Its not my problem, its their problem.
Al-Risala, July 1998, pp. 40–50
By Maulana Wahiduddin Khan
امتیاز اور تعصب کے معاملے میں یہ بلا شبہ سب سے بہتر جواب ہے جو کوئی زیر تعصب شخص دے سکتا ہے۔
کراچی سے آئے ہوئے ایک مسلمان نے ایک مجلس میں بتایا کہ وہاں شادیوں میں کس طرح بہت زیادہ دھوم مچائی جاتی ہے اور بے پناہ دولت خرچ کی جاتی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آخر یہ لوگ اپنی کمائی کو شادیوں میں کیوں اتنا زیادہ برباد کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ یہ لوگ مڈل کلاس یا لور کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر انھوں نے کافی پیسہ اب وہ شادیوں میں نمائش کرکے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اب میں کوئی غریب آدمی نہیں ہوں ۔ اب میں ایک با عزت شخص کی حیثیت رکھتا ہوں :
I am no longer a poor man. I am a very respectable person. پاکستان سے انگریزی میں ایک کوارٹرلی قرآنک ہورائزن (The Quranic Horizons) کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کا شمارہ جنوری ۔ مارچ 1996ء یہاں دیکھا۔ ایک پاکستانی دانش ور کا مضمون تھا۔ اس میں انھوں نے پاکستان کی موجودہ حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی ریڈیو ، ناول ، میگزین وغیرہ کی آسان دستیابی (easy availability) کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں تیزی سے ویسٹرنائزیشن کا عمل ہو رہا ہے۔ بظاہر ان کا مطلب یہ تھا کہ اس کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ، حکومت اگر ان چیزوں کی آمد پر پابندی لگا دے تو پاکستانی معاشرہ ان کی برائیوں سے محفوظ ہو جائے گا۔
یہ بالکل بے معنی بات ہے۔ کسی ملک میں ان چیزوں کی آمد دراصل زمانہ کا تقاضا ہے
نہ کہ حکومت کی پالیسی کا نتیجہ۔ موجودہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ آج کسی بھی قوم کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دنیا سے الگ اپنا جزیرہ بنا سکے۔ پاکستان میں ضیاء الحق صاحب نے اس قسم کا جزیرہ بنانا چاہا تو پہلے ہی الیکشن میں ضیاء الحق کی ٹیم کو عوام نے رد کر دیا ایسی حالت میں نہ تو علاحدہ جزیرہ بنانا ممکن ہے، اور اگر کوئی ایسا جزیرہ بنانے کی کوشش کرے تو جمہوری دور میں اس کا بقا ممکن نہ ہوگا۔
۲۳ اگست کو جمعہ کا دن تھا۔ پروگرام کے مطابق، جمعہ کی نمازیہاں کی مسجد العابدین جمعہ کا خطبہ اور امامت دونوں میرے ذمہ تھا۔ میں نے خطبہ کے ساتھ انگریزی میں کچھ جمعہ کے بارے میں کہا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے سورہ الجمعہ کا آخری رکوع پڑھا اور پھر انگریزی میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ دینی زندگی کے تقاضے اور معاشی زندگی کے تقاضے دونوں کو کس طرح پورا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں آیات سے اخذ کر کے تین اصول بیان کیے (اگلے صفحہ پر ملاحظہ کریں)
نماز کے بعد کچھ لوگ مسجد میں ٹھہر گئے' ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ کے جواب میں میں نے کہا کہ : دوسری قو میں ہمارے لئے مد عو ہیں نہ کہ حریف اور رقیب۔ مسجد العابدین کے امام ضمیر ستار صاحب ہیں۔ ان کا تعلق گیا نا سے ہے۔ مدینہ کی الجامعۃ الاسلامیہ میں تعلیم حاصل کی ۔ اب یہاں بطور امام خدمت انجام دے رہے وہ انگریزی اور عربی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔
