Al-Risala · August 1998

ملاقاتیں

Al-Risala, August 1998, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

واشنگٹن کے سیمنار (فروری ۱۹۹۸) میں مختلف ملکوں کے اسکالر اور پروفیسر شریک تھے۔ سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پروفیسر عبدالكريم کرو (ناظم سیمنار) مجھے بہت زیادہ سنجیدہ نظر آئے۔

امریکن یونیورسٹی (واشنگٹن) میں استاد ہیں۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ کانفرنس کے بعد میں مزید ایک ہفتہ واشنگٹن میں ٹھہروں۔ اس دوران یونیورسٹی میں لیکچر، امریکن ٹی وی میں انٹرویو، وغیرہ کا پروگرام ان کے پیش نظر تھا۔ مگر میں نے مزید قیام سے معذرت ظاہر کی۔ بعد کو رخصتی ملاقات میں انھوں نے کہا کہ کانفرنس کے لیے آپ کا پیپر بہت اہم تھا۔ اسلام اور نان وائلنس کے موضوع پر اتنے واضح خیالات ہم نے پہلی بار سنے۔

اس موقع پر دمشق (شام) کے شیخ جودت سعید بھی آئے تھے، وہ شام کے ممتاز علماء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان سے تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع ملا۔

ان کی ایک کتاب کا نام حتی یغيروا ما با نفسہم ہے جو۲۲۴صفحات پر مشتمل ہے۔ میں انھوں نے قرآن کی آیت (الرعد (۱۱) کی تشریح کی ہے۔ ان کے مطابق، اس آیت میں دو تبدیلیوں (تغییرین) کا ذکر ہے۔ ایک خدائی تبدیلی (تغییر اللہ)، اور دوسری قومی تبدیلی (تغییر القوم) میرے نزدیک یہ تشریح غیر واضح ہے۔ اس آیت میں دراصل قانون فطرت کا ذکر ہے یعنی کسی گروہ میں اجتماعی سطح کی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب کہ اس میں انفرادی سطح کی تبدیلی آچکی ہو۔ قوم کے عروج یاارتقاء کاانحصارفرد کی حالت پر ہے۔ افراد کے بگاڑ سے قوم میں بگاڑ آتاہے اسی طرح کوئی قوم اس وقت اصلاح یافتہ ہوتی ہے جب کہ اس کے افراد اصلاح یافتہ ہو گئے ہوں۔ شیخ جودت سعید سے میں نے اس کتاب کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ یہ میری ابتدائی دور کی تصنیف ہے۔ ڈاکٹر محمود ایوب ایک لبنانی مسلمان ہیں۔ وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ سنجیدہ آدمی ہیں مگر لبنان کے بارے میں ان کی سوچ غالباً موضوعی سوچ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب میں سنتا ہوں کہ لبنان میں اسرائیلی بمباروں نے فلاں مسلم بستی کو تباہ کر دیا تو میں اپنے آپ کو اسرائیل کے خلاف غصہ اور نفرت سے نہیں بچا پاتا۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ سوچ حقیقت پر مبنی نہیں۔ اس قسم کے لوگ کہانی کے صرف نصف آخر کو دیکھتے ہیں، وہ اس کے نصف اول کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اسرائیل اور لبنان کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب کہ لبنان کے سرحدی علاقہ میں مسلم مجاہدوں نے اپنے اڈے بنائے اور وہاں سے اسرائیل کے خلاف متشددانہ کارروائی شروع کی۔ اس کا جواب اسرائیل نے مزید تشدد سے

اسرائیل کا جوابی تشدد دراصل مسلمانوں کے جہاد کی قیمت تھی۔ مسلمانوں کو دیا تو اس قسم کا پر تشدد جہاد نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس کے بعد انہیں کسی شکایت کے بغیر اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ایک طرف اپنی متشددانہ کارروائیوں کو جہاد کہتے ہیں اور جب فریق ثانی ان پر جوابی تشدد کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف شکایت کا طوفان کھڑا کرتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کی متشددانہ کارروائی اگر جہاد کہتی تو انھیں اس کے نتیجہ کو احدی الحسنیین(التوبہ (التوبہ:۵۲) سمجھ کر بخوشی اس کو قبول کرنا چاہیے۔

Printed page