آغاز کی تکمیل
Al-Risala, August 1998, pp. 48–49
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے زمانہ قیام میں کچھ ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو مغربی تہذیب کو تاریخ کی سب سے بڑی برائی بتاتے تھے اور اس کے خلاف بے تکان تقریر کرتے تھے۔ ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما عام طور پر یہی کہتے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کو ایک باطل تہذیب یا مسلم دشمن تہذیب کے روپ میں دیکھتے ہیں مگر یہ صرف سطحی مطالعہ کا نتیجہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ مغربی تہذیب میں کچھ واضح برائیاں ہیں۔ مثلاً شراب، مگر اس قسم کی بعض خرابی ہر تہذیب میں پائی جاتی ہے۔ کسی تہذیب کی قدر و قیمت متعین کرنے کے لیے اس کو مجموعی اعتبار سے دیکھنا چاہیے نہ کہ محدود اعتبار سے۔
میں نے اس معاملہ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میرے نزدیک جدید مغربی تہذیب خود اسلامی تہذیب
ہی کے نتائج میں سے ایک نتیجہ ہے۔ انسانی زندگی میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ تدریجی طور پر سیکڑوں سال کے عمل کے نتیجہ ہی میں پیش آتی ہیں۔ دور اول میں جو اسلامی انقلاب آیا اس کا ایک عظیم کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار بہت سی اعلی انسانی قدروں کا آغاز کیا۔ یہ تبدیلی تاریخی پر اس کے طور پر مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ وہ مغربی تہذیب کی صورت میں اپنے عروج پر پہنچی۔ مثلاً مذہبی آزادی، جمہوری سیاست، غلامی کا خاتمہ، فطرت کی تسخیر، بین اقوامی انسانی تعلقات، انسانی مساوات، قانونی حکمرانی، وغیرہ اسلام کے اولیات میں داخل ہیں۔ ان تمام چیزوں کا آغاز اسلام نے کیا اور پھر تاریخی عمل سے گزر کر وہ اپنے موجودہ تکمیلی مرحلے تک پہنچا۔
مغربی تہذیب کے ساتھ ہمارا معاملہ نفرت اور عداوت کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حدیث کے تحت ہونا چاہیے کہ : الحكمة ضالة المؤمن اين وجدها فهو احق بها۔