مسجد میں جناب سید نایاب حسن رضوی (۵۰ سال) سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : کوئی کہتا ہے کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہودی دشمن ہیں۔ کسی اور کو دشمن بتاتا ہے۔ یہ سب بے معنی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے
ایک صاحب ہم لوگوں کو اپنے فلیٹ پر لے گئے ۔ وہاں ان سے ملا ہوا ایک اور اس کے دروازہ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے کہ میں بنگلہ دیش سے محبت کرتا ہوں: I love Bangladesh
مجھے نہیں معلوم کہ امریکہ میں مقیم بنگلہ دیشی بھائی نے یہ جملہ کس معنی میں لکھا تھا۔ لیکن مجھے اگر اپنے وطن سے محبت ہے تو میرے لیے میری حب الوطنی کا تقاضا یہ ہو گا کہ میں اپنے وطن میں رہ کر اس کی خدمت کروں ، نہ کہ اس کو چھوڑ کر باہر چلا جاؤں۔ چنانچہ یہاں کچھ لوگوں نے پیش کش کی کہ آپ امریکہ میں رہ جائیے، آپ کی زیادہ ضرورت یہاں ہے۔ مگر میرے دل نے کہا کہ ابھی میں اپنے وطن کا حق ادا نہ کر سکا۔ پھر میں اس کو چھوڑ کر یہاں کیسے آ سکتا ہوں۔ ــــــــــ یہ سورہ الجمعہ کی آیتیں ہیں جو قرآن کی ۶۲ ویں سورہ ہے۔ اس میں مختصر طور پر بتا دیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں دین اور معاش کے دو طرفہ تقاضے کے درمیان توازن کس طرح رہنا چاہیے ۔
معاشی سرگرمی آدمی کی فطری ضرورت ہے۔ اس لیے اسلام میں اس کی مکمل اجازت دی گئی ہے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیاں دینی تقاضے کے تحت ہوں نہ کہ اس سے آزاد ۔ ہر آدمی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرے ۔ البتہ اس کی چند شرطیں ہیں (۱) اس کو جو کچھ ملے اس کو وہ سرا سر اللہ کا فضل سمجھے (۲) معاشی سرگرمیوں کے درمیان وہ خدا کو برابر یاد کرتا رہے (۳) وہ اپنی معاشی سرگرمیوں کو جائز حدود کے باہر نہ جانے دے۔
معاشی سرگرمی اور دینی تقاضے میں توازن کی صورت یہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اور ہر حال میں تیار رہے کہ جب بھی دین کی کوئی پکار سامنے آئے گی وہ معاشی تقاضے کے مقابلہ میں دینی تقاضے کو ترجیح دے گا۔ دینی مطالبہ کو پورا کرنے کے بعد اسے حق ہے کہ وہ دوبارہ اپنی معاشی سرگرمی کی طرف واپس چلا جائے (الجمعه ۹-۱۱) امریکہ میں مقیم پاکستانی مسلمان ہر سال نہایت اہتمام کے ساتھ یہاں اپنا "قومی میلہ" مناتے ہیں ۔ یہ میلہ امریکہ کے مختلف مقامات پر ہوتا ہے ۔ نیو یارک سے اردو ۔ میں پاکستانی مسلمان ایک اخبار نکالتے ہیں ۔ اس کا نام ہے ــــــــــ وطن امریکہ۔ شمارہ ۲۶ جولائی ۱۹۹۶ میں پورے صفحہ کا ایک اعلان تھا۔ بروکلین میلہ کمیٹی کے زیر اہتمام ساتواں بروکلین میلہ کا اشتہار تھا۔ یہ میلہ ۸ اگست ۱۹۹۶ کو ہوا۔ اس کی تفصیل دیتے ہوئے اس میں لکھا تھا :
یاد رکھیے ، بروکلین میں کونی آئرلینڈ ایونیو کا یہ میلہ ہماری قومی شناخت ہے۔
ہندستانی مسلمان اگرہندستان میں اپنی مسلم شناخت کی دھوم مچائیں، یا پاکستان کے ہندو وہاں اپنی قومی شناخت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ملکوں میں اس کا مخالفانہ رد عمل یقینی ہے۔ مگر امریکہ میں ہر ملک کے لوگ اس طرح کی تقریبیں کرتے ہیں اور یہاں کوئی بھی اس کے خلاف کچھ نہیں بولتا ـــــ اسی فرق میں ہندستان اورپاکستان کی بربادی اور امریکہ کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔
