نیا چیلنج
Al-Risala, August 1998, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک امریکی پرو فیسر سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ اہل علم کی سطح پر نئے امریکی ذہن کی سوچ کیا ہے۔ یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ سوویت یونین کے سقوط کے بعد امریکہ کو صرف ایک محدود مدت کے لیے خالی میدان ملا تھا ۔ اب امریکہ کے خلاف دوبارہ عالمی سطح پر ایک نیا چیلنج ابھرا ہے ۔ اگر چہ یہ سابق سوویت یونین کی طرح کسی ایک متحد طاقت کی طرف سے نہیں ہے بلکہ مختلف طاقتوں کے بظاہر غیر متحد ظہور کے نتیجہ میں پیش آیا ہے ۔
مضبوط یوروپین یونین کا قیام، روس اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی، صدام حسین کے سوال پر کویت کو چھوڑ کر تقریباً تمام مسلم ملکوں کا غیر موافق رویہ، اسرائیل اور عربوں کے درمیان اتحاد کی امریکی کوششوں کی ناکامی، مغربی طرز کی اقتصادیات میں آنے والا حالیہ بحران، اس قسم کے واقعات امریکہ کے لیے نیاچیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ مستقبل کی تصویر اگر چہ ابھی واضح نہیں ہے۔ یہ نفقہ لفظی کا معاملہ ہے۔ موجودہ صدی کے خاتمہ تک امریکہ اگر اس قسم کے مسائل کے مقابلہ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے تو اگلی صدی میں اس کا داخلہ اس کے لیے اپنی سپر پاور حیثیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے ہم معنی ہوگا۔ بصورت دیگر اگلی صدی کا آغاز گویا امریکہ کی برتر حیثیت میں زوال کا آغاز بن جائے گا۔
مسلم دنیا کے پاس بیک وقت دو چیزیں ایسی ہیں جو اس کو امکانی طور پر متبادل عالمی قیادت کا رول ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہ دو چیزیں ہیں ــــ اسلام کی آئیڈیالوجی اور قدرتی وسائل مگر مسلم دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے اندر ناصر اور قذافی اور خمینی اور صدام جیسے غیر معتدل لیڈر ابھرے جنھوں نے مغرب سے محاذ آرائی کو اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا اور بقیہ مسلم دنیا نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان کی تائید کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ واقعہ کا امکان بننا تو درکنار، اس منزل کی طرف سفر کا آغاز بھی اب تک نہ ہو سکا۔
ایک ایسا دین یا ایک ایسی آئیڈیالوجی جس سے ساری دنیا کو متوحش کر دیا گیا ہو، وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ وہ لوگوں کے اوپر کوئی قائدانہ کردار ادا کر سکے۔ قیادت کا رول، قرآن کے مطابق ، صبر کرنے والوں کے لیے مقدر ہے نہ کہ بے صبروں کے لیے (السجدہ ۲۴)