Al-Risala · August 1998

It is too simplistic approach

Al-Risala, August 1998, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے اس کی واقعاتی تشریح کے لیے کہا مگر وہ اپنے تبصرہ کی کوئی واقعاتی تشریح پیش نہ کر سکے۔ میں نے کہا کہ یہ سادہ اور غیر سادہ کی بات نہیں۔ قانون فطرت کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں کہ عدل قائم کر کے امن حاصل کیا جائے۔ ایسا کبھی تاریخ میں نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ امن خود عدل نہیں ہے بلکہ امن سے وہ راستہ کھلتا ہے جس کے ذریعہ آپ عدل کی منزل تک پہنچ سکیں:

Peace, itself, is not justice. But peace does clear the path to justice. مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے جب حدیبیہ کا امن معاہدہ کیا تو ایسا نہیں ہوا کہ خود معاہدہ کے ساتھ عین اسی وقت عدل کا قیام عمل میں آگیا ہو۔ بلکہ جو ہوا وہ یہ تھا کہ اس امن معاہدہ نے وہ مواقع اور امکانات پیدا کیے جن کو استعمال کر کے آپ کے لیے عدل کا قیام ممکن ہو گیا۔ امریکہ کے لیے میرا موجودہ سفر وہاں کا ساتواں سفر تھا۔ ان سفروں میں مجھے امریکہ کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہاں کے شہر اور گاؤں ، وہاں کے ادارہ اور لائبریریاں، وہاں کی سائنسی

اورصنعتی ترقیاں وہاں کے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مظاہر، وہاں کی اقتصادی اور سیاسی پالیسیاں، وہاں کے اکثریتی اور اقلیتی گروہ، وغیرہ وغیرہ۔

اس بارے میں جو نئی چیز یں دیکھیں ان میں سے ایک واشنگٹن کا وائٹ ہاؤس تھا۔

وائٹ ہاؤس امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ اسی میں اس کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جس میں ایک سو کمرے ہیں۔ اس عمارت کی ڈیزائن ۱۷۹۲ء میں تیار کی گئی اور اس کی تعمیر ۱۸۰۰ء میں مکمل ہوئی۔ سفید رنگ کی وجہ سے اس کا نام وائٹ ہاؤس پڑ گیا۔ اس عمارت کو برٹش فوجیوں نے اپنے حملے کے دوران ۱۸۱۴ء میں جلا دیا تھا اس کے بعد اس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ دوسری تعمیر میں توسیع کرکے اس کو زیادہ بڑا بنا دیا گیا۔

۱۰ فروری کو جب کہ میں وائٹ ہاؤس کی اس تاریخی عمارت کو دیکھ رہا تھا تو میں نے سوچا کہ اس سے پہلے امریکیوں اور انگریزوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں نے وائٹ ہاؤس کو مگر آج دونوں ملکوں کے درمیان کامل دوستی ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ امریکہ کے باہر اس کا سب سے بڑادوست ملک برطانیہ ہے۔ اس کے برعکس مثال برصغیر ہند میں ملتی ہے۔ یہاں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ٹکراؤ پیش آیا مگر وہ دونوں ملکوں کے درمیان ابدی نفرت میں تبدیل ہو گیا۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی جنگ محدود طور پر دو فوجوں کی باہمی جنگ تھی۔ یہ جنگ فوج سے شروع ہوئی اور فوج ہی پر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وہاں ایسا نہیں ہوا کہ دونوں ملکوں کا میڈیا مسلسل طور پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی لفظی فصل اگانا شروع کر دے۔ انڈیا اور پاکستان میں اس کے برعکس معاملہ پیش آیا۔ یہاں یہ ہوا کہ جب مسلح فوجوں کا کام ختم ہوا تو زبان و قلم کے لفظی مجاہدین نے اس کی جگہ لے لی۔ ان رہنماؤں اور دانشوروں نے یہ کیا کہ وہ اپنے لکھنے اور بولنے کی پوری، طاقت اور میڈیا کے تمام وسائل ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلانے میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ اس طرح یہاں معاملہ دو فوجوں کے وقتی ٹکراؤ پر ختم نہیں ہوا بلکہ وہ وسیع ہو کر دونوں ملکوں کے عوام تک پہنچ گیا۔ یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ ہندوستانی قومیت کا معیار پاکستان سے نفرت بن گیا اور پاکستانی قومیت کا معیار ہندوستان سے نفرت۔ اس نفرت کے بغیر اب نہ کسی ہندوستانی کی قومیت مکمل ہوتی اور نہ کسی پاکستانی کی قومیت کامل سمجھی جاتی۔

Printed page