دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
Al-Risala, January 1998, pp. 37–45
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے پوچھا کہ یہاں رواج ہے کہ جب کسی غیر مسلم کا جنازہ گزرتا ہے تو مسلمان اس کو دیکھ کر کہتے ہیں : فی النار والسقر۔ اس کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا کہ ایسا کہنا سخت گناہ ہے۔ کیوں کہ یہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔ آخرت کا انجام تمام تر خدا کے اختیار میں ہے، اور خدا نے ہمیں یہ منصب نہیں دیا ہے کہ ہم یہاں اس کے فیصلہ کا اعلان کریں۔
پھر میں نے کہا کہ تمام باتوں کو جانچنے کے لیے صرف ایک ہی صحیح کسوٹی ہے۔ اور وہ رسول اور اصحاب رسول کی کسوٹی ہے۔ جب بھی کسی بات کا شرعی حکم معلوم کرنا ہو تو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ کو دیکھئے۔ اگر وہاں اس کی مثال موجود ہے تو وہ درست ہے، ورنہ وہ سراسر گمراہی ہے۔
۱۹۸۰ء کے تلخ تجربہ نے مراد آباد کے مسلمانوں کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب وہ بھڑکنے والی باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھ گئے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۴ مارچ ۱۹۹۶ء کو ہولی کا دن تھا۔ ہند و حسب معمول رنگ کی ہولی کھیل رہے تھے۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بھیانک فساد بننے کے لیے کافی تھا۔ مگر نظر انداز کرنے کی پالیسی نے اس کو پہلے ہی مرحلہ میں ڈیفیوز کردیا۔ برتن بازار (مراد آباد) میں عطری کی ایک دکان ہے جس کا نام نشاط پرفیومری ہے۔ میں قائم ہوئی۔ اس کے موجودہ مالک جناب منصور احمد صاحب ہیں۔ ۱۰ مارچ کو میں نے خود جاکر یہ دکان دیکھی۔ ہولی کے دن ایسا ہوا کہ رنگ سے بھری ہوئی ایک پوری بالٹی ایک ہندو نوجوان نے پھینکی جس سے دکان کا فرش اور تمام چیزیں رنگین ہو گئیں۔ دکان پر بیٹھا ہوا نوجوان
کارکن محمود (۲۰ سال) بھی پوری طرح بھیگ گیا۔
مالک مکان اس وقت دکان پر موجود نہیں تھے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آئے تو وہ غصہ نہیں بلکہ تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ مذکورہ ہندو کا مقصد مسلم دکان میں رنگ پھینکنا نہیں تھا۔ کے ایک اور شخص کے اوپر پھینک رہا تھا۔ وہ شخص بیٹھ گیا۔ اس طرح پوری بالٹی کا رنگ مسلم دکان میں آگیا جو قریب ہی بالکل سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ مسلم دکان دار نے فوراً اپنی دکان بند کردی اور اس کے بعد رنگ کی صفائی کرا دی۔
میں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فساد کو روکنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں جو اس معاملے میں مفید ہو سکتی ہو۔
مراد آباد کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں میں اب بہت بدلاؤ آیا ہے۔ یہ تھا کہ کوئی جھگڑے کی بات ہوتی تو دونوں کمیونٹی کے لوگ خود ہی ایک دوسرے سے الجھ جاتے اس سے فساد ہوتا تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ کوئی جھگڑے کی بات ہوتی ہے تو دونوں طرف کے لوگ فوراً پولیس کو خبر کرتے ہیں۔ پولیس والے موقع پر پہنچتے ہیں تو ہر کمیونٹی خود یہ بتاتی ہے کہ دیکھو فلاں آدمی گڑ بڑ کر رہا ہے، اس کو پکڑ لو۔ اس طرح پولیس کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو پکڑ کر تنبیہ کر دی جاتی ہے، بات وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہے فساد تک پہنچنے کی نوبت
