Al-Risala · August 1998

امتیاز نہیں

Al-Risala, August 1998, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر فاروق چشتی نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے ساتھ یہاں اس قسم کے تجربات نہیں گزرتے جن کو لوگ امتیازی سلوک کہتے ہیں۔ اس قسم کی بات یہاں بھی ہے اور وہ بلا تفریق ہر سماج میں ہمیشہ مختلف اسباب سے موجود رہتی ہے۔ مگر میرا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی میرے ساتھ اس قسم کا تجربہ پیش آتا ہے تو میں اس کو اپنی کی پر محمول کرتاہوں اوراس سے یہ سبق لیتا ہوں کہ مجھے مزید تیاری کر کے اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھانا چاہیے کہ کوئی مجھے نظر انداز نہ کر سکے۔ چنانچہ مجھے جس تجارتی ادارہ میں پہلے انٹرویو میں نہیں لیا گیا تھا، مزید تیاری کے بعد جب میں نے وہاں دوبارہ انٹرویو دیا تو وہ مجھ کو لینے پر مجبور ہو گئے ۔

یہی موجودہ دنیا میں صحت مند نقطہ نظر ہے ”امتیازی سلوک کا نظریہ صرف پست ہمتی اور بے حوصلگی پیدا کرتا ہے مگر مذکورہ نظریہ حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا لے۔ وہ بظاہر ناکامی میں بھی کامیابی کا نیا راز دریافت کر لے۔

Printed page