Al-Risala · July 1998

سفر نامہ امریکہ

Al-Risala, July 1998, pp. 31–34

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ میں پچھلے ۲۵ سال کے درمیان تقریباً ایک ہزار اسلامک سنٹر بنائے گئے انھیں میں سے ایک مذکورہ سنٹر ہے جو ماؤنٹ ہالی (Mount Holly) میں واقع ہے۔ اس کے صدر مولانا ذکی الدین الشرفی ہیں (609-2659370 .Tel) اس سنٹر کی دعوت پر امریکہ کا سفر ہوا۔ اس سلسلہ میں وہاں کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔

۲۰ اگست ۱۹۹۶ء کی رات کو ۱۰ بجے دہلی سے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک جگہ ریڈ لائٹ پر ہماری گاڑی رکی ۔ اتنے میں ایک اور گاڑی آکر وہاں کھڑی ہوگئی۔ اندر تیز آواز میں گانے اور باجے کا کیسٹ بج رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ لوگ خارجی چیزوں میں اتنا محو ہیں کہ انھیں اندرونی حقیقتوں کے بارہ میں سوچنے کا موقع نہیں۔ لوگ پر شور آوازوں کے درمیان جیتے ہیں، پھر کیوں کر انھیں فطرت کی خاموش آوازیں سنائی دیں گی۔ لوگ مخلوق کے کثیف نغموں میں بدمست ہو رہے ہیں، پھر وہ خالق کے لطیف نغموں کا ادراک کس طرح کر سکتے ہیں ۔

برٹش ایرویز کی فلائٹ سے ہم اسکے ذریعہ دہلی سے لندن کے لیے روانگی ہوئی۔ میں نواب ظفر جنگ صاحب نے کہا تھا کہ "آپ ایک آتھر ہیں۔ آپ اپنی کوئی انگریزی کتاب ساتھ لے جائیے اور اس کو فلائٹ کیپٹن کو بطور گفٹ دیجئے ۔ ان لوگوں کی نفسیات کے اعتبار سے میں کہتا ہوں کہ وہ اس کو اپنے لیے آنر سمجھیں گے اور خوش ہو کر اس کو پڑھیں گے۔ اس مشورہ کے مطابق، میں ایک پیکٹ میں ایک انگریزی کتاب اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ دوران پرواز اس کو فلائٹ کیپٹن کو دیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ اس کا نام کیپٹن ٹونی (Tony Gepaian) تھا۔ اس نے کہا کہ پرواز کے دوران تو میں مصروف رہوں گا ۔ لیے ابھی فوراً نہیں پڑھ سکتا۔ مگر ٹھکانے پر پہنچ کر میں ضرور اس کو پڑھوں گا۔ ساڑھے آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز لندن میں اترا۔ اس وقت ۲۱ اگست

کی تاریخ تھی اور لوکل ٹائم کے لحاظ سے صبح ۵ بجے کا وقت تھا۔ ایر پورٹ پر فجر کی نماز ادا کی ۔ ضروریات کے لیے میں معذوروں کے ٹائلٹ میں چلا گیا ۔ وہ نہایت کشادہ اور نہایت مکمل اور نہایت صاف ستھرا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی اسلامی تصورحیات کاایک اظہار قرآن میں ہے کہ وفی اموالهم حق معلوم للسائل والمحروم (الذاریات 19) اس آیت میں "معلوم" کا ایک مطلب ہے شریعت کے ذریعہ معلوم حق۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دینے والا محروم کی ضرور توں کو جان کر خود یہ طے کرے کہ کس چیز کی اسے ضرورت ہے۔ وہ اس کی ضرورتوں کو بطور خود جان کر اس کے مطابق اس کا اہتمام و انتظام کریں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں معذوروں کے لیے جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس کی ایک کامیاب

