Al-Risala · August 1998

Goods once sold will not be taken back.

Al-Risala, August 1998, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے برعکس امریکہ کے دکان دار قانونی طور پر پابند ہیں کہ اگر کوئی کسٹمَر ۳۰ دن کے اندر خریدی ہوئی چیز کو واپس کرنے جائے تو دکان دار اس کو لینے سے انکار نہیں کر سکتا، بشر طیکہ وہ چیز نہ غیر استعمال شدہ حالت میں ہو۔

جب یہ قانون پاس کیا گیا تو امریکہ کے دکان داروں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ ہڑتال اور بند کا ہنگامہ شروع کر دیں جیسا کہ ایسے مواقع پر ہندوستان جیسے ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس انھوں نے یہ کیا کہ اپنے سامان اور سروس کی کوالٹی اور بھی زیادہ اچھی بنانے پر دھیان دینے لگے تاکہ گاہک ان کے سامان سے اتنا مطمئن ہو کہ خریدنے کے بعد وہ دوبارہ اس کو واپس کرنے کے لیے ان کے یہاں آنے کی ضرورت ہی نہ سمجھے۔

یہ صحت مند سماج کی پہچان ہے۔ صحت مند سماج کی ایک تعریف یہ ہے کہ اس کا دھیان ہمیشہ اپنے آپ کو زیادہ بہتر بنانے پر ہوتا ہے۔ دوسروں سے عدم اعتراف کی شکایت کرنا یا دوسروں کو منوانے کے لیے ان سے نزاع کرنا یہ صحت مند معاشرہ کا مزاج نہیں۔ اس علامتی مثال پر غور کیا جائے تو اس سے ترقی یافتہ سماج اور غیر ترقی یافتہ سماج کا فرق پوری طرح سمجھ میں آجائے گا۔ امریکہ کے سفر میں مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں مجھ سے انڈیا کے مسلمانوں کے بارے میں سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ اس ماہ انڈیا میں عام انتخابات ہو رہے ہیں۔

مسلمانوں کی پالیسی کیا ہے اور آپ کے خیال سے انھیں کیا کرنا چاہیے ۔ میں نے کہا کہ یہ الیکشن اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ سیاسی داداؤں کے دنگل کا ایک میدان ہے جس سے وہ اپنے ذاتی مقاصد کو حاصل کر سکیں ۔ اس کا ۲۰ کروڑ مسلمانوں کے مسائل کے حل سے کوئی براہ راست تعلق نہیں: These elections are nothing more than a wrestling ground for political dadas to grab the power only to secure their own material interests. It has nothing to do with the problems facing the 200 million people called the Muslim community of India. میں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ہندوستانی پارلیمنٹ کا بارہواں الیکشن ہے۔ مگر مسلمان اب تک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ ابھی تک انھوں نے اس سلسلہ میں کوئی پازیٹیو پالیسی نہیں بنائی۔ کے سلسلہ میں ان کی کوئی مثبت اور واضح پالیسی نہیں۔ اس کی وجہ الیکشن کے بارے میں ان کی بڑھی ہوئی توقع (over-expectation) ہے۔ موجودہ قسم کے الیکشن سے صرف وقتی اور محدود فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ مگر ہندوستان کے مسلم رہنماؤں اور دانشوروں نے ان کا جو ذہن بنایا اس کی بنا پر وہ یہ سمجھنے لگے کہ جس پارٹی کو وہ ووٹ دیں اس کو چاہیے کہ وہ ان کے سارے ملی مسائل کو حل کردے۔ چونکہ ایسا ہونا ممکن نہیں اس لیے ہر بار ان کے ووٹ نیگیٹو ووٹنگ کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اس بار مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ عام طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ سیکولر امیدواروں کو ووٹ دو ۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی لیڈر مسٹر سیکولر یا مسٹر آدرش نہیں ، ہر لیڈر مسٹر آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ کسی کے انٹرسٹ میں شریک ہو کر اس سے اپنے انٹرسٹ کی تکمیل میں مدد لیں۔

Printed page