Al-Risala · August 1998

American Muslims under siege.

Al-Risala, August 1998, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

اس بھیانک عنوان کو دیکھ کر میں نے اس کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ مضمون — کھودا پہاڑ نکلی چوہیا کا اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ کے جیل خانوں میں مسلمانوں کے اوپر زبردست ظلم کیا جاتا وہ ظلم یہ ہے کہ امریکہ میں جیل خانہ کے قیدیوں کے لیے ایک متعین کپڑا (پریزن یونیفارم) ہوتا ہے۔ کسی جیل میں بعض مسلم قیدیوں نے اپنی الگ شناخت قائم کرنے کے لیے داڑھی بڑھائی اور ٹوپی پہن لی۔ حکام نے کہا کہ یہ قواعد جیل کے خلاف ہے اس لیے آپ داڑھی اور ٹوپی کو چھوڑ کر یہاں کے مشترک یونیفارم کو استعمال کیجیے۔ مضمون نگار نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ میں طاغوت اور کافر اور مشرک کی حکومت ہے۔ اس لیے یہاں کے مسلمانوں کو اپنا دین بچانے کے لیے اسلامی ملکوں میں چلا جانا چاہیے۔

مضمون نگار جو غالباً کوئی بلیک مسلم ہیں ان کو معلوم نہیں کہ امریکہ کی جیلوں میں تو صرف ڈریس کا مگر وہ ان مسلمانوں کو جن مسلم ملکوں میں بھیج رہے ہیں وہاں ان کو جسمانی تعذیب، ناقص غذا اور طرح طرح کی مشقت کا سامنا پیش آتا ہے۔

بدقسمتی سے اس قسم کی باتیں امریکہ کی تمام مسلم مسجدوں، مسلم اداروں اور یہاں کی نام نہاد مسلم میڈیا میں مسلسل دہرائی جاتی ہیں۔ میں نے امریکہ کے سات سفروں میں صرف ۲ آدمی ایسے پائے جو امریکی زندگی کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کرتے تھے۔ بقیہ تمام لوگ کم و بیش امریکہ کی برائی کرتے ہوئے نظر آئے۔ بات یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی ایک شخص بھی طاغوتی امریکہ کو چھوڑ کر اپنے اسلامی ملک میں جانے کے لیے تیار نہیں۔

Printed page