امر اجالا اس علاقہ کا سب سے بڑا ہندی روز نامہ ہے۔ ۱۰ مارچ کو اس کے ایک نوجوان نمائندہ انٹرویو کے لیے آئے ۔ میں نے نام پوچھا تو انھوں نے اپنا نام وجے عالم بتایا۔ سے ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہندو ہیں یا مسلمان۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ اس طرح کا نام انھوں نے جان بو جھ کر رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک حلقہ ہے جس کا کہنا ہے کہ دیش میں ساری گڑ بڑ ہندو ناموں اور مسلم ناموں کی وجہ سے ہے۔ اگر نام ایسے رکھے جائیں جس میں آدمی کی مذہبی شناخت چھپ جائے تو سماجی جھگڑے بھی ختم ہو جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سے ہندو ہیں جنھوں نے اپنا نام اس طرح رکھا ہے۔ یہ انٹرویو ۱۱ مارچ کے اخبار میں شائع ہوا۔ اس کو یہاں اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔
इस्लामिक सेंटर के राष्ट्रीय अध्यक्ष मौलाना वहीद उद्दीन खान से बातचीत दंगों के लिए अवसरवादी नेता जिम्मेदार अमर उजाला ब्यूरो मुरादाबाद, ९० मार्च। इस्लामिक सेन्टर के राष्ट्रीय अध्यक्ष मौलाना वहीद उद्दीन खान ने कहा है कि समप्रदायक दंगों से आर्थिक व जन हानि होने के साथ सामाजिक ढांचा भी टूटता है, दंगों की इस प्रवृत्ति को बढ़ावा देने के लिए उन्होंने अवसरवादी नेताओं का उत्तरदायी ठहराया है। श्री खान ने कहा कि नकारात्मक सोच को खत्म करके सकारात्मक सोच की दिशा में समाज के बहाव को चलाने की आवश्यकता है। साम्प्रदायिकता की समस्या से निपटने के लिए आरोप लगाने की राजनीति को त्यागकर समस्या के समाधान खोजने की तरफ अग्रसर होना होगा। मीडिया की भूमिका की चर्चा करते हुए उन्होंने कहा कि अधिकांश समाचार पत्र माम्प्रदायिक सद्भाव के लिए कार्य करने वाली संस्थाओं के कार्यों को उतना महत्व नहीं देते जितना कि दिया जाना चाहिए। यहां लाजपत नगर में इस्लामिक सेन्टर के कार्यकर्ता अब्दुल रहमान के निवास पर एक विशेष बातचीत में मौलाना खान ने बताया कि वह पिछले तीस वर्षों से मुस्लिम समाज के बीच सही सोच के प्रचार प्रसार में जुटे हैं। इसके लिए वह तीन भाषाओं हिन्दी, उर्दू व अंग्रेजी में मासिक पत्र अलरिसाला का प्रकाशन कर रहे हैं, जिसमें समाज के ज्वलन्त मुददों पर अपनी सोच रखते हुए विभाजनकारी ताकतों का पर्दाफाश करते रहे हैं। उन्होंने बताया कि इस्लामिक सेन्टर का उद्देश्य नकारात्मक सोच को खत्म करके सकारात्मक विचार को स्थापित करना है। उनके अनुसार जुलूस निकालने व बड़ी-बड़ी सभाएं करने में इस्लामिक सेन्टर का विश्वास नहीं है, क्योंकि इन तरीकों से धूम-धड़ाका तो किया जा- सकता है, लेकिन लोगों की सोच को नहीं बदला जा सकता। उन्होंने दूसरे सम्प्रदाय के लोगों का अहंकार जगाने को दंगों का मुख्य कारण बताया। उन्होंने ६ दिसम्बर ९२ को अयोध्या में बाबरी मस्जिद को ढहाने की घटना को १९४७ के बाद दूसरी सबसे बड़ी घटना बताते हुए कहा कि इस घटना पर इस्लामिक सन्तर ने उस समय जो सोच रखी थी, उसे आज देश में अमल किया गया है। इस सोच में कहा गया था कि मुसलमान एक मस्जिद को भुला दें और हिन्दू एक के बाद दूसरी मस्जिदों को भुला दें, तभी देश का भला संभव है। मौलाना वहीद उद्दीन खान ने कहा कि बाबरी मस्जिद को 'मिस्टर हिन्दू' ने नहीं, बल्कि 'मिस्टर इगो' ने तोड़ा और मिस्टर हिन्दू को मिस्टर इगो बनाने वाले मुसलमानो के निकम्मे लीडर थे। उन्होंने कहा कि मुस्लिम नेताओं की स्वार्थ परक नीति से शिक्षा के प्रसार को गति नहीं मिल सकी है। अपने संगठन इस्लामिक सेन्टर के ढांचे के बारे में चर्चा करते हुए उन्होंने बताया कि वह महात्मा गांधी की लोक सेवक संघ की अवधारणा के आधार पर लोचदार सांगठनिक ढांचे में विश्वास रखते हैं। इसलिए संगठन की गतिविधियां बड़े-बड़े आयोजनों के बजाय नुक्कड़ सभाओं व सम्पर्क गोष्ठियों के जरिए देश व देश के बाहर चलाई जाती हैं। देश और धर्म के बीच अन्तर करते हुए उन्होंने कहा कि धर्म के लिए उदारता व सहिष्णुता की नीति अपनायी जानी चाहिए, लेकिन देशहित के साथ कोई समझौता नहीं किया जा सकता। देशहित सभी धर्मों व सम्प्रदायों से ऊपर है। 