عافیت کاراز
Al-Risala, September 1998, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کے ایک صحابی حضرت عمیر بن حبیب بن حماشہ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جو آدمی نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا۔ اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا(من لا یرضی بالقلیل مما یاتی به السفيه يرضى بالكثير) الطبرانی۔ موجودہ دنیا ہر قسم کے انسانوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں اگر اچھے لوگ ہیں تو اسی کے ساتھ برے لوگ اور نادان لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ امتحان کی مصلحت کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کو آزادی حاصل ہے۔ اس لئے موجودہ دنیا میں حالات کبھی معتدل نہیں رہتے۔ بار ایک کو دوسرے سے شکایت پہنچتی ہے۔ یہاں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے لئے کسی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ سب ہنگامہ حیات کا نتیجہ ہے۔ اس سے بچنا کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔
اب ایک شخص وہ ہے کہ جب اس کو کسی سے تکلیف پہنچے تو وہ فورا اس کا بدلہ لینے کے لئے کھڑا ہو جائے۔ وہ تکلیف پہنچانے والے کو سبق دینا چاہے۔ مگر موجودہ دنیا میں اس قسم کی جوابی کاروائی کا نتیجہ مزید برائی کے سوا اور کچھ نہیں۔
یہاں عقل مند وہ ہے جو چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لے تاکہ وہ بڑی تکلیف سے بچ سکے۔ تکلیف ہمیشہ چھوٹی تکلیف ہوتی ہے اور دوبارہ پیش آنے والی تکلیف زیادہ بڑی تکلیف۔ اس لئے ابتدائی تکلیف کو برداشت کر لینا اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بڑے شر کے مقابلہ میں چھوٹے شر کو گوارہ کرنا ہے۔ موجودہ دنیا میں انتخاب چوائس) بے شر اور شر کے درمیان نہیں ہے بلکہ چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان ہے۔ ایسی حالت میں چھوٹے شر کو گوارہ کر لینا عقل مندی ہے نہ کہ بے شر کی طرف دوڑنا، کیوں کہ بے شر حالت اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔
یہ فطرت کا اصول ہے۔ اور اس دنیا میں کوئی کامیابی فطرت کی پیروی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے نہ کہ اس سے انحراف کے ذریعہ۔