تالیف قلب
Al-Risala, September 1998, pp. 15–17
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں زکوٰۃ کی ۸ مدیں بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک مد وہ ہے جن کے لیے تالیف قلب کا لفظ آیا ہے (التوبہ : ۶۰) اس سے مراد ہے الفت یا دل جوئی کے لیے خرچ کرنا۔ یہ مد اصلاً غیر مسلموں کے لیے رکھی گئی ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ اسلام کی طرف مائل ہو سکیں۔
تالیفِ قلب سے مراد صرف مال خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل اصول ہے جو دعوتی عمل میں مختلف پہلوؤں سے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں دعوتی دل جوئی کہا جا سکتا ہے۔ دل جوئی کی چند مثالیں یہ ہیں :
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ فرعون سے نرم انداز میں اپنی بات کہنا فقولا لہ قولاً لیناً ط ۴۴ حضرت موسیٰ کو یہ ہدایت فرعون کے مقابلہ میں دی گئی جو کہ معلوم طور پر ایک سرکش انسان تھا۔ اس لحاظ سے اس حکم کا مطلب یہ ہوا کہ مخاطب (یا مدعو) خواہ سرکشی کرے، خواہ وہ اشتعال انگیز انداز اختیار کرے، داعی کو ہر حال میں نرم انداز میں گفتگو کرنا ہے۔ اس کو ایک طرف طور پر اپنے آپ کو اس کا پابند بنانا ہے کہ وہ مدعو کی سخت کلامی کا اثر نہ لیتے ہوئے اپنی بات ٹھنڈے طریقے سے کہے گا، وہ کسی حال میں بھی ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہیں کرے گا۔
قرآن میں اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں : قل یا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله (آل عمران (۶۴) یعنی اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے ، یہ کہ ہم عبادت نہ کریں سوا ایک اللہ کے۔ یہ انداز کلام بھی تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ اس آیت میں کلمہ سواء کا لفظ تقریب کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ مخاطب دعوت کو اجنبی سمجھ کر اس سے متوحش نہ ہو بلکہ اسے خود اپنی ایک چیز سمجھ کر اس کو قبول کرے ــــــــ یہ دوری کو قربت میں تبدیل کرنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔
وگوبایشاں سخن موثر در دل ایشاں ۔ یعنی ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دل پر اثر کرنے والی ہو، جو ان کے اندر تک اتر جائے۔
قرآن کی یہ آیت منافقین کے ذیل میں آئی ہے جو کہ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ اس اعتبار سے اس حکم کا مطلب یہ ہوا کہ فریق ثانی خواہ تمہارے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں میں مشغول ہو، تب بھی تم اعتدال کا رویہ نہ چھوڑو۔ تم ان کے رویہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر حال میں ان کے خیر خواہ بنے رہو۔ تم جب بھی ان سے خطاب کرو تو ایسے بہترین اسلوب میں خطاب کرو جو ان کو اپیل کرنے والا ہو، جو ان کو تمہارے قریب لائے، نہ کہ اور زیادہ تم سے دور کر دے۔ ۴- تالیف قلب کی ایک رہنما مثال وہ ہے جو ہجرت کے بعد یہود کے معاملہ میں اختیار کی دین اسلام میں کعبہ کو عبادت کا قبلہ مقرر کیا گیا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے تو وہاں آپ نے بیت المقدس کو اپنا قبلہ عبادت بنا لیا جو کہ یہود کا قبلہ تھا۔ ۱۶ یا ۱۷ ماہ تک آپ اور تمام مسلمان اسی کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے یہاں تک کہ نیا حکم آیا اور آپ نے دوبارہ کعبہ کو اپنا مستقل قبلہ بنا لیا (فتح الباری ۲۱/۸)
پیغمبر اسلام نے کیوں ایسا کیا کہ وہ تقریبا ڈیڑھ سال تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رہے اس کا سبب تالیف قلب تھا۔ آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ یہود آپ سے اجنبیت کے بجائے قربت محسوس کریں اور اس طرح اسلام کے دائرہ میں آنا ان کے لیے آسان ہو جائے (فاختار القدس طمعًا في ايمان اليهود و استعمالتهم) تفسیر القرطبی ۱۵۰/۲ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تالیف قلب یا دل جوئی کا مطلب کیا ہے۔ یہ دعوتی اسلوب کا لازمی تقاضا ہے۔ داعی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ناصحانہ اور حکیمانہ انداز میں اپنے مدعو تک اس بات کو پہنچائے جس کو وہ کامل حق سمجھتا ہے۔ یہ پہنچانا سادہ طور پر صرف اعلان کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ اخلاص اور خیر خواہی کے انداز میں ہوتا ہے۔ دعوت کا یہ پہلو داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ تالیف قلب کی تمام شرطوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ادا کرے ۔
تالیفِ قلب کی کوئی ایک یا چند متعین صورت نہیں۔ داعی کا مزاج اور زمانہ کے حالات کے لحاظ سے اس کی مختلف اور متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں۔ داعی کے اندر اپنے مدعو کے لیے خیر خواہی کا جذبہ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ہر طرح مدعو کی رعایت کرے گا، وہ ہر موقع پر خود ہی یہ جان لے گا کہ اسے اپنے مدعو کو راہ راست پر لانے کے لیے کیا اور کس طرح کرنا چاہیے۔
دعوت در اصل مدعو کے حق میں محبت اور خیر خواہی کا اظہار ہے۔ سچا داعی وہ ہے جو اپنے جذبات سے زیادہ مدعو کے جذبات کا لحاظ کرے۔ جو اپنی مصلحتوں پر مدعو کی مصلحت کو مقدم بنائے۔ جو اپنے وقار کو نظر انداز کر کے مدعو کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرے۔ اس یک طرفہ کردار کے بغیر دعوتی کام کی انجام دہی ممکن نہیں۔
ایک شخص کیچڑ میں پھنسا ہوا ہو اور آپ اس کو اس سے نکالنا چاہیں تو یقینی طور پر آپ کے دامن پر بھی کیچڑ کے کچھ نہ کچھ چھینٹے آ جائیں گے۔ یہی معاملہ داعی اور مدعو کا بھی ہے۔ داعی جب مخلصانہ طور پر مدعو کو اس کی برائیوں سے بچانا چاہے اور تالیف قلب کی حد تک اس کی اصلاح کا حریص ہوجائے تو اس کے ساتھ بھی لازماً اس طرح کے معاملات پیش آئیں گے۔ مدعو کو بچانے کی کوشش میں جب وہ اس کے قریب جائے گا تو بظاہر اس کا دامن بھی کہیں نہ کہیں ملوث ہوتا ہوا دکھائی دے گا مگر داعی کے لیے یہ سب کچھ عین ثواب ہے۔ اس قسم کی چیزیں داعی کے مقام کو خدا کی نظر میں بڑھانے والی ہیں نہ کہ کسی بھی درجہ میں اس کے مقام کو گھٹانے والی۔