Al-Risala · August 1998

تیسرا آپشن نہیں

Al-Risala, August 1998, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ کے سفر میں مجھے وہاں کے ایک اسلامک سنٹر ٹرنٹن میں ایک جلسہ کو خطاب کرنے کا موقع آخر میں سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ ایک امریکی مسلمان نے سوال کیا کہ آج کل امریکہ اور عراق کے درمیان جنگی فضا بنی رہی ہے۔ اگر جنگ ہو تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہو گا کہ ہم امریکہ کا ساتھ دے کر عراق سے لڑیں۔ جب کہ امریکہ ایک غیر مسلم ملک ہے اور عراق ایک مسلم ملک ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ایک حلف نامہ کو پر کر کے امریکہ کے شہری بنے ہیں۔ اس میں صاف طور پر یہ لکھا ہوا ہے کہ اگر کسی ملک سے امریکہ کی جنگ ہو تو آپ امریکہ کی طرف سے لڑیں گے۔ ایسی حالت میں آپ کے لیے انتخاب جنگ میں شرکت اور عدم شرکت کے درمیان نہیں ہے بلکہ جنگ میں شرکت یا امریکی شہریت کو چھوڑنے کے درمیان ہے۔ اب آپ کو خود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کس کو لیں اور کس کو زلیں : For you, the option does not lie between going to war or not going to war. Instead the actual option is between going to war or renounce the

یہ مسئلہ صرف امریکہ کے مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہر جگہ کے مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مسلمان مسلم اکثریت کے ملکوں میں تو احساسیِ وطنيت کے ساتھ رہتے ہیں۔ مگر مسلم اقلیت کے ملکوں میں وہ دوسرے باشندوں کے ساتھ اپنے آپ کو احساسِ وطنيت میں شریک نہ کر سکے۔ یہ صورتِ حال میرے نزدیک درست نہیں۔

میں نے کہا کہ آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ جس ملک میں آباد ہیں وہاں اگر آپ کے کچھ حقوق ہیں تو اس کے ساتھ لازمی طور پر آپ کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر آپ کسی ملک میں وہاں کے دستور کے مطابق اپنے حقوق لینا چاہتے ہیں تو عین اسی دستور کے مطابق آپ کو اپنی ذمہ داریوں کو بھی ادا کرنا ہوگا۔ میں آپ جیسے لوگوں کے لیے کوئی تیسرا آپشن نہیں ۔ قرآن کے مطابق ، مسلمانوں کو یا تو اپنے عہد کو پورا کرنا ہے یا عہد کو فریق ثانی کی طرف لوٹا دینا ہے (الانفال ۵۸)

مسلمان خواہ امریکہ میں ہوں یا کسی اور ملک میں، وہ وہاں ایک معاہدہ وطنيت کے تحت ہیں، یہ معاہدہ کہیں تحریری صورت میں ہے اور کہیں غیر تحریری صورت میں۔ تاہم شرعی طور پر ان دونوں قسم کے معاہدوں میں کوئی فرق نہیں۔ شرعی اعتبار سے غیر تحریری معاہدہ کی پابندی بھی اتناہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری معاہدہ کی پابندی۔ بظاہر معاہدہ کو باقی رکھنا اور اندر اندر اس کے خلاف عمل کرنا ایک ایسا فعل ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔

دو عملی کا یہی معاملہ خود مسلم ملکوں میں بھی ایک اور صورت میں پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بعض انتہا پسند مسلم مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور وہ ایک ناقابل تقسیم وحدت یعنی آپ کو نماز ادا کرنے کے ساتھ حکومت کو بھی لازمی طور پر اسلامی بنانا ہے۔ اگر آپ نماز، روزہ کریں مگر حکومت اور سلطنت کو اسلامائز نہ کریں تو آپ کی زندگی باطل زندگی ہوگی اور آخرت کی نجات آپ کے حصہ میں نہیں آئے گی۔