'अल-रिसाला' के मुख्य पम्पादक एवं इस्लामिक सेन्टर के राष्ट्रीय अध्यक्ष ने विचार व्यक्त किये कि देश में आजादी
انٹرویو کے بعد غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ۹۲ - ۱۹۹۳ میں کمیونل فیلنگ کا زور تھا، اب کاسٹ ازم کا زور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوؤں میں کاسٹ ازم جتنا بڑھا ہے اس نسبت سے ان میں کمیونل فیلنگ گھٹ گئی ہے۔
یہاں کے دوران قیام میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ہندی اخبار امر اجالا (۹ مارچ ۱۹۹۶) کے درمیانی صفحہ پر مسٹر سریندر موہن کا مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا : بھرشٹا چار کو چناؤ مدا بنانا ہی چاہیے۔
اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ملک میں بھرشٹا چار کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مگر بھر شٹا چار بذات خود کوئی انتخابی اشو نہیں ۔ یہ تو صرف حکمرانوں کے خلاف چیخ پکار ہے۔ چناؤ مدا صرف کوئی مثبت پروگرام ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ پروگرام جس میں یہ یقین کیا جا سکے کہ بھر شٹا چار کو ختم کرنے کا اس میں حل موجود ہے۔ بھر شٹا چار کو چناؤ مدا بنانا بھر شٹا چار کا ایکسپلانئشن ہے۔ آج اصل مسئلہ متبادل سیاسی نظام کا ہے نہ کہ موجودہ نظام کے خلاف چیخ پکار کر کے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کرنا۔
۱۰ مارچ کی شام کو طویل اسٹریٹ گیا اور وہاں کی مسجد میں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔ جناب اقبال احمد صاحب (23029 .Tel) کے مکان پر اجتماع ہوا۔ مغرب اور عشاء کے درمیان یہاں ایک تقریر ہوئی۔ عشاء کے بعد دوبارہ نشست ہوئی۔ یہ نشست سوال و جواب کے پروگرام مجموعی طور پر کئی گھنٹے تک جاری رہا۔
۱۱ مارچ ۱۹۹۶ کی صبح کو مراد آباد سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ راستہ میں مختلف سبق آموز مناظر دکھائی دیے۔ مثلاً ایک جگہ ٹرک الٹا ہوا پڑا تھا۔ آج کل شہر کے باہر جس سڑک پر نکلئے جگہ جگہ ٹرک الٹے ہوئے یا ٹکراکر ٹوٹے ہوئے دکھائی دیں گے۔ میں نے کئی ٹرک والوں سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ مگر کوئی ایک وجہ سامنے نہ آ سکی۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ میں آزادی نے ہر آدمی کو غیر محتاط بنا دیا ہے ۔ غالباً یہ غیر محتاط انداز میں گاڑی کو دوڑانے کا نتیجہ ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ خدا کے وجود کو ماننے کے لیے عقلی دلیل کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ
آپ راستہ چلتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک شاندار بلڈنگ دیکھتے ہیں جو فرنیچر اور دوسری تمام ضروریات کے ساتھ آراستہ ہے۔ اس بلڈنگ کے بارہ میں آپ کبھی یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ اس کو آرکیٹیکٹ نے تیار کرایا ہے۔ یہاں آپ کے لیے انتخاب بلڈنگ مع انجینئر اور بلڈنگ بغیر انجینئر میں نہیں ہے بلکہ اصل انتخاب بلڈنگ مع انجینئر اور غیر موجود بلڈنگ میں ہے۔ چونکہ آپ غیر موجود بلڈنگ کا چوائس نہیں لے سکتے، اس لیے آپ مجبور ہیں کہ بلڈنگ مع انجینئر کا چوائس لیں۔ ٹھیک یہی معاملہ خدا کا ہے۔ بلڈنگ ہی کی مانند آپ اپنے کو اور ایک عظیم کائنات کو دیکھ رہے ہیں۔
