Al-Risala · August 1998

اسلام اور امن

Al-Risala, August 1998, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ امن کا مسئلہ ہے۔ قدیم زمانہ میں جنگ ایک ایسے واقعہ کا نام تھا جو میدان جنگ میں دو فوجوں کے درمیان پیش آتا تھا۔ بقیہ آبادی سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہ تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جدید ہتھیاروں کی ایجاد کے بعد جنگ عمومی تباہی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اب جنگ کے معنی ــــ عام آبادی کی ہلاکت، اقتصادیات کی بربادی ، پانی اور ہوا کا زہر آلود ہو جانا، زمین سے لے کر فضا تک ایسا فساد برپا ہونا کہ یہاں معتدل زندگی ہی انسان کے لیے ممکن نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہر جگہ امن کے موضوع پر بحثیں جاری ہیں۔ اور بڑے بڑے اجتماعات

کیے جارہے ہیں۔ فروری ۱۹۹۸ میں مجھے تین انٹرنیشنل کانفرنسوں میں اسلام اینڈنان وائلنس کے موضوع پر اظہارِ خیال کے لیے بلایا گیا۔ ایک ہندوستان (وردھا) میں اور دو بیرون ملک رباط (مراکو) اور واشنگٹن (امریکہ) میں۔ میں ان میں سے صرف واشنگٹن جاسکا۔ اور وہاں امریکن یونی ورسٹی میں ہونے والے سیمنار (۶-۷ فروری) میں شرکت کی۔

اس موقع پر میں نے دو تقریریں کیں اور ڈسکشن میں حصہ لیا۔ ۶ فروری کی تقریر کا ایک جزء لوگوں کے لیے خصوصی اہمیت کا باعث بنا۔ اور اس کو ہینڈ بل کی صورت میں چھاپ کر بڑی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔ تقریر کا وہ حصہ یہ تھا ؀ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ اسلام اور تشدد ایک دوسرے کا ضد ہیں۔ تشدد کا تصور اس قدر واضح طور پر بے بنیاد ہے کہ وہ بلا بحث ہی قابلِ رد ہے۔ یہی واقعہ کہ تشدد موجودہ زمانہ میں قابلِ بقاء نہیں، یہ یقین کرنے کے لیے کافی ہے کہ تشدد ایک اصول کے طور پر اسلام کے نقشہ میں بالکل اجنبی ہے۔ اسلام ایک ابدی مذہب ہے، اور ایک ابدی مذہب اپنے نظام میں ایک ایسے اصول کا تحمل نہیں کر سکتا جو انسانی تاریخ کے بعد کے زمانوں میں قابلِ عمل نہ رہے۔ اسلام کے ساتھ جوڑنے کی کوئی کوشش اسلام کی ابدیت ہی کو مشتبہ قرار دینے کے ہم معنی ہے۔ ایک تقریر میں میں نے کہا کہ ؀ نان وائلنس (عدم تشدد) کا مطلب ہے وائلنس (تشدد) کے اسباب کے باوجود نان وائلنس (عدم تشدد) کی روش پر قائم رہنا۔ یہی صبر کی حقیقت بھی ہے۔ نان وائلنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے۔ صبر در اصل مثبت ردِ عمل کا دوسرا نام ہے۔ ناخوش گوار حالات میں منفی ردعمل سے اپنے آپ کو بچانااوریک طرفہ طورپر اپنے آپ کو مثبت ردِ عمل پر قائم رکھنا، یہی صبر ہے۔ چونکہ اس اخلاقی روش پر قائم ہونے کے لیے برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس کو شریعت میں صبر کا نام دیا گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بلا حساب اجر دیا جائے گا (الزمر (۱۰) دوسری آیتوں اور حدیثوں کو ملا کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لامحدود اجر کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے دنیا میں جو لوگ اپنے معاملات کو صبر کے اصول پر چلائیں وہ یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل اسی طرح جو لوگ صبر و برداشت کی قیمت دیتے ہوئے ہوئے خدا کے دین کو اختیار کریں وہ آخرت میں خدا کے غیر معمولی انعامات کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

Printed page