جنت کا ٹکٹ
Al-Risala, August 1998, pp. 35–38
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار کی تعداد میں اسلامک سنٹر ہیں۔ یہاں اسلامک سنٹر کا مطلب ہوتا ہے مسجد اور اس کے ساتھ دوسرے ضروری شعبے مثلاً لائبریری، هال، مہمان خانہ، مدرسہ، وغیرہ۔ ایک اسلامک سنٹر میں میرے کچھ پروگرام ہوئے ۔ اس کے ذمہ دار کی طرف سے مجھے یہ پیش کش کی گئی کہ اب آپ یہیں رہئے ۔ انڈیا کے بجائے امریکہ کو اپنا میدانِ کار بنائیے۔ آئندہ آپ ہی اس اسلامک سنٹر کے چیرمین ہوں گے۔ تاہم ان کے شدید اصرار کے باوجود میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جو مسلمان امریکہ میں آباد ہیں اور یہاں دعوت کا کام کر رہے ہیں ان کے لیے یہی درست ہے کہ امریکہ کو اپنا میدان سمجھیں۔ مگر جہاں تک میرا تعلق ہے میں انڈیا میں کام کرنے کو زیادہ پسند کرتا ہوں ۔ میرا احساس یہ ہے کہ اگر میں صبر کے ساتھ انڈیا میں دعوتی کام کروں تو وہاں میرے لیے جنت کا یقینی ٹکٹ موجود ہے ۔
بیرونی دنیا میں عام طور پر انڈیا کا تصور یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کوستایاجاتاہے ۔ ٹرنٹن میں ایک
مسلمان (محمد عمر) نے انڈیا کے مسلمانوں کا ذکر کیا جیسے کہ مسلمان یہاں دفن کیے جا چکے ہیں۔ کہا کہ اگر بالفرض انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا وہی معاملہ ہو رہا ہو جو آپ حضرات سمجھتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع (گولڈن چانس) ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جتنی بڑی مصیبت اتنا ہی بڑا انعام (إن عظم الجزاء مع عِظَمَ البلاء) اس کے مطابق اگر ہم انڈیا جیسے ملک میں اسلام پر عمل کریں تو ہم کو ان مسلمانوں سے زیادہ ثواب ملے گا جو سہولت والے ملکوں میں اسلام پر عمل کررہے ہوں اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ:۔ حُجِبتِ الجنة بالمكارۃ (فتح الباری ۳۴۷/۱۱) یعنی جنت تکلیفوں سے ڈھانک دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دعوتی کام امریکہ جیسے ملک میں آرام اور سہولت کے ساتھ ہو سکتا ہے وہ انڈیا میں تکلیف اور دل آزاری کے ماحول میں انجام دینا ہے۔ اگر ایسا ہو تو انڈیا میں ہمارے لیے جنت کا یقینی ٹکٹ موجود ہے۔ انڈیا میں ہم ناگوار حالات کے درمیان اسلامی دعوت کا کام کر کے زیادہ یقینی طور پر جنت کا استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔ اِن شاء اللہ العزیز۔ طاقت ور نظریہ مولانا ذکی الدین صاحب ماؤنٹ ہالی اسلامک سنٹر کے صدر ہیں۔ وہ وہاں عام طور پر امام ذکی کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا اتفاق ہوا۔ ایک مجلس میں انھوں نے ایک مقولہ پیش کیا جو مجھ کو بہت پسند آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ دنیا میں اس نظریہ کو بقا ملتا ہے جو زیادہ طاقتور ہو: Let the strongest idea survive. میں نے کہا کہ یہ مقولہ سب سے زیادہ اسلام کے بارے میں درست ہے۔ اسلام کی حیثیت بلاشبہ دوسرے نظریات کے مقابلہ میں سپیر پر آئیڈيالوجی کی ہے۔ جب بھی اسلام کو نظریات کے میدان میں لایا جائے گا ہمیشہ برتری اسلام ہی کو حاصل ہوگی۔
پھر میں نے کہا کہ اسلام اگرچہ امکانی طور پر آج بھی سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے مگر عملی طور پر اس کو آج کی دنیا میں غالب نظریہ کی حیثیت حاصل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کو نظریاتی مقابلہ کے میدان میں لایا ہی نہیں گیا۔ یہ کام مسلمانوں کے ذریعہ ہونا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اسلام کو تو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا۔ البتہ اسلام کے نام پر انھوں نے دوسری قوموں سے نفرتیں کیں اور ان سے مادی اور سیاسی جھگڑے قائم کیے۔ مسلمانوں کی یہ روش میڈیا کے ذریعہ خوب عام ہوئی۔
