یہ محسوس کریں کہ اگر وہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے اپنے کو آزاد رکھیں تو وہ عفیف بھی رہیں گے اور اسی کے ساتھ اعلیٰ انسانی مقاصد کے لئے زیادہ خدمات انجام دے ان افراد کے لئے ایسا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مخصوص حالات میں باعث ثواب بھی ہے۔

Printed page