Al-Risala · July 1998

جھوٹ کی اشاعت

Al-Risala, July 1998, pp. 25–30

By Maulana Wahiduddin Khan

نوائے وقت پاکستان کا مشہور اردو روزنامہ ہے جو تقریباً ۶۰ سال سے جاری وہ پاکستان کے پانچ شہر (لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان) سے بیک وقت شائع ہوتا اس کی لاہور کی اشاعت مورخہ ۷ اپریل ۱۹۹۸ (۹ ذی الحجہ ۱۴۱۸ھ)میں میں ایک خبر شائع ہوئی یہ اس کے صفحہ آخر سے شروع ہوتی ہے اور صفحہ ۱۱ پر مکمل ہوئی ہے۔ نوائے وقت کی یہ خبر اس کے عنوان کے ساتھ بجنسہ یہاں درج کی جاتی ہے :

مولانا وحید الدین خان پر نئی دہلی میں قاتلانہ حملہ نئی دہلی (جی این این) بھارت کے متنازعہ مصنف اور اسکالر وحید الدین خان صبح ایک قاتلانہ حملہ میں بال بال بچ گئے۔ حملے کے باعث ان کی کار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وحید الدین خان اپنے دفتر واقع نیودہلی میں داخل ہو رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے لاٹھیوں اور ہاکیوں سے ان پر حملہ پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ متنازعہ مصنف نے حال ہی میں بدنام زمانہ مصنف اور گستاخ رسول سلمان رشدی کے دفاع میں ایک متنازعہ کتاب لکھی ہے۔ کتاب میں ایرانی پیشوا آیت اللہ خمینی کی طرف سے سلمان رشدی کے قتل کے فتوی کی مذمت کی سلمان رشدی کے حامی مصنف کے بیٹے نے کہا کہ یہ کارروائی حکومت ایران کے ایماء پر کی گئی

۱- یہ خبر بالکل بے بنیاد ہے۔ ایسا کوئی واقعہ خدا کے فضل سے میری زندگی میں کبھی پیش نہیں آیا نہ دہلی میں اور نہ کہیں اور۔ مجھے تعجب ہے کہ اتنی زیادہ بے اصل خبر کیسے وضع کی گئی اور کیسے وہ ایک موقر مسلم اخبار میں شائع ہوئی ۔

۲- خبر میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ فرضی واقعہ کس تاریخ کو پیش آیا۔ جس نیوز ایجنسی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی گئی اس کا نام جی این این درج ہے۔ میرے علم کے مطابق یہ کوئی نیوز ایجنسی نہیں ہے، وہ صرف ایک فرضی نام ہے۔ اور نہ اس قسم کی کوئی خبر مقامی پولیس کے دفتر میں درج ہے۔ ۳- خبر میں راقم الحروف کو متنازعہ شخصیت بتایا گیا ہے۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ متنازعہ مسلم شخصیت

وہ ہے جو اسلام کے مسلمہ اصولوں سے انحراف کرے ۔ میں خدا کے فضل سے مکمل طور پر اہلِ سنت والجماعت کے عقیدہ اور مسلک پر ہوں ۔ میں نے اس سے نہ کلی انحراف کیا ہے اور نہ جزئی انحراف ۔ میں مجھ کو متنازعہ شخصیت کہنا بلا شبہ ایک شر انگیز بات ہے ۔

یہ صحیح ہے کہ بعض لوگوں نے کسی معاملہ میں مجھ سے اختلاف کیا ہے ۔ مگر اس قسم کا اختلاف ایک فطری چیز ہے ۔ اسلامی تاریخ کی تمام بڑی بڑی شخصیتوں سے کسی نہ کسی نے بعض معاملات میں اختلاف کیا ہے ۔ مگر محض اس بنا پر یہ لوگ متنازعہ شخصیت نہیں بن جاتے ۔

موجودہ زمانہ میں مسٹر محمد علی جناح سے کانگریسی مسلمانوں اور جمیعیۃ علماء ہند سے وابستہ علماء نے اختلاف کیا۔ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد سے مسلم لیگی قائدین نے اختلاف کیا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ہند و پاک کے بہت سے علماء نے اختلاف کیا۔ مگر کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ اس اختلاف کی بنا پر مسٹر محمد علی جناح ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی متنازعہ شخصیت تھے ۔ ایسی حالت میں صرف بعض اختلاف کی بنا پر مجھ کو متنازعہ شخصیت کہنا غیر علمی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی ۔

