اسلام تغیر پذیر دنیا میں
Al-Risala, July 1998, pp. 18–23
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا ظہور چودہ سو سال پہلے ہوا۔ پھر آج کی دنیا میں وہ کس طرح قابلِ عمل ہو سکتا ہے؟ حقیقت ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ پھر اسلام جیسا ایک غیر متغیر دین بعد کے زمانہ کے لوگوں کو کس طرح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ایک نہ بدلتی ہوئی حقیقت بدلتے ہوئے حالات سے کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ یہ سوال تمام تر مفروضات پر قائم ہے۔ اس کے پیچھے غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام نہ کلی معنوں میں غیر متغیر حقیقت ہے اور نہ زمانہ کلی معنوں میں متغیر حقیقت۔ اصل یہ ہے کہ اسلام فطرت کا ایک قانون ہے۔ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جو اسی طرح ابدی ہے جس طرح فطری حقیقتیں ابدی ہوتی ہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات کی رعایت پہلے ہی سے موجود ہے۔ خود زمانہ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ زمانی حالات کی نوعیت بھی یہی ہے کہ اس میں کچھ چیزیں ابدی طور پر یکساں رہتی ہیں۔ مثلاً سورج سے روشنی لینا اور ہوا سے آکسیجن حاصل کرنا۔ ان کے علاوہ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ظاہری طور پر، نہ کہ حقیقی طور پر، بدلتی رہتی ہیں۔ مثلاً سواری یا طرزِ تعمیر وغیرہ۔ ان دوسرے قسم کے معاملات میں اسلام نے پیشگی طور پر ایسی رعایتیں اور گنجائشیں رکھ دی ہیں جو ہر بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہوں اور اس طرح اسلام ہمیشہ اپنی قابلِ عمل ہونے کی حیثیت کو برقرار رکھے۔ یہاں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ان هذا الدين يسر (البخاری، کتاب الایمان) یعنی دین آسان ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ دین میں سب آسانی اور سہولت والے احکام ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا نظام ایسے فطری انداز میں بنایا گیا ہے کہ وہ ہر صورت حال میں قابلِ عمل رہے۔ اہل اسلام کا سفر حیات کبھی بھی کسی ایسے مرحلہ سے دوچار نہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو بند گلی (impasse) میں محسوس کرنے لگیں ۔ یہاں اس سلسلہ میں اسلام کے چند اصول درج کئے جاتے ہیں جن سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ حالات کی کوئی بھی تبدیلی اسلام کے لئے مسئلہ نہیں۔ ہر صورت حال میں اسلام اپنی فعالیت کو یکساں
طور پر باقی رکھتا ہے۔
اسلام کے کچھ احکام وہ ہیں جو بنیادی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اسی طرح ابدی ہیں جس طرح فطرت کے قوانین ابدی ہیں۔ اسلام کے اسی حصہ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ ”لا مبدل لكلمات الله (الانعام ٣٤) یعنی اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ اسلام کا وہ حصہ ہے جس میں عقیدہ، اخلاقی اقدار اور بنیادی اصول حیات شامل ہیں۔ یہ تعلیمات سب کی سب ابدی ہیں۔ حالات میں کوئی بھی تبدیلی ان کی قدر و قیمت کو بدلنے والی نہیں۔ مثلاً خدا کو ایک جاننا یا سچ بولنا یا تمام انسانوں کو خون شریک بھائی (blood brothers) سمجھنا وغیرہ۔