امریکہ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ بہت زیادہ ہیں۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ پاکستان پاک لینڈ کے نام پر بنایا گیا اور بنگلہ دیش سونار بنگلہ کے نام پر۔ مگر جب وہ بن گیا تو لوگ اپنے پاک ملک اور اپنے سنہرے ملک کو چھوڑ کر امریکہ بھاگے چلے آ رہے ہیں، ایسا انھوں نے کہا: یہاں انسان کی قدر ہے۔ اپنے یہاں تو یہ حال ہے کہ کوئی کسی کو بڑھتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتا۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر پاک دنیا اور سنہری دنیا کا نعرہ لگانے والوں کو سب سے پہلے انسان بنانے کی تحریک چلانا چاہیے تھا۔ نیویارک میں امان اللہ خان صاحب حیدر آبادی (پیدائش ۱۹۲۰) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ پی وی نرسمہاراو کے کلاس فیلورہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نرسمہاراؤ ہمارے اسکول میں ہمیشہ اول رہتے تھے۔ انھوں نے بہت سے واقعات بتائے مثلاً ایک بار انھیں میتھمیٹکس کے دس سوال دیے گئے اور کہا کہ ان میں سے سات کو حل کیجئے۔ نرسمہاراو نے کہا آپ خود ان میں سات کو چن کر مجھے بتا دیجئے (select any seven) میں نے کہا کہ وہ اچھے پرائم منسٹر ثابت نہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا :
He is only a scholar. He is not a good administrator. ایک صاحب نے گفتگو کے دوران ایک لطیفہ بتایا کہ ایک بار ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبہ میں ایک شیعہ عالم سفر کر رہے تھے۔ اس میں عیسائی عالم بھی موجود تھے۔ تعارف کے بعد عیسائی عالم نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ محمد خدا کے محبوب تھے۔ اور محمد غیب کی باتیں
بھی جانتے تھے۔ محمد کو پتہ ہوناچاہیے کہ میرا نواسہ حسین بے دردی کے ساتھ قتل کیا جانے پھر محمد نے اپنے خدا سے کیوں نہ کہا کہ اے خدا، میرے نواسے کو قاتلوں کے ہاتھ سے شیعہ عالم نے کہا : اصل یہ ہے کہ محمد نے خدا سے یہ بات کہی تھی۔ مگر خدا نے جواب دیا کہ اے محمد، میں اپنے بیٹے کو سولی پر چڑھائے جانے سے نہ بچا سکا، پھر تمہارے نواسے کو میں کیسے بچاؤں گا۔
جناب افتخار محمد صاحب (۳۳ سال) نے میری کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ سیاسی اقتدار سے ٹکرانا اور مکمل نظام قائم کرنا امت مسلمہ کا نصب العین نہیں۔ حالاں کہ قرآن میں ہے کہ : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف)
میں نے کہا کہ اس آیت کا حکومت اور اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ اس کے الفاظ پر غور کیجئے ۔ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ دین توحید کو دوسرے دینوں پر غالب اب دیکھئے کہ یہ دوسرے جو ادیان ہیں ان کی نوعیت کیا تھی۔ ان میں سے کوئی بھی مذہب سیاسی اقتدار یا سیاسی نظام کی حیثیت نہیں رکھتا تھا، نہ پہلے اور نہ اب ۔ ان میں سے ہر ایک مذہب کی حیثیت صرف اعتقادی یا عبادتی نظام کی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان میں سے ہر مذہب الہیاتی نظام (theological system) ہے نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔ اگر آپ خود ساختہ الفاظ کو آیت میں شامل نہ کریں بلکہ صرف آیت کے الفاظ کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کریں تو وہ یہ ہو گا کہ توحید پر مبنی نظریہ کو شرک پر مبنی نظریہ کے اوپر غالب کر دو۔
میں نے کہا کہ یہ واقعہ پورے معنی میں ظہور میں آ چکا ہے۔ تمام دوسرے ادیان نظری اور فکری اعتبار سے مغلوب ہو چکے ہیں۔ اب صرف توحید ہے جس کو عالمی سطح پر آئیڈیولوجیکل سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے۔
محمد ابراہیم خان صاحب (۴۹سال کا ۶ اگست کو دل کا آپریشن (بائی پاس سرجری) انھوں نے کپڑا ہٹا کر دکھایا۔ پاؤں میں پنڈلی کے مقام سے کھال کو چیر کر آرٹری
