انسانی رعایت
Al-Risala, August 1998, pp. 49–51
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے سفر کے لیے میں ۴ فروری ۱۹۹۸ کی رات کو سوئس ایر کے ذریعہ روانہ ہوا۔ ۱۷فروری ۱۹۹۸کو ہوئی ۔ ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے اب میں اپنی عمر کے ۷۸ سال میں ہوں۔ اس اعتبار سے اب مجھے سفر میں مددگار کی ضرورت ہوتی ہے۔ دہلی سے جاتے ہوئے جناب حبیب محمد صاحب کا ساتھ تھا ان کی وجہ سے سفر میں کافی مدد ملی، مگر واپسی میں مجھے تنہا آنا پڑا۔
۱۶ فروری کو جب میں واشنگٹن ایر پورٹ واپسی کی فلائٹ لینے کے لیے پہنچا تو میں سخت خاص طور پر یہ کہ نیویارک (سوئٹزرلینڈ) میں جہاز بدلنا ہوگا۔ نیویارک کا ایر پورٹ بہت بڑا میں گھبرایا ہوا تھا کہ نیویارک کے مراحل کس طرح طے ہوں گے۔ مگر عملاً یہ میری زندگی کا آسان ترین سفر بن گیا۔
خواجہ کلیم الدین صاحب نیویارک میں رہتے ہیں۔ وہ مجھے پہنچانے کے لیے واشنگٹن ایرپورٹ پر آئے تھے۔ انھوں نے یہ کیا کہ ایر پورٹ پر میرا بورڈنگ کارڈ لیتے ہوئے یہ لکھوا دیا کہ میں ایک سنیئر سٹی زن ہوں (یہ لوگ بوڑھے آدمی کے لیے سینیر سٹی زن کا لفظ استعمال کرتے ہیں) اس کے بعد میں ایر لائن کا خصوصی مہمان بن گیا۔ میں ابھی جہاز کے اندر ہی تھا کہ ایر پورٹ کے عملے کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ آپ مسلن ہیں نیویارک ایر پورٹ پر ہم نے پیغام بھیج دیا ہے اور وہاں آپ کی مدد کے لیے ہمارے آدمی موجود ہوں گے۔
جہاز اپنے وقت پر نیویارک ایئر پورٹ پر اترا۔ میں جہاز کے دروازے سے نکل کمر باہر آیا تو وہاں بیٹری سے چلنے والی ایک خوب صورت گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ ایک خاتون نے میرا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ اس کے بعد وہ گاڑی مجھے لے کر روانہ ہوئی، کچھ دور چل کر ایک بڑی لفٹ کا دروازہ کھلا، اس لفٹ نے مجھے گاڑی سمیت اوپر کی منزل پر پہنچادیا۔ یہاں ہال کی مانند ایک وسیع کمرہ میں مجھے داخل کیا گیا ۔ اس کمرہ میں ہر قسم کی سہولت کا سامان موجود تھا۔ اس کے وسیع دیواری شیشہ کے باہر فطرت کا خوب صورت منظر مزید اضافہ کے ساتھ برائے مشاہدہ موجود تھا۔ یہاں کئی گھنٹے تک میں نہایت سکون کے ساتھ آرام دہ گدے پر سوتا رہا۔ جب اگلے جہاز کا وقت قریب آیا تو دوبارہ ایئر پورٹ کی ایک خاتون آئیں اور مجھ کو لے جا کر جہاز کے اندر بٹھادیا۔ دہلی ایئر پورٹ پر اترا تو دوبارہ ایک ائیر ہوسٹس آئی۔ اس نے کہا کہ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھے رہیں ہم یہاں بھی آپ کے لیے انتظام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ دہلی میرا وطن ہے۔ یہاں ان شاء اللہ میں خود اس کو مینج کر لوں گا۔ آپ کا شکریہ۔
دہلی میں جب میں اپنے گھر پہنچا تو گھر والوں نے کہا کہ آپ تو اس طرح تازہ دم معلوم ہو رہے ہیں جیسے کہ آپ امریکہ سے نہیں آ رہے ہیں بلکہ قریب کے محلے سے آ رہے ہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ ایک پر اسرار لفظ کی کرامت تھی۔ یہ لفظ ہے ــــــ سینیر سٹی زن۔
معذوروں کی مدد کرنا ہر زمانہ میں پایا جاتا رہا ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں اس کی حیثیت زیادہ تر ایک انفرادی اخلاقی صفت کی ہوتی تھی۔ جدید تہذیب نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ اس کو ایک باقاعدہ انسٹی ٹیوشن یا سماجی تصور کی حیثیت دے دی۔ جن لوگوں نے مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کا سفر کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ان ملکوں میں بوڑھے اور معذور لوگ ” وی، آئی، پی، کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے لیے ہر جگہ خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی کی ایک مثال وہ تھی جو میرے ساتھ نیویارک ایئر پورٹ پر
1 C 4015 slef Exvrey - Eylt # 27 T/c Jamaik - Heanslead 1st left tur - c-lown R/T Next + 93 rd Rd - 50 R/T 224-27 9rd Rd.
مولانا وحید الدین خاں سیرت پاک کا علمی اور تاریخی مطالعہ مولانا وحید الدین خاں وحید الدین خاں دارالوط اشاعت الاسلام، دلی دارالوطن اشاعت اسلام، دلی مولانا وحید الدین خاں اپنے آپ کو پہچان مولانا وحید الدین خاں مولانا وحید الدین خاں احادیث اور آبار کی روشنی میں مولانا وحید الدین خاں دارالوطن اشاعت اسلام، دلی AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, Near DESU, New Delhi-110 013 Tel. 4611128, 4611131 Fax 91-11-4697333