تاہم یہاں بھی حالات کی ایک رعایت پیشگی طور پر رکھ دی گئی ہے اور وہ قانون اضطرار ہے۔ قانون کے مطابق انسان بس اتنے ہی کا مکلف ہے جتنا اس کے بس میں ہو (البقرہ ۲۸۶) مثلاً اگر حالات کا شدید تقاضا ہو تو اجازت ہے کہ آدمی توحید کو صرف دل سے مانے، وہ زبان سے اس کا اعلان و اظہار نہ تکلیف بقدر وسع کا اصول ایک عام اصول ہے اور وہ عقیدہ سے لے کر عمل تک ہر چیز پر محیط ہے۔ اس سلسلہ میں دوسرا اصول وہ ہے جو اس حدیث سے مستنبط ہوتا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ انتم اعلم بامور دنیاکم (صحیح مسلم بشرح النووی ۱۱۸/۱۵) یعنی تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ حدیث ابتدائی طور پر تأبیر نخل ، بالفاظ دیگر ، باغبانی (horticulture) کے بارے میں آئی ہے مگر تو سیعی مفہوم کے اعتبار سے اس میں وہ تمام امور شامل ہو جاتے ہیں جن کا تعلق تعمیر دنیا سے ہے نہ کہ نجات آخرت سے۔ یہ اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم رہنما اصول ہے۔ اس نے نجات آخرت کے امور اور تعمیر دنیا کے امور کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اخروی نجات والے معاملات میں قرآن و سنت سے ہدایت لینا ہے۔ اور جو امور معاملات دنیا کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں اپنی تحقیق و ریسرچ کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں صنعت و زراعت کے تمام شعبے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام شاخیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح اہل اسلام کو یہ آزادی مل جاتی ہے کہ کسی اعتقادی بندش کے بغیر خالص علمی ریسرچ کی روشنی میں اپنے معاملات کا انتظام وانصرام کرتے رہیں۔
ان معاملات میں اسلام صرف وہاں دخل دے گا جہاں کوئی بات صراحۃً اسلامی تعلیمات کے خلاف مثلاً ہوائی جہاز کی انڈسٹری کیسے قائم کی جائے اس میں اسلام کی طرف سے مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ البتہ اگر یہ سوال ہو کہ ہوائی جہاز کے مسافروں کو سافٹ ڈرنک دیا جائے یا شراب تو یہاں اسلام یہ کہے گا کہ انہیں شراب کے بجائے سافٹ ڈرنک دینا چاہیے۔
اس سلسلہ کی تیسری اہم تعلیم وہ ہے جو پیغمبر اسلام کے ایک اسوہ سے نکلتی ہے۔ مدنی دور میں ایک شخص (مسیلمہ) نے یہ اعلان کیا کہ میں بھی خدا کا پیغمبر ہوں اور مجھ کو محمد کے ساتھ پیغمبری میں شریک کیا گیا ہے (سیرت ابن ہشام ۴/۲۴۳)۔ اس مدعی نبوت کے دو سفیر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ نے ان سے پوچھا کہ اس معاملہ میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ہمارے صاحب کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہ کیا جائے تو میں تم دونوں کو قتل کردیتا(سیرۃ ابن کثیر ۲/ ۹۸) یہ کہہ کر آپ نے انہیں واپس بھیج دیا۔
اس سے ایک اہم اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاملات جو اپنی نوعیت میں بین اقوامی (انٹر نیشنل) ہوں اور جن کے بارے میں واضح بین اقوامی روایات قائم ہو چکی ہوں ان میں اسلام کا بھی وہی اصول ہوگا جو مختلف قوموں کے درمیان عالمی سطح پر مان لیا گیا ہے۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں عام طور پر جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج تھا چنانچہ اسلام میں بھی ایک مدت تک وہ اسی طرح رائج رہا مگر اب چونکہ اس معاملہ میں عالمی دستور بدل چکا ہے اس لئے اب اس پر عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔ ایران جنگ ۸۸-۱۹۸۰ میں دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں جنگی قیدی پکڑے گئے۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی غلام نہیں بنایا گیا۔ بلکہ ایک مدت تک قید میں رکھنے کے بعد تبادلہ کی بنیاد پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