نکالی گئی اور اس کو دل کے ساتھ جوڑ دیا۔ سینہ میں بالکل بیچ میں لمبا نشان دکھائی دے رہا اس آپریشن پر ۳۷ ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ اور اس کو کرنے والے ڈاکٹر سپرائیم تھے۔ نے بتایا کہ چالیس ہزار ڈالر صرف ڈاکٹر سپرائیم کی فیس تھی۔ وہ اتنے ایکسپرٹ ہیں کہ آج امریکہ میں ان کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
اس بار میرا امریکہ کا سفر بہت لمبا تھا۔ ۱۹ اگست ۱۹۹۶ کی شام کو دہلی سے روانہ ہوا۔ دوبارہ ۲۱ ستمبر کو دہلی واپسی ہوئی ۔ بعض دوستوں نے اخلاص کے تحت اتنا لمبا پروگرام بنا دیا۔ حالانکہ میرے جیسے کمزور آدمی کے لیے اس قسم کا پروگرام بہت زیادہ خلاف مزاج تھا۔ امریکہ میں مجھے ہر قسم کی اعلیٰ سہولت حاصل تھی۔ بظاہر ہر قسم کا آرام تھا۔ مگر میں مسلسل پریشان رہتا تھا۔ ایک دن بھی ایسا نہیں تھا جو چین کے ساتھ گزرارہ ہو۔ ایک روز بے قراری کے عالم میں بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں نے کہا : خدایا ، دنیا میں مجھ کو آرام بھی برداشت نہ ہوسکا۔ پھر آخرت کی تکلیف کو میں کس طرح برداشت کروں گا۔ موجودہ سفر سمیت ، امریکہ کے لیے میرے سفروں کی تفصیل یہ ہے :
پہلا سفر نومبر ۱۹۸۵ دوسرا سفر دسمبر ۱۹۸۸ تیسرا سفر نومبر ۱۹۹۰ چوتھا سفر جنوری ۱۹۹۴ پانچواں سفر اگست ۱۹۹۶ ۲۳ اگست کی شام کو ہم لوگ بذریعہ روڈ پنسلوانیا گئے ۔ یہ نیو یارک سے ۶۵ میل کا یہ سفر جناب قطب الدین حسین انجینیر کی دعوت پر ہوا۔ خواجہ کلیم الدین صاحب ، ان کے صاحبزادے بلال اور میں ، ہم تین آدمیوں نے رات ان کے مکان پر گزاری ۔ صبح کو ہم لوگ ٹرنٹن (Trenton) گئے ۔ یہاں کی خوب صورت مسجد میں فجر کی نماز پڑھی گئی۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے انگریزی میں درس دیا۔ اس کے بعد چائے سے فارغ ہو کر دوبارہ مسجد کے وسیع بیسمنٹ میں لمبی نشست ہوئی۔ اس میں عرب اورنومسلم امریکی بھی شریک
تھے، اس لیے یہاں بھی انگریزی میں تقریر کرنا پڑا۔ تقریر کے بعد دیر تک سوال وجواب کی صورت میں یہ مجلس جاری رہی۔ درس کا خلاصہ صفحہ کے نیچے درج ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مرنے کے بعد آنکھ کا عطیہ دینا اسلام میں جائز ہے اور اس کے شرعی دلائل پیش کیے ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ اور دوسرے اعضاء سے حشر میں سوال کیا جائے گا۔ پھر ان کا عطیہ ہم کیسے دے سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مردہ کو دفن کرنے کے کچھ دنوں بعد اگر آپ قبر کھود کر دیکھیں تو وہاں صرف ہڈیاں ہڈیاں پڑی ہوئی ہوں گی ۔ اب سوال یہ ہے کہ آدمی کا سارا جسم (بشمول آنکھ) کہاں چلا گیا ۔ وہ کیڑے مکوڑوں کی نذر ہو گیا جو انھوں نے جبری عطیہ کے طور پر لے لیا۔
۲۴ اگست کی صبح کو دوبارہ ہم لوگ نیویارک کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں جناب خواجہ کلیم الدین صاحب سے گفت گو ہوتی رہی۔ میں نے پوچھا کہ ہمارے یہاں سے جو انگریزی کتابیں چھپی ہیں ، ان کی زبان کے بارے میں یہاں کے اہل زبان لوگوں کا تاثر کیا ہے۔ نے کہا کہ وہ اس کی زبان کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتابیں امریکہ میں لکھی گئی ہیں ۔
ایک واقعہ پیش آیا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ یہاں جب تک آدمی غلطی نہ کرے یہ لوگ مداخلت نہیں کرتے ۔