نوجوانوں کی ایک پوری نسل اس نظریہ سے متاثر ہوئی۔ اور وہ اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے ٹکرا گئی، کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق، یہ مسلم حکمراں طاغوتی حکمراں تھے نہ کہ حقیقۃً اسلامی حکمراں۔ نتیجہ میں ان مسلم حکمرانوں نے ایسے مسلمانوں کو سختی سے کچل ڈالنے کی پالیسی اختیار کی۔ یہ تشدد انقلابی مسلمانوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ چنانچہ انھوں نے دھیرے دھیرے دو عملی کی پالیسی اختیار کر لی یعنی فکری

اعتبار سے سابقہ عقیدہ پر باقی رہنا مگر عمل کے اعتبار سے موجود سیاسی نظام سے ہم آہنگی اختیار کر لینا ۔ یہ دو عملی آج تقریباً تمام مسلم ملکوں میں موجود ہے۔ اور اس نے لاکھوں لوگوں کو دو عملی کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہاں بھی میرا کہنا ہے کہ ان مسلم حکمرانوں سے ہم آہنگی اختیار کرنا ہرگز اسلامی عقیدہ کے خلاف نہیں۔ ان سے ہم آہنگی کرتے ہوئے بھی ایک شخص مکمل معنوں میں مسلمان بن سکتا مگر اس قسم کی زندگی کے جائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پہلے یہ اعلان کرے کہ اس کا سابقہ عقیدہ غلط تھا اور اب وہ اس کو غلو ( انتہا پسندی ) قرار دے کر اسے چھوڑ رہا ہے۔ جدید صنعتی انقلاب کا آغاز یورپ میں ہوا۔ بعد کو وہ امریکہ پہنچا۔ مگر اس سلسلہ میں ریسرچ کا زیادہ کام امریکہ میں ہوا۔ اور اب بھی ریسرچ میں امریکہ ہی سب سے آگے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور میں صنعتی ترقی کا زیادہ بڑا درجہ امریکہ کو مل گیا۔

ترقی کا بہت گہرا تعلق ریسرچ سے ہے۔ امریکہ کو جن چیزوں کی ایجاد کا سہرا حاصل ہے ان میں سے ایک موٹر کار ہے۔ موٹر کار سب سے پہلے 19 ویں صدی کے آخر میں امریکہ میں تیار کی گئی۔ اگر چہ یہ بات ابھی تک نزاعی ہے کہ کار کا پہلا موجد کون تھا۔ مگر اس سلسلہ میں جن چند لوگوں کے نام لیے جاتے ہیں ان سب کا تعلق امریکہ سے ہے۔

پہلی کار اپنی شکل کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کے سائیکل رکشا سے بظاہر بہت کم مختلف تھی۔ مگر یہ ابتدائی کار اگر آج کسی کے پاس ہو تو اس کی قیمت انتہائی مہنگی رولس رائس کار سے بھی زیادہ اس دنیا میں کچھ چیزیں اپنی کوالٹی کے اعتبار سے اہم ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو ان کی تاریخ اہم بنا دیتی ہے۔

اسٹیم انجن سے چلنے والے سمندری جہاز اور ٹرینیں سب سے پہلے برطانیہ میں بنائی گئیں ۔ کار اور ہوائی جہاز کی ایجاد کا سہرا امریکہ کے سر ہے۔ ہندوستان کی سڑکوں پر بھی لاکھوں کاریں دوڑتی ہیں اور امریکہ کی سڑکوں پر بھی ۔ مگر دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ میں نے دیکھا کہ امریکہ میں کاروں کی کثرت کے باوجود فضائی کثافت کی وہ حالت نہیں جو بمبئی اور دہلی جیسے ہندوستانی شہروں میں پائی جاتی دوسرا فرق سڑک کا ہے۔ میں نے اپنے سفروں کے درمیان پایا کہ امریکہ کے گاؤں کی سڑک بھی

Printed page