۴- راقم الحروف کی کتاب " شتمِ رسول کا مسئلہ" کوئی حالیہ کتاب نہیں ۔ وہ بہت پہلے شائع ہو چکی ہے ۔ یہ کتاب نہ امام خمینی کے فتوے کی مذمت میں لکھی گئی ہے اور نہ سلمان رشدی کی حمایت و مدافعت میں ۔ وہ شتمِ رسول کے مسئلہ کا خالص علمی اور تاریخی تجزیہ ہے ۔ مزید یہ کہ اس کتاب میں مسئلہ کے بارے میں جو نقطۂ نظر بیان کیا گیا ہے وہ مصنف کا محض انفرادی نقطہ نظر نہیں ۔ دوسرے ایسے علماء بھی موجود ہیں جو ٹھیک اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں ۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف سعودی عرب کے مشہور عالم ہیں ۔ اس مسئلہ میں ان کی عین وہی رائے ہے جس کا اظہار راقم الحروف نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو ، شتمِ رسول کا مسئلہ ، صفحہ ۱۸۹ ۔

۵- مسلم صحافت ، خاص طور پر اردو صحافت میں اس قسم کی خبروں کی اشاعت کوئی انوکھی بات تقریباً ہر روز ان اخباروں میں اس قسم کے بے بنیاد قصے چھپتے رہتے ہیں ۔ مگر ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ، یہ بے حد سنگین بات ہے ۔

مشہور لبنانی مفکر خلیل جبران (۱۹۳۱ - ۱۸۸۳) نے کہا تھا کہ درخت کا ایک

پتہ بھی پورے درخت کی خاموش رضامندی کے بغیر زمین پر نہیں گرتا :

یہ بات عقل اور اسلام دونوں اعتبار سے بالکل درست ہے۔ اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کسی معاشرہ میں جب ایک شخص برائی کرے تو پورے معاشرہ کا فرض ہے کہ وہ برائی کرنے والے کا ہاتھ پکڑے ۔ اگر معاشرہ ایسا نہ کرے تو دونوں ہی اس برائی کے ذمہ دار ٹھہریں گے ، برائی کرنے والا براہِ راست طور پر اور معاشرہ بالواسطہ طور پر ۔

دہلی کے مسلم ہفت روزہ الجمعیۃ کا شمارہ ۲۴-۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء کو دیکھیے۔ اس کے صفحہ اول پر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج ہے : سنگھ آر ایس ایس) کی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش ۔ یہی حال دنیا بھر کے تمام مسلم اخبارات و رسائل کا ہے۔ ان اخبارات میں ہر روز اسی طرح غیر مسلموں کی زیادتیوں اور سازشوں کی مذمت درج ہوگی مگر مسلمانوں کی زیادتیوں کی مذمت کبھی کسی اخبار میں نہیں چھپتی ۔ موجودہ زمانہ میں مسلم معاشرہ کا حال یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر جھوٹا الزام لگاتا ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی کردار کشی کرتا ہے ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو پر حملہ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ بہت بڑے پیمانہ پر ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگ ان واقعات کی مذمت نہیں کرتے ، نہ قلمی اور نہ زبانی ۔ ایک دوسرے کی غیبت کی آوازوں سے تو مسلمانوں کی مجلسیں بھری ہوئی ہیں۔ مگر غلط کاروں کی کھلی مذمت کے لیے نہ کسی کے پاس زبان ہے اور نہ قلم ۔

یہی وہ کمی ہے جس نے موجودہ صورت حال پیدا کی ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو، اگر اس کے افراد میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی روح موجود ہو ، اگر ملت کے افراد میں یہ تڑپ ہو کہ وہ برائی کو دیکھ کر چپ نہ رہ سکیں تو ساری صورت حال یکسر بدل جائے گی ۔ اس کے بعد کسی کو مذکورہ قسم کی جھوٹی خبر وضع کرنے کی ہمت ہی نہ ہوگی ۔ کوئی مسلمان اس کی جرات نہیں کرے گا کہ وہ دوسرے مسلمان کو بدنام کرنے کی کوشش کرے ۔