۲۴ اگست کی شام کو جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے دو نوجوانوں کے نام یہ مسٹر مشتاق گوہر ، مسٹر عامر صدیقی ۔ دونوں ذہین ہیں اور اسی کے ساتھ اسلام پسند بھی ۔ ان سے موجودہ مسلم دنیا کے حالات پر گفت گو ہوئی ۔ دونوں ہمارے لٹریچر کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ مشتاق گوہر صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ کی باتوں سے اتفاق ہے۔ مگر یہ بتائیے کہ کیا یہ تحریک کی صورت میں بھی کہیں چل رہی ہے ۔ میں نے کہا کہ تحریک تو ہر جگہ چل رہی ہے ۔ اور آپ خود بھی اسی تحریک کی ایک مثال ہیں۔ ایک صاحب نے پہلے حبیب اور خلیل کے لغوی معنی پوچھا۔ پھر پوچھا کہ دونوں میں
زیادہ اہم کون ہے۔ اس کے بعد خود ہی کہا کہ ابراہیم خلیل اللہ تھے، اور ہمارے پیغمبر حبیب اللہ اور حبیب اللہ کا درجہ بلا شبہ خلیل اللہ سے بہت زیادہ ہے۔
امریکی کلچر میں بچوں کے اندرخود تعظیمی (self-esteem) کی صلاحیت پیدا کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بڑھتے بڑھتے وہاں تک جا پہنچی ہے جس کو بھرم کہا جاتا ہے۔ نیو یارک ٹائمس میں اس رجحان کے خلاف ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ اس میں ایک قصہ بتایا گیا تھا کہ ریاضی کا ایک سوال ایک امریکی بچہ کو دے کر پوچھا گیا کہ کیا تم اس کو کرو گے۔ اس نے فوراً کہا کہ ضرور (Oh, sure) پھر اسی سوال کو ایک جاپانی بچہ کو دے کر یہی سوال کیا گیا تو اس کا جواب یہ تھا کہ میں کوشش کروں گا (I will try) اس کے بعد جب دونوں سے کہا گیا کہ سوال کو حل کرو تو جاپانی بچے نے ٹاپ کیا اور امریکی بچہ صرف ایوریج نمبر لاسکا۔ ۲۵ اگست کو ظہر کی نماز فلشنگ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد مسجد میں تقریر کا پروگرام یہ مسجد تقریباً ۲۰سال سے مسلمانوں کے پاس تھی۔ اب اسی سال اس کو شاندار اسلامک سنٹر کی صورت میں تعمیر کرایا گیا ہے۔ اندر اور باہر دونوں طرف سے نہایت خوب صورت ہے اور بالکل جدید طرز پر اس کو بنایا گیا ہے۔
۲۵ اگست کی شام کو ہم لوگ دوبارہ مسجد العابدین پہنچے۔ یہاں کے امام شیخ ضمیر ستار (گیانا) نے خواہش ظاہر کی تھی کہ میں دوبارہ یہاں آؤں اور نماز مغرب کے بعد لوگوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں بتاؤں۔
میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ہے کہ: کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله ۔
سلفی حضرات اپنے کو صحیح العقیدہ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ مطلوب عقیدہ پر قائم مگر میرا بار بار کا تجربہ ہے اور دوسروں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ ان لوگوں کے اندر مطلوب عقیدہ والے اوصاف نہیں ہوتے۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلوب عقیدہ اگر کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد لازمی طور پر اس کے اندر خشوع اور تواضع کی صفت پیدا ہونی مگر ان لوگوں کے اندر بر عکس طور پر قساوت اور کبر کا مزاج دکھائی دیتا ہے۔
اردو اکیڈمی کی طرف سے ۲۸ مارچ ۱۹۹۸ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار مولانا ابو الکلام آزاد کے بارے میں تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ۔ مولانا آزاد کی شخصیت پر تقریر کی۔ یہ تقریر انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ سہارامیگزین (انگریزی) کے نمائندہ نے ۶ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ موجودہ سیاسی حالات کی نسبت سے مسلمانوں کا موقف کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے۔
راشٹریہ سہارا میگزین کے نمائندہ مسٹر ایم جے انصاری نے ۱۰ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر نئے سیاسی حالات میں مسلمانوں کے مستقبل سے تھا۔ سلسلہ میں ان کو اسلام کا نقطہ نظر بتایا گیا۔
