Al-Risala · August 1998

غیر عملی نظریہ نہیں

Al-Risala, August 1998, pp. 22–24

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے انتہا پسند مسلم مفکرین نے غیر ضروری طور پر مسلمانوں کو اس برائی میں مبتلا کر دیا جس کو قرآن میں لم تقولون ما لا تفعلون (الصف) کہا گیا ہے۔ اور کرنے میں تضاد۔ ان لوگوں نے خود ساختہ طور پر اسلام کی یہ تعبیر پیش کی کہ جو نظام خدا کی حاکمیت کے اصول پر قائم نہ ہو وہ طاغوتی نظام ہے اور ایسے نظام سے عملی تعاون کسی حال میں جائز نہیں،

نہ براہ راست اور نہ بالواسطہ۔ بہت سے لوگ اپنی نوجوانی کی عمر میں اس نظریہ سے متاثر ہوئے۔ نے اس کو اپنا عقیدہ بنا لیا، مگر بعد کو جب وہ زندگی کے میدان میں داخل ہوئے تو معلوم ہوا کہ یہ نظریہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ ان لوگوں میں یہ جرأت نہ تھی کہ وہ اعلان کر دیں کہ جس نظریہ کو ہم کامل صداقت سمجھ بیٹھے تھے وہ محض ایک خیالی فریب تھا۔ اس لیے انھوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے فکری غلطی کا اعتراف کیے بغیر عملی طور پر مفروضہ طاغوتی نظام سے ہم آہنگی اختیار کرلی۔ مگر یہ واضح طور پر دو عملی کی روش تھی۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں ہزاروں مسلمان اس دو عملی میں اپنے صبح و شام گزار رہے وہ اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنے کی قیمت زیادہ مہنگی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ مذکورہ معاملہ میں جو بات غلط تعبیر کی بناپر پیداہوئی وہی بات ایک اور اعتبار سے قومیت کے غلط تصور کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ "قوم مذہب سے بنتی ہے نہ کہ وطن سے" اس نظریہ نے انھیں ساری دنیا میں عجیب قسم کی دو عملی میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 1991 میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو تمام مسلمان اسی قومی تصور کی بنا پر عراق کے حامی ہوگئے۔ اس کا تقاضا تھا کہ وہ امریکہ (اور اس کے حامی دوسرے مغربی ملکوں) سے قطع تعلق کر لیں۔ مگر غالباً کسی بھی مسلمان نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق، اس پالیسی کو باطل سمجھنے کے باوجود انھیں ملکوں سے وابستہ رہے۔

امریکہ کے سفر میں میری ملاقات ایک امریکی مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ میں نے کہا کہ اگر یہ بات صحیح ہے تو آپ اس دشمن نمبر ایک کی مشین کا پرزہ ہیں۔ یہی نفسیات امریکہ میں بسنے والے بیشتر مسلمانوں کی ہے۔ وہ فلسطین جیسے معاملات میں امریکی پالیسی کو اپنے دینی احساسات کے سراسر خلاف سمجھتے ہیں۔ اگر ان کے یہ احساسات درست ہوں تو انھیں امریکہ کی شہریت چھوڑ دینا چاہیے اور اس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ مگر میرے علم کے مطابق کوئی بھی امریکی مسلمان نہیں جس نے ایسا کیا ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مسلسل طور پر دو عملی کا شکار ہیں۔ وہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے ایک چیز کو باطل سمجھتے ہیں اس کے باوجود وہ اس کے شریک وسہیم ہیں۔

کے مطابق ان پر لازم تھا کہ وہ اس "طاغوت" سے قطع تعلق کریں مگر وہ اس سے کامل تعاون کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

میں امریکہ یا کسی اور مغربی ملک میں قیام کو غلط نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک اس قسم کے تمام معاملات قومی معاملات ہیں نہ کہ اسلامی عقیدہ کے معاملات ۔ اگر آپ ان معاملات کو قومیت کے خانے میں رکھیں تو آپ دو عملی کا شکار ہوئے بغیر ان ملکوں میں ان کے نظام کے تحت رہ سکتے ہیں۔ مگر جب آپ ایسے معاملات کو عقیدہ کا مسئلہ بنالیں تو اس کے بعد موجودہ روش یقینی طور پر دو عملی کی روش بن جاتی ہے۔ اور دو عملی کی روش بلاشبہ اسلام میں سب سے زیادہ بری چیز ہے ۔

Printed page