ایک تضاد
Al-Risala, August 1998, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
الجزائر اور ترکی کے کچھ افراد سے گفتگو ہوئی۔ وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر اب امریکہ میں رہتے انھوں نے اپنے ملک میں حکومت کے ظلم کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ آپ امریکہ میں کیوں رہتے
انھوں نے کہا کہ یہاں پیس ہے۔ میں نے کہا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ آپ امریکہ میں پیس کی پرائس دے رہے ہیں اس لیے یہاں پیس ہے۔ اور اپنے ملک میں آپ یہ پرائس دینے کے لیے تیار نہیں اس لیے وہاں پیس بھی نہیں ۔
انھوں نے کہا کہ کیا پرائس۔ میں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ پرائس ایڈجسٹمنٹ ہے۔ میں کچھ مطلوب چیزیں ہوتی ہیں اور کچھ غیر مطلوب چیزیں۔ اگر آپ غیر مطلوب چیزوں کو نظر انداز کر کے مطلوب چیزوں پر قناعت کریں تو اسی کا نام امن ہے۔ اور اگر یہ چاہیں کہ سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہو، کوئی غیر مطلوب چیز باقی نہ رہے تو اسی کے نتیجہ کا نام بد امنی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دو طرفہ صورت حال کسی مفروضہ ظالم کی قائم کردہ نہیں ہے بلکہ وہ خود فطرت کے قانون کی بنا پر ہے اس لیے وہ کبھی اور کسی سماج میں ختم ہونے والی نہیں۔ مسلم ملکوں میں جو لوگ نیا بہتر نظام قائم کرنے کے نام پر موجودہ حکمرانوں سے لڑ رہے ہیں، وہ اگر غالب ہوں اور موجودہ نظام کو ختم کر کے دوسرا نظام قائم کریں تو اس نئے نظام میں بھی عین یہی دو طرفہ صورت حال باقی رہے گی ۔ واضح مثال مصر، افغانستان، پاکستان اور ایران جیسے ملک ہیں۔