The choice is not between universe with God and universe without God. The real choice is between universe with God or no universe چونکہ آپ کائنات کا انکار نہیں کر سکتے، اس لیے آپ مجبور ہیں کہ خدا کو مانیں۔ جس طرح آپ بلڈنگ کا انکار نہ کرنے کی وجہ سے اس کے انجینئر کو ماننے پر مجبور ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میرے پاس الرسالہ کیسٹ کاسیٹ ہے۔ میں ان کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں۔ لوگ سن کر پسند کرتے ہیں اور اتفاق کرتے ہیں۔ مگر ان میں حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر بے حسی آتی جا رہی ہے۔ آخر جس چیز سے وہ اتفاق کرتے ہیں اس پر عمل کیوں نہیں کرتے۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتراف سب سے اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ انسانیت کی بلندی یہ ہے کہ جس نقطہ نظر کو آدمی صحیح سمجھے اس کو عملی طور پر اپنی زندگی میں اختیار کرلے۔ کسی انسان کے زندہ یا مردہ ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے۔
امر اجالا (۱۱ مارچ 1996) میں ایک مضمون کھیل کے بارے میں تھا۔ اس کا عنوان تھا: صحیح اسٹریٹجی ہی جتائے گی ۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ صرف کھیل کے میدان کی بات نہیں ہے۔ زندگی کے ہر معاملہ میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ صحیح تدبیر ہے۔ غلط تدبیر اس دنیا میں ہمیشہ ناکام ہوتی ہے اور صحیح تدبیر ہمیشہ کامیاب۔
مراد آباد سے شمسی برادری (پنجابی برادری) کا ایک ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام شمسی آواز
اس کے شمارہ مارچ 1996 میں ایک مضمون (سفر نامہ مراد آباد) تھا۔ مضمون نگار نے بتایا تھا کہ مراد آباد میں شمسی برادری کے بہت سے ادارے ہیں۔ مگر کسی میں بھی عہدوں کا جھگڑا نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات ہے کہ یہاں جو فلاحی یار فاہی ادارے ہیں، ان میں سے کسی میں بھی عہدوں کی لڑائی نہیں۔ یہاں ایک مثالی مسافر خانہ ہے۔ مگر مسافر خانے کے سو سال پورے ہونے تک صرف تین ناظم رہے۔ اسی طرح مدرسہ امدادیہ میں نصف صدی تک ایک ہی مہتمم رہے۔ شمسی آواز نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہاں کبھی عہدوں کی لڑائی نہیں ہوئی۔ چھوٹی برادریوں میں اکثر اس قسم کی صفات پائی جاتی ہیں۔ مگر وسیع تر امت میں یہ ماحول اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ برادریاں اپنی روایات پر چل رہی ہیں۔ ان کی روایات ٹوٹنے کی نوبت نہیں آتی۔ مگر امت میں نام نہاد لیڈروں نے جھوٹی آنچل کو دھچا کر تمام روایات روایت شکنی ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ وہ عقل کے خلاف بھی ہے اور اسلام کے جیسا کہ معلوم ہے ۔ نام نہاد انقلابی تحریکیں سب کی سب ملت کی سطح پر اٹھیں، اس قسم کی کوئی بھی تحریک برادریوں کی سطح پر نہیں اٹھی۔ یہی وجہ ہے کہ ملت میں روایتیں ٹوٹ گئیں، جب کہ برادریوں کی روایتیں نہیں ٹوٹیں۔
ڈاکٹر ظہور الحسن شارب مراد آباد میں ۹جنوری ۱۹۱۴کو پیدا ہوئے۔ حال میں ان کا انتقال وہ اپنی قسم کے انوکھے آدمی تھے ۔ 1947 سے پہلے وہ مراد آباد میں وکالت کرتے تھے۔ دفتر میں انھوں نے ایک ساتھ دو تصویریں لگا رکھی تھیں۔ ایک جواہر لال نہرو کی، اور دوسری محمد علی جناح کی۔
