نیکی کرنا
Al-Risala, September 1998, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں زندگی کے جو اصولی احکام بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ نیک کام کرے کیوں کہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لئے إِن الحسنات يذهبن السيأت ذٰلِكَ ذكرى للذاكرين ہو داد۔
موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے انسان سے بار بار کوئی غلطی یا برائی ہو جاتی ہے کبھی خدا کی نسبت سے اور کبھی انسان کی نسبت سے۔ آدمی کے لئے یہ ممکن نہیں ہو تاکہ جو غلطی یا برائی اس سے ہوئی ہے وہ اس کو مٹا کر ختم کر دے۔ ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہئے، اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ آدمی سے جب کوئی برائی سرزد ہو جائے تو اس کے بعد وہ نیکی کا کوئی کام اس طرح اس کی غلطی کی تلافی ہو جائیگي۔ اس کا اچھا عمل اس کے برے عمل کو ڈھانپ لے وہ اس کو ایسا کر دے گا گویا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔ خدا کی عبادت میں اگر کمی ہو جائے تو آدمی کو چاہئے کہ وہ مزید عبادت کر کے اس کی تلافی کرے۔ وہ خدا کے لئے مزید بندگی اور وفاداری کا عمل انجام دے کر خدا کی رحمت کو دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرلے۔ اس طرح وہ دوبارہ اطمینان قلب کا درجہ حاصل کرلے گا۔
انسان کی نسبت سے اگر کوئی غلطی واقع ہو تو اس کی تلافی کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً اگر آپ نے کسی کو برا کہہ دیا یا اس کو گالی دیدی تو آپ کو چاہئے کہ اس سے مل کر اس سے معافی مانگیں اور تعلقات کو دوبارہ معتدل بنائیں۔ غلطی پر معافی مانگنا بیک وقت اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو احساس گناہ کی شرمندگی سے بچا لیتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ نے جس آدمی کے دل کو تکلیف پہنچائی ہے اس کی شکایت کو رفع کرنے کا سب سے زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ اسی طرح برائی کے بعد نیکی کرنے کی ایک اور صورت یہ ہے کہ اس کے لئے مال خرچ کیا جس آدمی کے ساتھ برائی کا فعل ہوا ہے اس کو تحفہ دینا یا مالی مدد پہنچانا۔ اس کے نام پر مال کا اگر آپ نے کسی کو مالی نقصان پہنچایا ہے تو نقصان کے بقدر اس کی تلافی کرنا، وغیرہ۔