موجودہ مسلم معاشرہ میں کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ کعبہ کے بارہ میں توہین آمیز الفاظ بولے۔

یا کعبہ کی توہین میں کوئی بیان اخبار میں چھپوائے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ کے بارہ میں مسلم معاشرہ انتہائی حد تک حساس ہے۔ کوئی شخص کعبہ کے خلاف بے ہودہ بات کہے تو فوراً سیکڑوں آدمی اس کے مواخذہ کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ معاشرہ کا یہ خوف لوگوں کو کعبہ کے خلاف لکھنے اور بولنے میں طاقت ور رکاوٹ بن گیا ہے۔ مگر جہاں تک مسلم افراد کا تعلق ہے، کوئی بھی مسلمان کسی بھی مسلمان کے خلاف لغو باتیں کرنے لگتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کعبہ کی حرمت کے بارہ میں جو حساسیت مسلم معاشرہ میں پائی جاتی ہے، وہی حساسیت مسلمان کے بارہ میں موجود نہیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے (حرمة المومن حرمة من الكعبة) ایک صحابی کے بارے میں روایت ہے کہ انھوں نے کعبہ کو دیکھ کر کہا کہ تیری حرمت بہت زیادہ ہے مگر مومن کی حرمت تجھ سے بھی زیادہ ہے (المومن اعظم حرمة عند الله منك) الترمذی کتاب البر، ابن ماجه کتاب الفتن، الدارمی كتاب المناسك - - مذکورہ جھوٹی خبر میں راقم الحروف کی کتاب "شتم رسول کا مسئلہ“ کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ وہ سلمان رشدی کے دفاع میں لکھی گئی ہے۔ یہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم دانشوروں کی اس مجرمانہ کمزوری کی ایک مثال ہے جو عام طور سے اس طبقہ میں پائی جاتی ہے ۔ وہ ہے کسی کی تصویر بگاڑنے کے لیے اس کی بات کو منحرف صورت میں پیش کرنا ۔ راقم الحروف کی کتاب سلمان رشدی کے دفاع سے قطعا کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ مسئلہ شتم کا علمی جائزہ ہے۔ مگر اس کو غلط طور پر رشدی کے دفاع کا نام دے دیا گیا ہے تاکہ مصنف کو بدنام کیا جا سکے ۔ کوئی بھی شخص اصل کتاب کو پڑھ کر اس حقیقت کو جان سکتا ہے۔ یہاں اس معاملہ کی وضاحت کے لیے کتاب کے کچھ متعلق حصے نقل کیے جاتے ہیں :

”سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) میں نے خود پڑھی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایک انتہائی لغو کتاب ہے۔ اس کتاب کی لغویت کے بارہ میں میری وہی رائے ہے جو دوسروں کی رائے ہے (صفحہ ۵۰) ۔ مسلم رہنما اگر اس معاملہ کی تحقیق کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ سلمان رشدی کی کتاب اگرچہ نہایت بے ہودہ ہے، مگر اسی کے ساتھ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ ناقابل مطالعہ

وہ کوئی تخلیقی ناول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فنی اعتبار سے وہ اتنی پست اور اتنی غیر دلچسپ ہے کہ وہ سرے سے اس لائق ہی نہیں کہ کوئی شخص اس کو شروع سے آخر تک پڑھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی موت آپ مر جاتی۔ اس میں کسی قسم کی کوئی زندگی نہیں۔ یہ صرف مسلمانوں کا احمقانہ شور و غل ہے جس نے اس کو غیر ضروری طور پر زندہ کر دیا۔ (صفحہ ۷۰) واقعہ یہ ہے کہ سب وشتم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام اور پیغمبر اسلام پر ایک اعتراض ہے۔ اور جو شخص اسلام اور پیغمبر اسلام پر اعتراض کرے اس کی زیادہ بڑی سزا یہ ہے کہ اس کی بات کو دلیل کے ذریعہ رد کر دیا جائے۔ گولی مارنا اگر اس کا جسمانی قتل ہے تو اس کے اعتراض کو رد کرنا اس کا ذہنی قتل ۔ اور جسمانی قتل کے مقابلہ میں ذہنی قتل بلاشبہ زیادہ سخت ہے اور زیادہ کارگر بھی (صفحہ ۷۸) حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب فتویٰ دینے والوں کی غیر عاقلانہ روش کا تجزیہ ہے، وہ کسی بھی درجہ میں سلمان رشدی کی مدافعت یا حمایت نہیں۔