اس زمانہ میں دونوں لیڈروں میں زبردست اختلاف تھا۔ دونوں بالکل دو انتہا پر نظر پھر انھوں نے اپنے دفتر کو بیک وقت دونوں کی تصویروں سے کیوں سجایا۔ بعض جاننے والوں کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ غالباً یہ تھا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر با کمال ہیں۔ کمال کی صفت خواہ کسی میں بھی ہو وہ بہر حال قابل اعتراف ہوتی ہے۔
مراد آباد میں ایک صاحب ہیں جو حافظ قرآن ہیں اور ایک کالج کے پرنسپل بھی ہیں۔ وہ گرم مزاج ہیں، وہ اپنی گرم مزاجی کا سبب اللہ کے کلام کو سینے میں محفوظ رکھنا بتاتے ہیں۔
اپنی رائے ہے کہ اللہ کے کلام سے گرم مزاجی اور بد مزاجی نہیں آسکتی۔ اس کو تو رحمت و عافیت کا سبب بننا چاہيے۔ صحیح پوزیشن سے آگاہ کرنے کی زحمت کریں۔
میرے ایک دوست کو آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ آج کے مسلمانوں کو سمجھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی زندگی کی مثالیں دیتے ہیں۔ مگر آج کے انسان اور ان انسانوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ تو پھر کس طرح آج کا انسان وہ سب کیسے کر سکتا ہے۔ اس بارے میں یہ تھی کہ بے شک آج کے انسان اور مسلمانوں کی ڈگری صحابہ کی ڈگری سے کم ہے۔ مگر اللہ کا پیغام جو حضور لے کر آئے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے قابلِ عمل ہے، اس لیے صحابہ کی مثال مناسب اور ضروری ہے۔ علمی وضاحت فرمائیے۔
مولوی حضرات اور مدرسہ سے وابستہ حضرات کھانے میں بہت زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں، یہ بات عام طور سے کہی بھی جاتی ہے اور عموماً مشاہدہ میں بھی آتی ہے۔ کیا حضور کی زندگی میں کوئی ایسا بھی پہلو ہے جس میں خوب سے خوب تر کھانے اور بہت کھانے کی طرف اشارہ ہو۔ مذہب کے ساتھ ساتھ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ بھی آپ کا بہت وسیع ہے۔ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی شاہ جہاں نے تاج محل بنانے والے کاریگروں کے ہاتھ کٹوا دیے تھے۔ یقین نہیں ہوتا کیوں کہ یہ لوگ مذہبی لوگ تھے۔
ہندوستان میں عام طریقہ سے businessmen دولیجر کا استعمال کرتے ہیں۔ ہے، دوسرا نمبر 2۔ مسلمان بھی اس کام میں پیچھے نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام اسلامی رو سے ٹھیک نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ہندوستانی Tax System اور مسلمانوں کی ذمہ داری کی وضاحت اسلامی نقطہ نظر سے کیجیے۔
میرے ایک ہندو دوست کا سوال ہے کہ اگر کسی مسلمان کا بیٹا اسلام پر یقین نہیں رکھتا ہے تو کیا اس کو گھر اور جائیداد سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ اُن کا ماننا ہے کہ کُفر مسلمان ایسا ہی کرتے میرا کہنا یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اس کی گنجائش نہیں کہ کسی کو اس کے واجبی حق سے محروم کر دیا جائے۔ برائے مہربانی مسئلہ کو واضح کیجیے۔
گوشت کے ” حلال اور جھٹکا“ کی اسلامی وضاحت کیجیے۔
کوئی حکمت اور نصیحت کی بات بتائیے کہ کس طرح ان لوگوں سے تال میل بنا کر رکھا جائے جن کا intellectual level واقعی کم ہے اور دفتر میں وہ باس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بینک میں میں بہت محنت اور لگن سے کام کرتا ہوں۔ مگر اندر سے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجھے بینک میں دل چسپی نہیں ہے۔ کوئی ایسا کام جس سے علم کا حصول اور علم کا فروغ وابستہ ہو کرنے کا من کرتا ہے۔ اس تعلق سے حکمت و نصیحت کی بات بتائیے۔
اپریل ۱۹۹۶ء کے الرسالہ میں ایک مضمون میں آپ نے کچھ مسائل کو انتظار کے خانہ میں ڈالنے“ کا مشورہ دیا ہے۔ یہ یقیناً ایک زبردست حکمت ہے۔ میری کلکتہ کی ٹریننگ شاید اسی حکمت پر عمل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔
