روزہ کیا ہے
Al-Risala, January 1998, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ کے لیے اصل عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں رکنا (abstinence) روزہ میں چوں کہ آدمی کھانے پینے سے اور دوسری خواہشوں سے رک جاتا ہے، اس لیے اس کو صوم کا نام دیا گیا۔ اسلامی شریعت میں روزہ مسلسل ایک مہینہ تک کے لیے ہے۔ ہر سال قمری کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان کے مہینہ میں یہ روزہ رکھا جاتا ہے۔ سال میں ایک مہینہ کا یہ روزہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کو رکھنے کی طاقت رکھتا ہو۔
یہ روزہ رمضان کے مہینہ کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور مہینہ کی آخری تاریخ کو ختم ہوتا ہے۔ چوں کہ اس کا انحصار چاند دیکھنے پر ہے، اس لیے وہ کبھی ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور کبھی ۳۰ دن کا۔ صبح کو روزہ شروع کرنے سے پہلے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں۔ اس سحری کا وقت صبح صادق (morning twilight) کے ظہور تک رہتا ہے۔ روزہ توڑنے کے لیے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو افطار کہتے ہیں۔ اس کا وقت سورج ڈوبنے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ روزہ دار پر کھانے پینے وغیرہ کی جو پابندی ہے وہ صرف دن کے لیے ہے۔ رات کے وقت کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔
شام کو روزہ توڑتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے : خدایا، میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا اور تیری اجازت سے میں نے افطار کیا۔ یہ دعا روزہ کی روح کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند یہ پابندی پوری زندگی میں مطلوب ہے۔ رمضان کے مہینہ کا روزہ اسی پابند زندگی کی ایک سالانہ علامتی مشق ہے۔
اسلام کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان (Test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کو جو آزادی ملی ہے وہ اسی لیے ہے کہ وہ اس کو خود اپنی مرضی سے خدا کے حکموں کی پابندی میں استعمال کرے۔ آزادی کے اس پابند استعمال کے لیے آدمی کو اپنی خواہشوں پر روک لگانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے سلف کنٹرول کی استعداد درکار ہے۔ روزہ اسی سلف کنٹرول کی سالانہ تربیت ہے۔
کہ صبر کرنے والوں کو خدا کے یہاں بے حساب اجر دیا جائے گا (39.10)
بے حساب اجر کی یہی خوش خبری حدیث میں روزہ کے لیے بھی بتائی گئی ہے۔ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے نیک اعمال کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا (بے حساب) بدلہ دوں گا (بخاری و مسلم) بے حساب بدلہ کا استحقاق اصلاً صبر کے لیے ہے۔ صبر اسلام میں سب سے بڑی نیکی اور سب سے زیادہ قابل قدر صفت ہے۔ روزہ آدمی کو اسی صابرانہ زندگی کے لیے تیار کرتا ہے، اسی لیے روزہ پر بھی بے حساب انعام رکھ دیا گیا۔
پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ کسی کو گالی دے اور نہ کسی سے جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ " میں ایک روزہ دار آدمی ہوں "
یہی وہ چیز ہے جس کو صبر یا پابندی کہا گیا ہے۔ یعنی اشتعال کا موقع پیش آئے تو اس پر مشتعل نہ ہونا۔ دوسروں کے منفی رویہ کے باوجود اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔ کوئی شخص زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جوابی زیادتی سے بچانا۔
روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جو آدمی کو اسی ضبطِ نفس کے قابل بناتا ہے۔ کے اندر ضبطِ نفس آجائے اس کے اندر وہ طاقت آگئی جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو تھامے، جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو شریعت کی مقرر کی ہوئی اخلاقی حد پر باقی رکھے، اور صحیح اور مطلوب
روزہ میں کھانا اور پانی چھوڑنا علامتی طور پر غیر مطلوب چیزوں کو چھوڑنے کا سبق ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا کہ جو آدمی جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