لندن ایر پورٹ کی ایک ایک چیز دہلی کے انٹرنیشنل ایر پورٹ سے بہت زیادہ بہتر دکھائی دی ۔ اس فرق کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہندوستان میں جن لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آیا وہ پیسہ پرستی کا مزاج رکھتے تھے ۔ وہ پیسہ کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے ملے ہوئے اقتدار کو پیسہ لوٹنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے برعکس مغربی ملکوں میں معیار پرستی کا مزاج تھا۔ اس لیے یہاں کے حکمرانوں نے اپنے قومی معیار کو بلند کیا۔ لندن سے نیویارک کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ ، اا کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ وقت جہاز تیزی کے ساتھ پرواز کر رہا تھا، میرے دل میں آیا کہ وہ لمحہ بہ لمحہ دہلی سے دور نیویارک سے قریب ہو رہا ہے۔ یہی حال خود انسان کا ہے۔ انسانی زندگی ایک مسلسل سفر اور ہر انسان لمحہ بہ لمحہ دنیا سے دور اور آخرت سے قریب ہوتا جا رہا ہے ۔ سفر کے دوران جہاز میں مسافروں کی تفریح کے لیے فلمیں دکھائی جارہی تھیں۔ لوگ ہیڈ ایڈ لگائے ہوئے اس کو دیکھ رہے تھے۔ کبھی کبھی میری نظر بھی پڑ جاتی تھی۔ بار قدرتی مناظر دکھائے گئے۔ یہ نہایت خوب صورت تھے، میں ان کو دیکھتا رہا۔ سوچا کہ فطرت کے حسن کی صورت میں خدا نے اس دنیا میں جنت کا تعارف رکھ دیا ہے۔ البتہ دو چیزوں کا تجربہ انسان کو صرف آخرت میں ہوگا۔ وہ ہے ایک ایسی زندگی جس

میں حال کی تکلیف اور مستقبل کا اندیشہ شامل نہ ہو (لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون) یہ باتیں سوچتے ہوئے جنت کے بارہ میں ایک عجیب خیال ذہن میں آیا۔ نے سوچا کہ جنت ایک نفیس ترین کائناتی معاشرہ ہے۔ خدا اور فرشتوں، پیغمبروں اور صالحین کا معاشرہ۔ جنتی انسان اس آفاقی معاشرہ میں رہے گا۔ وہاں نہ حال کا کوئی غم ہوگا اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی خوف ۔

لندن سے نیویارک کی پرواز ساڑھے چھ گھنٹہ کی تھی۔ وقت پر جہاز پہنچ گیا۔ ایرپورٹ کے مراحل سے گزرنے میں دیر لگی ۔ کیوں کہ امریکی جہاز (TWA) کے حادثہ کے بعد چیکنگ زیادہ سخت ہوگئی ہے ۔ عام ایرپورٹس پر ٹرالی مفت ہوتی ہے۔ مگر امریکہ میں ٹرالی لینے کے لیے ڈیڑھ ڈالر ادا کرنا پڑتا ہے ۔ میرے پاس ۵۰ پنس کا سکہ نہیں تھا۔ میں ایک ڈالر کا نوٹ ڈالا تو اس میں سے فوراً سکہ نکل آیا۔ کتابوں کے دو بنڈل کے لیے مجھے ٹرالی لیناپڑا۔ یہ یہ کتابیں جناب خواجہ کلیم الدین کی فرمائش پر ساتھ لایا تھا۔ ایرپورٹ سے باہر آیا تو خواجہ کلیم الدین صاحب ، شاہد تاکلی والا صاحب اور خواجہ صاحب کے صاحبزادے وغیرہ موجود تھے۔ شاہد تاکلی والا یہاں ریسرچ کے ایک ادارہ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ سائنسی طریقہ سے لیمٹ کی جانچ (limit test) کریں۔ دواؤں میں مضر اجزاء مثلاً جست (lead) ڈالا جاتا ہے۔ مگر اس کی ایک حد ہے۔ ملین یا بلین میں ایک حصہ کے بقدر زیادہ ہو تب بھی مشینی جانچ میں اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ یہ انسانی طریقہ ہے جو کسی چیز میں ملاوٹ کی اتنی زیادہ کامیاب جانچ کر سکتا ہے۔ پھر خدا کے یہاں نیتوں کو جانچنے کے لیے جو نظام ہوگا وہ کتنی زیادہ گہرائی کے ساتھ نیتوں کے کھوٹ کو معلوم کر لے گا۔ اس بات کو سوچ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے شاہد تاکلی والا صاحب نے بتایا کہ پہلے ملین میں ایک (PPM) کی جانچ ممکن ہوتی اب ٹریلین میں ایک حصہ (PPT) کی جانچ ممکن ہوگئی ہے۔

شاہد تاکلی والا سے میں نے پوچھا کہ امریکہ کی ترقی کا پلس پوائنٹ اور مائنس پوائنٹ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کا پلس پوائنٹ تو یہ ہے کہ وہ تنقید کو نہ صرف یہ کہ

برا نہیں مانتے، بلکہ اس کو ویلکم کرتے ہیں۔ اس طرح ان لوگوں کا فکری ارتقاء مسلسل جاری اور ان کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ان کا کہنا ہے کہ زندگی تو بس ایک کھیل تماشاہے :

Printed page