جنت والے
Al-Risala, September 1998, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں لے جائے گی۔ آپ نے جواب دیا کہ اللہ کا تقوی اختیار کرنا اور بہتر اخلاق (سئل رسول الله ﷺ عن اكثر ما يدخل الناس الجنة- قال تقوى الله وحسن الخلق) الترمذي۔ کسی آدمی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں ایسی زندگی گزارے کہ جب وہ مر کر اگلی دنیا میں پہنچے تو وہاں اس کو جنت میں رہنا نصیب ہو، وہ وہاں ابدی خوشیوں کی زندگی پاسکے۔ کامیاب زندگی کا راز اس حدیث میں بتایا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں پہلی چیز تقوی کی روش ہے۔ یعنی خدا کو بڑا مان کر اس سے ڈرتے رہنا۔ آپ کو خدا کے سامنے جوابدہ سمجھنا۔ یہ یقین کرنا کہ میں کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں میرے کھلے اور چھپے تمام احوال خدا کے علم میں ہیں۔ میری کوئی بھی تدبیر مجھ کو خدا سے بچانے
یہ یقین جس آدمی کے دل میں آجائے اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ وہ آزاد زندگی کو چھوڑ کر پابند زندگی اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر معاملہ میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دارانہ روش سے بچاتا ہے۔ اور ذمہ دارانہ روش کو اختیار کرتا ہے۔ یہ عقیدہ اس سے گھمنڈ اور انانیت جیسے جذبات کو چھین لیتا وہ ہر معاملہ میں خدا کا فرماں بردار بندہ بن جاتا ہے۔
جنتی انسان کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس کا کردار جنتی کردار بن جاتا ہے۔ درمیان وہ اسی دنیا میں اس طرح رہنے لگتا ہے جس طرح آخرت میں جنت کے باشندے آپس میں اس کے دل میں لوگوں کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس کی زبان میٹھے بول سے تر رہتی ہے۔ وہ لوگوں سے اس طرح ملتا ہے جیسے ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی سے ملے۔ دوسروں سے معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف پر قائم رہتا ہے۔ جب بھی وہ لوگوں سے کوئی معاملہ کرتا ہے تو اس وقت اخلاقی اور انسانی اصول اس کے رہنما ہوتے ہیں نہ کہ محض ذاتی مفادات۔