یہاں تک کہ لوگ اسلام کو ٹکراؤ اور تنگ نظری اور تشدد کا مذہب سمجھنے لگے۔ یہی منفی فضا ہے جو اسلام کی اشاعت میں واحد رکاوٹ ہے۔
میں نے کہا کہ اگر آپ کارخانہ دار ہیں اور نہایت اعلیٰ کوالٹی کا ایک سامان اپنے یہاں تیار کرتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ آپ ایسا عمل بھی کر رہے ہیں جو متوقع کسٹمر کمیونٹی کو آپ سے متنفر کرنے والا ہو تو آپ کا سامان اعلیٰ کوالٹی کے باوجود فروخت ہونے والا نہیں۔
ایسا ہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ اسلام بلاشبہ اپنی اصل صفات کے اعتبار سے لوگوں کا ایک مطلوب مذہب ہے۔ مگر اسلام اور اس کے مخاطبین کے درمیان مسلمان حائل ہو گئے ہیں۔ یہ حائل ہونا ان کے ذاتی کردار یا اعمال کے اعتبار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ اپنی متشددانہ تحریکوں کو اسلام کے نام پر چلاتے ہیں۔ وہ تنگ نظری اور عدم رواداری پر مبنی اپنی قومی تحریکیں چلاتے ہیں اور اس کو اسلامی تحریک کا نام دے دیتے ہیں۔ اسلام کے نام پر اٹھائی جانے والی یہی غیر اسلامی تحریکیں اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ اسلام کی تصویر کو بگاڑ کر غیر حقیقی طور پر لوگوں کو اس سے متنفر کر رہی ہیں۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کا آغاز جہاں سے ہوگا وہ یہ ہے کہ مسلمان یا تو دوسری قوموں کے مقابلہ میں اپنی حریفانہ اور متشددانہ تحریکوں کو ختم کر دیں یا کم ازکم ایسا کریں کہ وہ ان تحریکوں کو اسلامی تحریک کا نام نہ دیں بلکہ ان کو صرف قومی یا دنیوی تحریکیں بنائیں۔ مسلمان اگر ایسا کریں تو اسلام خود اپنی طاقت سے پھیلنے لگے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کا راستہ روکنے والی نہیں۔ جناب ابراہیم شیخ نیویارک میں رہتے ہیں ۔ اور الرسالہ کے پرانے قاری ہیں۔ نے اپنے علاقہ کی مسجد میں جمعہ کے دن ایک تقریر کا انتظام کیا۔ یہ ایک چار منزلہ مسجد ہے۔ بتایا کہ اس کی سب منزلیں پوری طرح بھری ہوئی تھیں اور ہر منزل پر مائیک کا بہت اچھا انتظام تھا۔ مسجد کی نسبت سے میں نے خالص دینی انداز میں آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر کی۔ اس میں کچھ حدیثیں سنائیں اور کچھ صحابہ کے واقعات بیان کیے۔ اور پھر ان کی سادہ تشریح کی۔ میرا حال یہ ہے کہ تقریر کے دوران میں خود اپنے آپ میں گم رہتا ہوں اس لیے مجھے حاضرین کے تاثر کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔
دہلی واپس آنے کے بعد نیو یارک سے جناب ابراہیم صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر بہت غیر معمولی تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ تقریر کے دوران تمام حاضرین رو رہے تھے۔ ایسا عجیب منظر تھا جو اس سے پہلے کسی تقریر میں ہم نے نہیں دیکھا تھا۔ میرا احساس یہ ہے کہ حدیث اور واقعات صحابہ کی صورت میں ہمارے پاس جو ذخیرہ ہے وہ ایسا ہے جو ذہنوں کو ہلا دے اور دلوں کو پگھلا دے۔ مگر عام واعظین اور خطباء اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ حدیث اور واقعات صحابہ کے ساتھ غیر متعلق چیزیں ملا دیتے ہیں۔ مثلاً شاعروں کے اشعار، موضوع روایات، بے بنیاد قسم کی پراسرار کہانیاں، وغیرہ۔ اس لاڈوٹ کی بنا پر ان کی تقریر میں اپنا اثر کھو دیتی اصلی باتوں کے ساتھ نکتہ فہمی باتیں اور حقیقت کے ساتھ افسانہ کی آمیزش کی یہ برائی پچھلی قوموں میں پیدا ہوئی جس کے نتیجہ میں ان کا دین بے اثر ہو کر رہ گیا۔ یہی خرابی اب خود مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر دیکھنے میں آ رہی ہے۔