Al-Risala · August 1998

ناسمجھی کا مسئلہ

Al-Risala, August 1998, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے امن کے سوال پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ہر جگہ بے انصافی کی جارہی ہے۔ سب سے پہلے ضرورت ہے کہ اس بے انصافی کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے امن سے زیادہ اہم چیز انصاف ہے۔ ہم امن کی خاطر انصاف کی قربانی نہیں کر سکتے :

Justice is more important than peace. We cannot sacrifice justice for peace. یہ سوچ کی غلطی ہے۔ اس وقت مسئلہ انصاف کے لیے کوشش کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ ہم اس سوال پر غور کریں کہ سو سالہ کوششوں کے باوجود انصاف کیوں حاصل نہیں ہوا ۔ جب اس طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کوشش کا یہ رخ ہی غلط تھا۔ اس طرح کے حالات میں کوشش کا نشانہ انصاف نہیں ہوتا بلکہ امن ہوتا ہے۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن کی حالت قائم کی جائے تا کہ انصاف کو حاصل کرنے کا راستہ کھلے۔ انصاف نتیجہ ہے اور امن تدبیر ۔ رہنماؤں نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے نتیجہ کو تدبیر کا درجہ دے دیا۔ گویا کہ وہ دیوار بنانے سے پہلے چھت ایسی کوشش موجودہ عالم اسباب میں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ مسٹر فاروق چشتی کمپیوٹر ایکسپرٹ ہیں۔ وہ نیوجرسی کے علاقے میں رہتے ہیں۔ ان سے ایک گفتگو

کے دوران میں نے کہا کہ میرے نزدیک موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس دور میں ان کے درمیان کوئی تخلیقی مفکر (creative thinker) پیدا نہ ہو سکا۔ ہمارے تمام بڑے بڑے ذہن منفی رد عمل کا شکار رہے، اور منفی رد عمل کی نفسیات کے ساتھ کبھی تخلیقی فکر پیدا

مثال کے طور پر اقبال کو لیجئے۔ ان کا کلام بتاتا ہے کہ وہ مغربی تہذیب کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار تھے۔ اس سلسلہ میں ان کا ایک شعر یہ ہے :

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا پائیدار ہوگا اس شعر کے مطابق، مغربی تہذیب کمزور شاخ (بالفاظ دیگر باطل فکر پر قائم ہے، اس لیے اس کا مقدر یہ ہے کہ وہ زوال کا شکار ہو جائے ۔ عجیب بات ہے کہ اقبال مغربی تہذیب کے بارے میں جو بات مستقبل کے صیغہ میں کہہ رہے ہیں اسی بات کو انھوں نے خود مسلم تہذیب کے بارے میں ماضی کے صیغہ میں بیان کیا یعنی جو حادثہ ان کے نزدیک مغربی تہذیب کے ساتھ آئندہ پیش آنے والا ہے وہ مسلم تہذیب کے ساتھ آج ہی پیش آچکا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کا یہ شعر پڑھئے :

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوں نابہ بار وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار اقبال اپنی قومی تہذیب کے بارے میں عصبیت کا شکار تھے، اور غیر قوم کی تہذیب کے خلاف نفرت میں مبتلا تھے اس لیے وہ تضاد فکری کا شکار ہو گئے، اگر وہ نفرت اور تعصب سے بلند ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ یہ کمزور شاخ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کے قانون کا معاملہ ہے۔ اسلام اپنے اصول کے اعتبار سے بلاشبہ ایک ابدی صداقت ہے۔ مگر مسلمان مادی اور سیاسی معنوں میں جو تاریخ بنائیں اس کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مادی اور سیاسی تاریخ کا معاملہ ایک قومی معاملہ ہے جس طرح ایک فرد حیاتیاتی اعتبار سے عروج اور زوال کا شکار ہوتا ہے اسی طرح قو میں بھی مادی اور سیاسی اعتبار سے عروج اور زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ معاملہ ایک فطری معاملہ ہے جو مسلم قوموں کے ساتھ بھی اسی طرح پیش آتا ہے جس طرح دوسری قوموں کے ساتھ ۔ مگر اقبال اپنے غیر تخلیقی فکر کی بنا پر اس فطری حقیقت کو سمجھنے سے معذور رہے۔ یہ ضروری ہے کہ اسلام اور مسلمان کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ اس کے بغیر اسلام کے بارے میں صحیح رائے قائم ہو سکتی ہے اور نہ مسلمانوں کے بارے میں۔

Printed page