Al-Risala · July 1998

حکمت حیات

Al-Risala, July 1998, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

مشین، مثلاً گھڑی کے اندر دندانہ دار پہیہ (cog wheel) ہوتا ہے۔ ایک پہیہ کے چلنے سے دوسرا پہیہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک پہیہ ساتھ نہ دے تو نہ کاگ وہیل چلے گا اور نہ مشین حرکت میں

یہی معاملہ موجودہ دنیا میں انسانی منصوبوں کا بھی ہے۔ یہاں بھی دو کاگ ہیں اور زندگی کے نظام کا چلنا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ دونوں کاگ ایک دوسرے سے مل کر چل رہے ہوں۔

اس دنیا میں ایک پہیہ انسان کا ہے اور دوسرا پہیہ خارجی حالات کا۔ یہاں آدمی اتنا ہی کر سکتا ہے جتنا کہ خارجی حالات اس کے لئے ہم آہنگ ہوں۔ ایسی حالت میں آدمی کی بہترین عقل مندی یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ حالات کے اعتبار سے وہ کیا کر سکتا ہے اور کیا کرنا اس کے لئے ممکن نہیں۔

یہاں ممکن کے دائرہ میں عمل کرنے والا مثبت نتیجہ حاصل کرے گا۔ اور جو شخص نا ممکن کے دائرہ میں دوڑے اس کے حصہ میں آخر کار تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ یہ اصول فرد کے لئے بھی درست ہے اور قوم کے لئے بھی درست۔

کسی شخص سے آپ کی نزاع ہو جائے تو ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ انصاف کے مطابق کیا ہونا چاہئے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی صورت حال کے مطابق، عملی طور پر کیا ہو سکتا ہے۔ لئے اس قسم کے مواقع پر آپ کو چاہئے کہ آپ ممکن پر راضی ہو جائیں نہ کہ نظری انصاف کو لے کر بے فائدہ طور پر لڑتے رہیں جس کا نتیجہ مزید نقصان کے سوا اور کچھ نہ ہو۔

یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ یہاں بھی قومی لیڈروں کو یہ دیکھنا چاہئے کہ حقیقی حالات کے اعتبار سے کیا چیز قابل حصول ہے اور کیا چیز قابل حصول نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اس کی ایک سبق آموز مثال یہ ہے کہ امریکہ سو سال سے بلا انقطاع ترقی کرتے کرتے دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور ملک بن گیا۔ دوسری طرف اسی دنیا میں روس کسی مستحکم ترقی سے محروم رہا۔ اسی طرح ہندوستان اور پاکستان بڑے بڑے قيادتی ہنگاموں کے

باوجود کوئی حقیقی ترقی حاصل نہ کرسکے۔

میں نے تقریباً ساری دنیا کا سفر کیا ہے۔ میں نے اس معاملہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی میرے نزدیک اس کا سبب وہی کاگ وہیل کا قانون ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔

امریکہ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو اپنی جدید تاریخ کی ابتدا ہی سے ایسے لیڈر مل گئے جو نظریہ سازی کے فریب سے آزاد تھے۔ انہوں نے فطرت کے قوانین کو سمجھا اور اس کی مطابقت کرتے ہوئے اپنا قومی سفر طے کرنا شروع کیا۔

فطرت کا یہ اصول ایک لفظ میں صحت مند مقابلہ (healthy competition) ہے۔ انہوں نے ملک میں ہر ایک کو آزادی دے دی اور ہر ایک کے لئے یہ موقع کھول دیا کہ وہ مقابلہ ومسابقت کے میدان میں اپنی اہلیت کا ثبوت دے کر اپنی مطلوب ترقی حاصل کر سکے۔ انہوں نے حکومت کو لاء اینڈ آرڈر (نظم ونسق) کے دائرہ تک محدود رکھا اور تمام لوگوں کو عمل کی کھلی آزادی دے دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہرایک کے لئے اپنی بہترین صلاحیتوں کے استعمال کا بے روک ٹوک موقع مل گیا۔

