ایک کیسٹ
Al-Risala, August 1998, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں ایک بار میں ایک صاحب (مسٹر فاروق چشتی) کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ نے کار میں لگے ہوئے ٹیپ ریکارڈر میں ایک آڈیو کیسٹ لگایا۔ اس کے بعد ایک پاکستانی رہنما کی تقریر اس تقریر میں یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان کا اصل مشن یہ ہے کہ وہ دنیا کے ہر دوسرے نظام کو توڑ کر اسلام کا نظام خلافت قائم کریں یہ ان کے لیے فرض عین ہے۔ کسی غیر اسلامی نظام سے ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنا ان کے لیے جائز نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں یہ مثال ملتی ہے کہ انھوں نے ایک غیر مسلم بادشاہ کی سلطنت کے ماتحت ایک حکومتی عہدہ قبول کیا۔ مگر آپ کی یہ روش امت محمدی کے لیے نمونہ نہیں۔ ہمارے لیے صرف محمد رسول اللہ کا اسوہ ہی واحد قابلِ اتباع نمونہ ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے : لقد كان لكم فى رسول الله أسوة حسنة (الاحزاب ۲۱)
میں نے کہا کہ یہ استدلال بالکل غلط ہے۔ استدلال کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دوسری متعلق آیتوں کو سامنے رکھ کر مفہوم متعین کیا جائے نہ کہ صرف ایک آیت کو لے کر اس پر تقریر شروع کر دی جائے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں ایک اور مقام پر دوسرے نبیوں (بشمول یوسف) کا ذکر ہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــــــــ یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہدایت دی ، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو (الانعام ۹۱)اس اس آیت کے مطابق واضح طور پر حضرت یوسف بھی ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
میں نے کہا کہ یہ ایک غیر علمی استدلال ہے۔ موجودہ زمانہ میں تقریبا تمام مسلم رہنما اور دانشور
اسی فکری غلطی میں مبتلا ہیں وہ علمی طرز فکر سے آشنا نہیں اس لیے وہ ایسی باتیں کہتے ہیں ، ہیں،جو اہلِ علم کی نظر میں کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں ۔