راز حیات ایک نایاب کتاب ہے۔ وہ واقعی تحفہ کے لائق ہے۔ مگر اردو میں ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ بہت مختصر ہے۔ جلد از جلد ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کرانے کی زحمت کیجئے! دہلی کی ایک سڑک کے کنارے ایک بہت بڑے حیوان کا ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے۔ زمینی طبقات میں ایسی ہڈیاں یا ڈھانچے پائے گئے ہیں جن سے ماہرین نے یہ سمجھا ہے کہ تقریباً ۶۰ ملین سال پہلے زمین پر ہاتھی سے بھی زیادہ بڑے جانور چلتے پھرتے تھے۔ ان کی لمبائی تقریباً سوفٹ تک ہوتی تھی۔ دنیا کے تمام عجائب خانوں میں اس کے نمونے برائے نمائش رکھے گئے ہیں۔
مراد آباد کا ہفت روزہ اخبار خبر دار جدید (۲۱ تا ۲۸ جون ۱۹۹۶) میں شائع شدہ ایک رپورٹ نظر سے گزری۔ جس کا عنوان یہ تھا، مراد آباد میں مسلم تعلیمی اداروں کا زوال۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ مراد آباد میں چند تعلیمی ادارے ہیں مگر وہ بھی اچھی حالت میں نہیں ہیوٹ مسلم انٹر کالج لڑکوں کے لیے اور عبد السلام مسلم گرلز کالج لڑکیوں کے لیے، ۱۹۱۴ء سے پہلے قائم ہوئے ۔ ان اداروں کے بانیوں نے انہیں جہاں چھوڑا تھا آج بھی وہ وہیں ہیں۔ یہ اس لیے قائم ہیں کہ صوبائی حکومت انھیں پوری پوری رقمی گرانٹ دیتی ہے۔ ان کالجوں میں ڈگری کلاسز کا بھی اضافہ نہ کیا جا سکا۔ چنانچہ طلباء کو مزید تعلیم کے لیے دوسرے اداروں میں جانا پڑتا ہے۔ عبد السلام مسلم گرلز انٹر کالج میں کامرس اور سائنس کے مضامین کی تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔
یہ صرف مراد آباد کی بات نہیں بلکہ تقریباً ہر جگہ یہی حال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ اسکول کالج تو کھلے اور کئی یونی ورسٹیاں بھی بنائی گئیں مگر تعلیمی شعور پیدا کرنے کی کوئی مہم جاری نہ کی گئی۔ تعلیمی اداروں کا قیام جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اندر تعلیم کی اہمیت کا شعور پیدا کیا جائے۔ قریبی سالوں میں مسلم نوجوان نسبتاً زیادہ بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں میں داخلے لے رہے ہیں مگر وہ بھی کسی تعلیمی شعور کے تحت نہیں ہے بلکہ معاشی دباؤ کے تحت ہے۔ اس لیے اس سے بھی زیادہ فائدہ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
۱۱ مارچ کو دہلی واپس آتے ہوئے بیشتر راستہ طے ہو چکا تھا کہ اچانک زور کی آواز کے ساتھ گاڑی کھڑی ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ اس کا ایک ٹائر پھٹ گیا۔ بظاہر اب گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ ڈرائیور اطمینان کے ساتھ اترا۔ اس کو معلوم تھا کہ گاڑی کے پچھلے حصہ میں ایک اسٹپنی (stepney) چنانچہ اس نے فوراً گاڑی کا ایک پہیہ نکالا اور اس کی جگہ دوسرا پہیہ (اسٹپنی) لگادی۔ گاڑی دوبارہ اپنی رفتار کے ساتھ آگے کے لیے روانہ ہوگئی۔
میں نے سوچا کہ یہ صرف ایک گاڑی کا معاملہ نہیں ہے، یہی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ زندگی کی دوڑ میں کسی بھی مرحلہ میں ایسا ہو سکتا ہے کہ سابقہ انتظام میں کوئی نقص پیدا ہو جائے اور اچانک زندگی کا سفر رک جائے۔ اس امکانی خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس ایک متبادل انتظام ہر وقت موجود ہو۔ اسی بات کو حالی نے اس طرح نظم کیا ہے : سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے ۱۱ مارچ ۱۹۹۶ء کو گیارہ بجے میں دہلی واپس آگیا۔