راقم الحروف کی کتاب "شتم رسول کا مسئلہ"، ‘‘۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا ذیلی ٹائٹل ان الفاظ میں دیا گیا ہے ـــ قرآن و حدیث اور فقہ و تاریخ کی روشنی میں ۔ راقم الحروف نے یہ کتاب لمبی تحقیق کے بعد مرتب کی ہے ۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ان الفاظ میں اس پر تبصرہ کیا کہ یہ کتاب سلمان رشدی (یا اس کے جیسے دوسرے افراد) کا گویا علمی انھوں نے مزید کہا کہ اس کتاب کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وقت کے مسلم ہتھیا ر کو اسلام دشمنوں کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے ۔ آج کا ذہن تشدد کے بجائے سائنٹفک دلیل کو وزن دیتا ہے اور آپ نے اسی وزن دار ہتھیار کو اسلام دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اگر کھلے ذہن کے تحت اس کتاب کو پڑھے تو وہ اس تبصرہ سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوگا۔ وہ کہے گا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ اسلام دشمنوں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس دلائل کا بم موجود ہے مگر ہم مناظروں اور فتوؤں کی کنکریاں ان کی طرف پھینک رہے ہیں۔

مذکورہ قسم کی ایک خبر کا چھپنا اور شائع ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کو پہلے ایک یا چند انسانوں نے سوچا اور لکھا۔ پھر وہ اخبار کے دفتر میں نیوز ایڈیٹر کے میز پر پہنچی۔ اس کے بعد کسی نے اس کی کتابت کی یا اس کو ٹائپ کیا۔ پھر کسے مصحح نے اس کو پڑھا اور پھر کسی سیٹ کرنے والے نے اس کو سٹ کیا۔ اس طرح یہ خبر بہت سی آنکھوں کے سامنے سے گزری جن میں سے ہر ایک بلا شبہ مسلمان تھا۔ ان تمام لوگوں میں سے کسی ایک شخص کو بھی اگر اس خبر کے بارے میں کھٹک پیدا ہوتی تو وہ اس کو روک دیتا یا رقم الحروف کے دفتر میں ٹیلی فون کر کے تحقیق کرتا۔ مگر اس خبر کا چھپ کر شائع ہو جانا بتاتا ہے کہ ان بہت سے مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی اس کے بارے میں کھٹک پیدا نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ خبر آخری انجام تک پہنچ گئی۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلم معاشرہ کی اخلاقی حساسیت کا عالم کیا ہے۔ اس معاشرہ میں وہ مزاج غالب ہے جس کو قرآن میں اشاعت فاحشہ (النور۱۹) کا مزاج کہا گیا ہے۔ ایسے معاشرہ پر سوء ظن کا مزاج اتنا زیادہ غالب ہو جاتا ہے کہ حسن ظن کے بارہ میں وہ اپنی حساسیت کھو دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حسن ظن اور سوء ظن کے درمیان زیادہ فرق نہیں کرتے۔ وہ جھوٹی خبر کو بھی اسی طرح بیان کرنے لگتے ہیں جس طرح سچی خبر کو۔ وہ الزام تراشی اور بیان واقع کو یکساں درجہ دیتے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک جائز ہے اور دوسرا نا جائز۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی کے بارہ میں کوئی بری بات سنتے ہیں تو بلا تحقیق اس کو درست مان لیتے ہیں اور اس کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط بات کی اشاعت بھی اسی طرح کرنے لگتے ہیں جس طرح صحیح بات کی اشاعت کی جانی تنقید کے وقت وہ الزام تراشی کی زبان بھی اسی طرح اطمینان کے ساتھ بولتے ہیں جیسے کہ دلیل اور ثبوت کی زبان بولی جاتی ہے۔

موجودہ مسلم معاشرہ بدقسمتی سے سوء ظن کا معاشرہ بن گیا ہے۔ اس لئے اب اس کا حال یہ ہے کہ سوء ظن کی بات فوراً اُس کے درمیان قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس حسن ظن کی بات کو قبول کرنا اس کے لئے سخت دشوار ہوتا ہے۔

Printed page