امریکی گاؤں
Al-Risala, August 1998, pp. 39–41
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے ” گاؤں “ میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ گاؤں کیا تھے۔ نہایت عمدہ سڑک کے کنارے دور دور عمدہ مکانات، ان کے درمیان پارک ، گاؤں میں ہر قسم کی جدید ترین سہولتیں اسی طرح موجود تھیں جس طرح شہروں میں ۔ یہاں شہر اور گاؤں میں صرف یہ فرق ہے کہ شہر میں تجارتی سرگرمیاں
ہیں اور گاؤں میں پرسکون زندگی۔ یہاں کے گاؤں کو انڈیا کے فارم ہاؤس پر قیاس کر سکتے ہیں۔ ہر گاؤں گویا بہت سے فارم ہاؤسوں کا ایک مجموعہ ہوتا ہے۔ ان گاؤں میں عمدہ سڑکوں پر صرف ۲۵ میل کی رفتار سے گاڑی چلانے کی اجازت ہے۔
ہندوستان میں گاؤں کا مطلب ہے ـــــ شہر کے مقابلہ میں پسماندہ بستی۔ اور امریکہ میں گاؤں کا مطلب ہے ـــــ شہر کے مقابلہ میں پرسکون بستی۔ ہندوستان کے شہروں میں امیر لوگ رہتے ہیں اور گاؤں میں غریب لوگ۔ مگرامریکہ کے گاؤں ، برعکس طور پر امیروں کی بستی کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ کسی ملک کی ترقی کا نشان اس کے شہر نہیں ہیں بلکہ اس کے گاؤں ہیں یہ دراصل ملک کے گاؤں ہیں جن کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں ترقی کا معیار کیا ہے۔ ترقیات کی جدید دنیا میں ہندوستان ابھی تک پچھڑا ہوا کیوں ہے اس کی واحد ذمہ داری ہماری لیڈر شپ پر آتی ہے۔ ہمارے لیڈر ، ۱۹۴۷سے پہلے بھی صرف سیاسی دھوم مچاتے رہے اور ۱۹۱۷ کے بعد بھی وہ بدستور سیاسی دھوم میں مشغول رہے۔ حقیقی ترقیاتی عمل کے لیے انھوں نے کچھ نہیں کیا اس طرح انھوں نے سو سال کی قیمتی مدت کھودی۔ جب کہ اسی سو سال میں امریکہ میں ترقی کا غیر معمولی عمل جاری رہا انھوں نے تعلیم اور سائنسی ریسرچ کو اپنا عملی میدان بنایا اس کے برعکس ہندستانی لیڈروں نے سیاسی دھوم بازی کو۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں ملکوں کے مستقبل کو ایک دوسرے سے مختلف بنا دیا۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں۔ میرے جیسے مسلمانوں کے لیے آپ کا پیغام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا پیغام صرف ایک ہے ـــــ آپ ون مین ٹو مشن کا مصداق بنیں۔ یعنی ڈارلکرما نے کوضرورت کا درجہ دیں اور دعوت کو اپنا مقصد حیات بنائیں ۔ معاش ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے ہر آدمی کو ہر حال اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے کمانا ہے۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے کسی حال میں مفر نہیں مگر کمانا آدمی کی ضرورت ہے نہ کہ آدمی کا مقصد۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کمانے کو صرف ضرورت کا درجہ دے اور جہاں تک زندگی کے مقاصد کا معاملہ ہے، وہ اعلیٰ تر اقدار کے حصول کو اپنا مقصد حیات بنائے۔ موجودہ دنیا میں یہ فرق بے حد مشکل ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب کے بعد پیدا
ہونے والے حالات نے دنیا کو اتنا زیادہ پرکشش بنا دیا ہے کہ لوگ اس پر اسی طرح ٹوٹ رہے ہیں جس طرح شمع کے اوپر پروانے ٹوٹتے ہیں۔ کاش آج کے انسان کو یہ بتایا جا سکے کہ تمہاری اس روش کا انجام بھی یقینی طور پر وہی ہے جو شمع پر ٹوٹنے والے پروانوں کا ہوتا ہے۔ یعنی وقتی راحت اور اس کے بعد ابدی تباہی۔