کچھ امور وہ ہیں جن میں کچھ پہلو اتفاق کے ہوں، کچھ پہلو اختلاف کے۔ ایسے امور میں اسلام کا موقف بالکل واضح ہے۔ حالات کے مطابق، اس طرح کے معاملات میں بقدر ضرورت ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے مواقع پر آئیڈیل اپروچ کے بجائے پریکٹیکل اپروچ
اسلام کا طریقہ ہو گا۔
اس سلسلہ میں سیکولرزم اور ڈیموکریسی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہب کو ذاتی دائرے میں رکھ کر بقیہ معاملات میں وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں سماج کا مجموعی مفاد شامل ہو۔ حالات میں اس کو اسلام میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ اس کی ایک مثال خود پیغمبر کی زندگی میں مدنی دور کا ابتدائی نصف زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں مدینہ کی ابتدائی اسٹیٹ میں جو نظام اختیار کیا گیا وہ اپنے عملی ڈھانچہ کے اعتبار سے کم و بیش وہی تھا جس کو موجودہ زمانہ میں سیکولرزم کہا جاتا ہے۔
۵- ان سب کے باوجود ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ امور ایسے ہوں جن میں اسلام کا اور بدلی ہوئی دنیا کا اختلاف باقی رہے۔ ایسے معاملات کے لئے اسلام میں کیا ہدایت ہے اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرتے رہو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغه نہیں ہو (الغاشیہ)۔
اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اس قسم کے اختلافی امور میں دونوں فریقوں کے درمیان ڈائیلاگ ہو گا۔ اہل اسلام دوسروں کو اپنی پوزیشن بتانے کی کوشش کریں گے۔ خالص پر امن انداز میں یہ کوشش جاری رہے گی کہ حق واضح ہو، اور لوگ دلیل کی زبان سے مطمئن ہو کر حق کو قبول کر لیں۔ تاہم یہ سارا کام صرف پر امن ترغیب کے دائرہ میں ہوگا، کسی بھی حال میں کوئی متشددانہ طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا خواہ یہ اختلافات ختم ہو جائیں یا بدستور لمبی مدت تک باقی رہیں۔ یہ اصول اس بات کا ضامن ہے کہ اسلام کی پوزیشن فکری طور پر لوگوں کے اوپر واضح ہو جائے۔ اہل اسلام اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو اس سے پوری طرح باخبر کر دیں۔
اس کی ایک مثال مرد اور عورت کی صنفی مساوات (gender equality) کا مسئلہ ہے، اس معاملہ میں اسلام اور جدید مغرب کے نقطہ نظر میں اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ جدید مغرب کا یہ کہنا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس (مقام کار) ایک ہے۔ مگر اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ جہاں تک عزت، احترام اور انسانی حقوق کا سوال ہے، دونوں کے درمیان مکمل مساوات ضروری ہے۔ لیکن جہاں تک ورک پلیس کا تعلق ہے
دونوں کا ورک پلیس بنیادی طور پر الگ ہوگا۔ کیونکہ حیاتیات اور نفسیات کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس اختلاف کے سوال پر اسلام اور مغرب کے درمیان پچھلے سوسال سے رسمی اور غیر رسمی سطح پر ڈائیلاگ جاری ہے اگرچہ ابھی تک اس معاملے میں دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے ممکن نہ ہو سکا۔ اسلام کا رول بہتر دنیا کی تعمیر میں اسلام کا ایک مستقل رول ہے۔ یہ رول اسلام کے ابتدائی زمانہ سے لے کر بعد کے زمانوں تک جاری رہا ہے اور مسلسل جاری رہیگا۔ یہاں مختصر طور پر اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا
