دو نمونے
Al-Risala, July 1998, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جس شخص کے سامنے بھی اسلام کو پیش کیا اس نے اس سلسلہ میں کچھ نہ کچھ تردد کا اظہار کیا۔ مگر ابو بکر کا معاملہ مختلف تھا۔ ان کے سامنے جب میں نے اسلام کی دعوت پیش کی تو انھوں نے کسی شبہ یا تردد کا اظہار نہیں کیا بلکہ فورا ہی اسلام قبول کر لیا (حياة الصحابه (٦٨/١) حضرت ابو بکر اپنی اسی صفت کی بنا پر الصدیق کہے گئے۔
اسلام کے دور اول کی تاریخ میں ایک نمونہ حضرت ابو بکر صدیق کا ہے ۔ دوسرا نمونہ وہ ہے جو حضرت عمر فاروق کی زندگی میں ملتا ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، حضرت عمر نے پہلے اسلام کی سخت مخالفت کی اس کے بعد ایک وقت آیا جب کہ انھوں نے قرآن کے کچھ حصہ کو پڑھا اور اس پر غور کیا۔ بعد انھوں نے اپنے رویہ کو بدلنے کا فیصلہ کیا اور شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ یہ دو علامتی نمونے ہیں۔ یہ دونوں رہنما نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حق کے معاملہ میں انسان کو ان دو میں سے کسی ایک کی مانند ہونا چاہیے ۔ ان دو کے بعد کوئی تیسرا نمونہ مطلوب نمونہ نہیں ۔ پہلے نمونہ کے مطابق، آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گہرے غور و فکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو اتنا پختہ بنائے کہ وہ خود ہی حقیقت کو اس کی گہرائی تک سمجھ جائے ۔ وہ فکری اعتبار سے خود یہ اہلیت رکھتا ہو کہ شکوک وشبہات کے پردے کو پھاڑ سکے اور غیر متعلق بحثوں میں الجھے بغیر چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھ لے۔ یہ فکری پختگی کا اعلیٰ درجہ ہے اور حضرت ابو بکر صدیق اسی درجہ کی آخری تکمیلی مثال ہیں ۔ دوسرے نمونہ کے مطابق، آدمی کو متعصبانہ فکر اور بے اعترافی سے آخری حد تک پاک ہونا چاہیے ۔ اس کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے اتنا زیادہ خالی ہونا چاہیے کہ جب بھی دلیل کی زبان میں اس کی کسی کو تاہی کی نشاندہی کی جائے تو وہ فی الفور اس سے باخبر ہو جائے اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنی غلطی کا اعتراف حضرت عمر فاروق اس دوسرے نمونہ کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ آپ نے ایک ایسا فیصلہ فرمایا جو درست نہ تھا اس کے بعد کسی شخص نے دلیل کی زبان میں اس کی وضاحت کی تو آپ نے فوراً ہی اس کو مان لیا اور شدت اعتراف کے تحت آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : لولا فلان لهلك عمر -