Al-Risala · August 1998

سفر غیر مرغوب

Al-Risala, August 1998, pp. 5–7

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر میرے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ ایک سفر کے دوران ایک عرب عالم سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ "انا رجل يحب العزلة" میں ایک تنہائی پسند آدمی ہوں مگر حالات کے تحت مجھے بار بار سفر کرنا پڑا۔ ملک کے اندر بھی اور ملک کے باہر بھی، خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی۔ تحریر (فروری ۱۹۹۸) میرے ہوائی سفروں کی تعداد تقریباً سوا سو ہو چکی ہے۔ ٹرین وغیرہ کے ذریعہ جو اسفار ہوئے ان کی تعداد اس کی دگنا سے بھی زیادہ ہوگی۔ میرا حال یہ ہے کہ ہر سفر مجبوری کے تحت کرتا ہوں اور جب واپس آتا ہوں تو اس احساس کے ساتھ کہ آئندہ میں کبھی سفر نہیں کروں گا۔ اس کے باوجود مشن کا تقاضا دوبارہ نئے سفر کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔

فروری ۱۹۹۸ میں میرا ایک سفر امریکہ کے لیے ہوا۔ وہاں واشنگٹن میں ۶۔ ۷ فروری کو ایک سیمنار اس کے بعد وہاں ایک اور کانفرنس ۲۱ مارچ ۱۹۹۸ کو ہونے والی تھی۔ لوگوں نے بہت زیادہ اصرار کیا کہ میں امریکہ میں مزید ٹھہروں اور ۲۱ مارچ کی کانفرنس میں شرکت کے بعد ہندوستان واپس جاؤں۔ مگر ہر قسم کی سہولت کے باوجود میں سفر سے اتنا زیادہ اکتايا ہوا تھا کہ زبردستی واپس چلا آیا۔ واشنگٹن (ڈی سی) میں کچھ اہل علم امریکیوں نے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ جس کا نام نان وائلنس اس کے صدر ایک نو مسلم پروفیسر عبد الکریم کرو ہیں۔ اب تک اس کے دو اجلاس

ہو چکے ہیں۔ اس کا تیسرا سالانہ اجلاس ۷۔ ۷ فروری ۱۹۹۸ کو واشنگٹن میں ہوا۔ اس کی دعوت پہ راقم الحروف نے شرکت کی۔

۴ فروری کی رات کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں جناب حبیب محمد صاحب بھی میرے ساتھ تھے، پورے راستہ میں ان سے دینی اور علمی باتیں ہوتی رہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ نے کہا کہ ”فکر اسلامی“ کو میں نے تقریباً دس بار پڑھا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن کے تمام گوشے کھل گئے اور اب میں کسی شک و شبہ کے بغیر الرسالہ مشن سے پورا اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ الرسالہ مشن کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی مخالفت کو میں بد نیتی پر محمول نہیں یہ تمام لوگ در اصل غلط فہمی کا شکار ہیں۔ یہ سب کے سب لوگ اس عربی مقولہ کے مصداق ہیں کہ: الناس عــدء ما جهلوا (لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جس سے وہ بے خبر ہوں) یہ لوگ ایک خاص طرح کی باتیں سنتے اور پڑھتے رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے اندر وہ چیز پیدا ہوگئی جس کو علمی زبان میں کنڈیشنڈ تھنکنگ کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب الرسالہ اور اس کی مطبوعات کو پڑھتے ہیں تو وہ ان کو نئی اور انوکھی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کو شاعر نے اپنے اس مشہور شعر میں بیان کیا ہے: آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا منزل بہت کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ہر اعتبار سے ایک نیا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں دنیا ر وایتی دور سے نکل کر سائنٹفک دور میں داخل ہوئی ۔ اب ضرورت ہے کہ اسلام کے ابدی اصولوں کو جدید حالات پر از سر نو منطبق کیا جائے ۔ اسی از سر نو انطباق کا شرعی نام اجتہاد ہے۔ ”فکر اسلامی“ میں اس کے مجتہدانہ اصول بتائے گئے ہیں اور الرسالہ مشن کی بقیہ کتابیں گویا اسی کا تفصیلی انطباق ہیں۔ ہندوستان سے امریکہ کے سفر میں آدمی کو کرہ ارض کا نصف حصہ طے کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہم تقریباً بیس گھنٹہ راستہ میں گزارنے کے بعد ۵ فروری کو دوپہر بعد واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔ کا مطلب ہے : ڈسٹرکٹ آف کولمبیا۔ یہاں کے لوگ اکثر واشنگٹن ڈی سی کو صرف ڈی سی کہتے ہیں۔ واشنگٹن ایئر پورٹ سے ہوٹل تک پہنچنے کے لیے لمبا راستہ طے کرنا پڑا۔ اس طرح ہم نے پہلے ہی دن گویا شہر کے بیشتر حصہ کو دیکھ لیا۔ واشنگٹن پورے معنوں میں سپر پاور کی راجدھانی نظر آیا۔

اونچی بلڈنگوں کا شہر ہے تو واشنگٹن خوب صورت اور پر عظمت عمارتوں کا شہر۔ یہ 1895-1855 میں امریکیے کی راجدھانی بنا۔ اس کے بعد اس میں مسلسل ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی موجودہ پر رونق حیثیت تک پہنچا۔

Printed page