آؤ ٹ لک کے نمائندہ رنجیت بھوشن نے ۱۵ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ ہندوستان کے نئے سیاسی نقشہ میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ کوئی بھی سیاسی نقشہ صرف وقتی طور پر اور محدود طور پر ہی کام کر سکتا ہے۔ میں وہ مسلمانوں کے لئے کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک ان میں مثبت طرز فکر پوری طرح نہ آسکا۔ میری نظر میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ خود مسلمانوں کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ کی غیر موجودگی ہے نہ کہ کسی خارجی خطرہ کی موجودگی۔
آؤٹ لک ویکلی نیوز میگزین کے نمائندہ رنجیت بھوشن نے ۱۵ اپریل ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر ”ہندو فرقہ پرستی اور مسلمان“ کے مسئلہ سے تھا۔ ان کو بتایا گیا کہ۔ قرآن کے مطابق مسلمان کے لئے خطرہ صرف ان کی کمزوری ہو سکتی ہے۔ باہر سے ان کے لئے کوئی
انگریزی اخبار ٹیلی گراف (نئی دہلی) کی نمائندہ غزاله وہاب نے ١٦ اپریل ١٩٩٨ کو صدر اسلامی مرکز کا سوالات کا تعلق زیادہ تر مذہب سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مذہب کو لوگ اس لئے نہیں چھوڑ پاتے کہ مذہب انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ ہر آدمی خدا اور مذہب کا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اگر چہ مادی محرکات لوگوں کو پوری طرح مذہب کو لینے میں مانع بن جاتے ہیں مگر اس کی فطرت اس سے انکار کرتی ہے کہ وہ مذہب کو پوری طرح چھوڑ دے۔
کستورباگرام اندور میں اپریل ١٩٩٨ کے آخری ہفتہ میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع ٢١ ویں صدی کے لئے نئی قیادت کی تشکیل تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ٢٥-٢٦ اپریل کو دو تقریروں میں موضوع سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اکھل بھارت رچناتمک سماج کی طرف سے ٢٨-٢٩ اپریل ١٩٩٨ کو رشی کیش میں ایک کانفرنس اس کا موضوع مذاہب کا اتحاد تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور زیر بحث موضوع پر اسلام کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
نئی دہلی کے فادر والسنتھمپو (Rev. Valson Thampu) مسلم - مسیحی تعلقات پر ایک جامع رپورٹ تیار کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دونوں فرقوں کے درمیان بہت سارے پہلوؤں سے مشابہت کے باوجود باہمی تعلقات بہت کم ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس دوری کو ختم کیا جائے ۔ اور دونوں کے درمیان اختلاط کو زیادہ سے زیادہ بڑھایاجائے ۱۰۔ کشمیر ویلفیر سنٹر، ایک فلاحی اور رضا کار ادارہ ہے، جو کشمیر میں ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے تعمیری سوچ اور نیا مزاج پیدا کرنے کی نتیجہ خیز کاوشوں میں سرگرم عمل ہے۔ ہم وادی کے باشعور اور پر درد عوام کے تعاون کے متمنی ہیں۔
حمید الله حمید .... چیرمین کشمیر ویلفیر سنٹر کمپ آفس بیروہ کشمیر ۱۹۳۴۱۱
مولانا وحید الدین خاں ایک جلد میں مکمل قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی مسائل اور معلوماتی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے دعوتی اور تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید وہ طالبین قرآن کے لیے فہم قرآن کی کنجی ہے۔
ہدیہ : 400 روپے 1600 صفحات، باریک کاغذ پر ایک جلد میں مکمل۔
مساجد اور لائبریری وغیرہ میں تقسیم کرنے کے لئے 5 کاپیاں یا اس سے زیادہ تعداد منگوانے پر نصف رعایت کے ساتھ صرف 200 روپے میں دستیاب ہے 5 کاپیاں یا اس سے زیادہ تعداد منگوانے پر ڈاک خرچ بھی ادارہ کے ذمہ ہوگا۔