Al-Risala · August 1998

ہر چیز ایک سال میں

Al-Risala, August 1998, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مجلس میں یہ بات ہو رہی تھی کہ انڈیا اور پاکستان وغیرہ کے لوگ کیوں اپنے وطن سے بھاگ کر امریکہ آتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہاں ہر چیز فوراً مل جاتی ہے۔ امریکہ آئے ہوئے مجھ کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوئے اور آج یہ حالت ہے کہ میرے پاس فرنشڈ مکان ہے، بڑی گاڑی ہے، موبائل ٹیلی فون ہے وغیرہ، وغیرہ۔ اپنے وطن میں میرے لیے کبھی بھی ایک سال میں ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کو یہ چیزیں اس لیے نہیں ملتیں کہ آپ نے ایک سال کے اندر اتنا زیادہ پیسہ کمالیا کہ آپ اس قسم کی پر تعیش زندگی کی قیمت ادا کر سکیں۔ آپ جیسے لوگ یہاں آکر یہ کرتے ہیں کہ بینک سے سودی قرض لے کر فوراً ہر چیز حاصل کر لیتے ہیں اور اس کے بعد ساری زندگی سود سمیت اس کی قسطیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ اس لائف پیٹرن کی وجہ سے آپ لوگوں کو دن رات کمانا پڑتا ہے۔ تک کہ ہر آدمی حیوان کا سب بن جاتا ہے۔

میں نے یہاں کے بہت سے لوگوں سے باتیں کیں۔ میں نے محسوس کیا کہ مادی اعتبار سے ہر آدمی بظاہر اعلی زندگی حاصل کیے ہوئے ہے۔ مگر میرے تجربہ کے مطابق، لوگوں کے اندر اعلیٰ سوچ نہیں۔

اس لائف پیٹرن کی قیمت یہاں کے لوگوں کو یہ دینی پڑتی ہے کہ ان کی انٹلکچول لائف تقریبا ختم ہو جاتی ان کی کوئی علمی زندگی نہیں ہوتی۔ ان کا ذہن صرف کمانے کے سوال پر مرتکز ہو جاتا ہے۔ نام سے لوگ صرف پروفیشنل نالج کو جانتے ہیں۔ کیوں کہ اپنے پروفیشن سے باہر کی چیزوں کو پڑھنے اور جاننے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں۔

میں نے کہا کہ آپ جس چیز کو ترقی بتا رہے ہیں وہ نہایت مہنگی قیمت پر ملتی ہے۔ اور اگر آپ اس قسم کی مہنگی قیمت دینے کے لیے تیار ہوں تو خود اپنے ملکوں میں بھی ایسی ہی مادی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔ نفرت کی قیمت یمن کی ایک پندرہ سالہ عرب لڑکی جو امریکہ ہی میں پیدا ہوئی اور اب وہ ایک امریکی شہری ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم امریکہ کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہو۔ اس نے کہا کہ مجھے امریکہ سے نفرت ہے۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا تم یمن واپس جانا پسند کرو گی ۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ پھر پوچھا کہ تم امریکی لہجہ میں انگریزی بولتی ہو، تمہارا لباس امریکی لباس ہے۔ امریکی گاڑی، امریکی کھانا، امریکی فرنیچر، غرض ہر چیز میں تم امریکیوں کی نقل کرتی ہو، پھر بھی تم یمنی ہونے پر فخر کرتی ہو، امریکی ہونے پر تم کو فخر نہیں۔ وہ اس کا کوئی واضح جواب نہ دے سکی۔

یہی حالت تقریبا تمام امریکی مسلمانوں کی ہے۔ اور صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ ہر ملک کے مسلمان اسی - قسم کی منفی سوچ میں مبتلا ہیں۔ ہندوستان میں میری ملاقات حال میں ایک نوجوان سے ہوئی جو وہاں کے ایک اچھے اسکول میں پڑھتے ہیں۔ نوجوان سے گفتگو ہوئی تو فوراً ہی وہ ہندوؤں کو برا بھلا کہنے لگے ۔ سبب کیا ہے کہ ایک مسلم بچہ یا ایک مسلم نوجوان غیر مسلموں کے بارے میں نفرت اور شکایت کے جذبات لیے ہوئے ہے حالانکہ اس نے براہ راست طور پر اس طرح کی باتوں کا تجربہ نہیں کیا۔ اس کا ذریعہ مسلم معاشرہ ہے۔ اور نوجوان اپنے گھروں میں یا مسلم سماج میں ہمیشہ نفرت اور شکایت اور احتجاج کی باتیں سنتے ہیں۔ ان کے ذہن کو غیر مسلموں کی نسبت سے منفی بنا دیا ہے۔ اس منفی نفسیات کا سب سے بڑا نقصان خود مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔ غیر مسلم مسلمانوں کے لیے دعوتی حیثیت رکھتے تھے، ان کو اسلام کا پیغام پہنچانا تھا جو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی عبادت ہے۔ مگر وہ اس سب سے بڑی عبادت کے ثواب سے محروم ہیں۔ دعوت ایک خیر خواہی کا عمل ہے اور نفرت کے ساتھ کبھی خیر خواہانہ عمل جمع نہیں ہوتا۔

Printed page