جب اسلام کا ظہور ہوا تو قدیم عرب میں قبائلی نظام تھا۔ ان کا کلچر انتقام کے اصول پر قائم تھا۔ کے یہاں جب اس قسم کا کوئی ایک واقعہ پیش آتا تو فریق ثانی کے لئے ضروری ہو جاتا کہ وہ اس کا انتقام لے۔ اس کے بعد انتقام کا انتقام لینے کی صورت میں یہ تباہ کن سلسلہ برابر جاری رہتا۔ یہ صورت حال قدیم عربوں کی ترقی میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ اسلام نے انتقام کلچر کی جگہ معافی کلچر کو رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے لئے ہر قسم کی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔
موجودہ زمانہ میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں ہیں جہاں اسلام اپنا مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ انفرادی آزادی بہت قیمتی چیز ہے مگر جدید مغربی تہذیب نے آزادی کو خیر مطلق (summum bonum) قرار دے کر اس کو لامحدود حد تک وسیع کر دیا۔ اس لامحدود آزادی کے بے شمار نقصانات ہیں جن کو آج دنیا مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔
تمام اہل دانش یہ مانتے ہیں کہ آزادی بلاشبہ ایک خیر ہے مگر لامحدود آزادی شر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جدید تہذیب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آزادی کو محدود کس طرح کیا جائے اور کس کے مقابلہ میں کیا یہاں اسلام یہ رہنمائی دیتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کے مقابلہ میں محدود بنائے۔ انسان کے مقابلہ میں آزادی کو محدود کرنا بظاہر نا قابل فہم ہے مگر خدا کے مقابلہ میں آزادی کا تصور فوراً قابل فہم ہو جاتا ہے۔
اس نوعیت کی ایک کامیاب مثال اس سے پہلے سامنے آچکی ہے۔ پچھلے پانچ ہزار سال سے یورپ فلسفیوں کے اس تصور سے مسحور تھا کہ انسانی عقل حقیقت کلی تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر اس رخ پر ہزاروں سال کی کوشش کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچ سکی۔
اسلام نے اس معاملہ میں یہ رہنمائی دی کہ عقل انسانی صرف جزئی حقیقت کا احاطہ کر سکتی ہے، وہ کلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی (وما اوتیتم من العلم الا قليلا)۔ اس محدودیت کی بنا پر حقیقت کلی کو عقل کے ذریعہ دریافت کرنے کی کوشش ایک بے فائدہ کوشش ہے جو کبھی کسی واقعی نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔ قرون وسطیٰ میں جب اسلامی فکر یورپ میں پھیلا تو اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ ذہن بنایا کہ سائنسی ریسرچ کے دائرہ کو محدود رہنا چاہئے۔ اب یورپ کے اہل علم نے اشیاء کے معنوی پہلو کو اس کے مادی پہلو سے الگ کر دیا۔ وہ معنوی پہلو کو چھوڑ کر چیزوں کے مادی پہلو پر ریسرچ کرنے لگے۔ اس طرح اچانک سائنسی تحقیق بے فائدہ کوشش کے میدان سے نکل کر نتیجہ خیز عمل کے میدان میں داخل ہو گئی۔ ’’علم کثیر‘‘ کو چھوڑ کر ’’علم قلیل‘‘ پر راضی ہونے کا یہی اصول تھا جو جدید سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا سبب بنا۔ اسی طرح جدید مغرب ایک اور سحر میں مبتلا ہے۔ یہ لا محدود آزادی کا سحر ہے۔ مگر دوبارہ فطرت کا قانون اس کے لئے ایک مستقل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ لا محدود آزادی کے تصور کے تحت کبھی کوئی بہتر سماج نہیں بنایا جا سکتا۔ یہاں دوبارہ اسلام ایک عظیم رہنمائی دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ انسان محدود آزادی پر راضی ہو جائے۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں صرف یہی ممکن ہے۔
لا محدود آزادی کے تصور نے دنیا کو انار کی کا جنگل بنا دیا ہے۔ محدود آزادی کا اصول دنیا کو امن اور سکون کا سماج بنا سکتا ہے۔ یہ دوسرا اصول اسی طرح جدید دنیا میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے جس طرح پہلا اصول قدیم دنیا میں ایک عظیم انقلاب لایا تھا۔