ایک لفظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ کے رہنماؤں نے کسی خود ساختہ نظریہ کو اصل قرار دے کر اس کے تحت اپنے سماج کو ڈھالنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ دیکھا کہ فطری طور پر کیا چیز قابل بقا (sustainable) ہے، اور جو چیز فطری طور پر قابل بقا تھی اس کو اختیار کر لیا۔ اس کے برعکس روس (سوویٹ یونین) میں یہ ہوا کہ کچھ نظریہ سازوں نے اپنے خود ساختہ تخیلات کو اصل قرار دے کر اس کے مطابق پورے سماج کو ڈھالنے کی کوشش کی اور جب سماج کی طرف سے مزاحمت ہوئی تو کروڑوں لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مار ڈالا۔ یہ اسکیم فطرت کے خلاف تھی، اس لئے پچتر سالہ پر شور کوشش کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکی۔

یہی معاملہ ہندوستان اور پاکستان میں پیش آیا۔ یہاں بھی کچھ رہنماؤں نے اپنے خود ساختہ نظریات کو اصل قرار دے دیا اور یہ چاہنے لگے کہ پورے ملک کو اسی ذاتی نظریہ کے تحت ڈھال دیں۔ یہ زبردستی کا نفاذ نظام بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔ اور پچاس سال کی قیمتی مدت نہایت بیدردی کے ساتھ ضائع ہو گئی۔

ہند ستان اور پاکستان کے رہنماؤ ں کوبھی یہی کرنا تھا کہ وہ اس اصول کو اختیار کرتے جس کو فطرت پانی کے معاملہ میں اختیار کرتی ہے۔ پانی جب پہاڑ کی چوٹی سے بہنا شروع ہوتا ہے تو فطرت اس کو خود اپنے کورس پر بہنے کے لئے آزاد چھوڑ دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ قدرتی نشیب و فراز سے گزرتا ہوا سمندر تک پہنچ

ہند ستان اور پاکستان کے رہنماؤ ں کوبھی یہی کرنا تھا۔ وہ حقیقی حالات کو سمجھتے اور سماج کو فطرت کی شاہراہ پر آزادانہ چلنے دیتے۔ اس طرح اپنے آپ صحت مند مسابقت کا ماحول بنتا اور ہر ایک کی صلاحیتیں ظاہر ہو کر ترقیاتی عمل میں اپنا حصہ ادا کرتیں۔ مگر نظریاتی جنون نے زبردستی کی منطق پیدا کی اور زبردستی کی منطق نے ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

موجودہ دنیا میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ زندگی کو فطرت کی شاہراہ پر آزادانہ چلنے دیا جائے اور اگر کسی کے ذہن میں اپنا کوئی علیحدہ نقشہ ہے تو اس کو وہ ترغیب (persuasion) کے دائرہ میں محدود رکھتے ہوئے پر امن طور پر اس کی اشاعت کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب کہ لوگوں کی سوچ بدل جائے اور خود فطرت ہی کے قانون کے مطابق اس کا عملی قیام ممکن ہو جائے۔

سماجی نظام کی تشکیل کے سلسلہ میں اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ کسی رہنما کے دماغ میں اس کا نظریاتی نقشہ کیا ہے۔ بلکہ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ عملی حالات کے لحاظ سے کیا چیز قابل حصول ہے۔ سماجی نظام کی تشکیل میں رہنما کا حصہ صرف پچاس فی صد ہے۔ بقیہ پچاس فی صد خارجی حالات کا ہے۔ اگر اس حقیقت کو نہ سمجھے اور اس وہم میں مبتلا ہو جائے کہ پورا ملک صد فی صد اس کے اپنے نام الاٹ ہو چکا ہے تو یہ دیوانگی کی حد تک ایک مہلک غلط فہمی ہو گی۔ اس غلط فہمی کے تحت وہ جو بھی کام کرے گا اس کا نتیجہ صرف تخریب ہو گانہ کہ تعمیر۔

آئیڈیلسٹ بننااچھاہے ۔ مگرعملی حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں آئیڈیل کا حصول ممکن نہیں۔ اجتماعی زندگی میں کسی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی فکری اعتبار سے آئیڈیلسٹ ہونے کے باوجود عملی اعتبار سے پریکٹیکل بن جائے۔

Printed page