Yes, equal but different.
Al-Risala, September 1998, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ کوئی تعصب اور امتیاز کی بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک یونیورسل اصول ہے۔ وہ ہر سماج میں رہتا ہے، حتی کہ خالص اسلامی سماج میں بھی۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں اعلان فرمایا کہ تمام انسان برابر ہیں۔ مگر اس کے ڈھائی ماہ بعد جب آپ کی وفات ہوئی تو خلافت کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ قریش خلیفہ ہوں گے اور انصار وزیر اور مشیر (نحن الامراء وأنتم الوزراء) برابری کے باوجود عملی بندوبست میں یہ فرق ہمیشہ رہے گا۔ عورت اور مرد انسانی رتبہ کے اعتبار سے برابر ہیں مگر انتظامی تقسیم میں دونوں کے درمیان فرق ہے۔ امام اور مقتدی رتبہ کے اعتبار سے یکساں ہیں مگر عملی اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ سردار اور غیر سردار دونوں رتبہ کے اعتبار سے یکساں ہیں مگر عملی پہلو سے دونوں میں فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔
یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ کوئی بھی شخص اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ اس دنیا میں جو لوگ پیدا کیے جاتے ہیں، ان میں ہمیشہ استعداد اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ ایک ایسی ابدی حقیقت ہے جو ہمیشہ سے اس دنیا میں ہے اور وہ آخر وقت تک یہاں باقی رہے گا ایسی حالت میں ہمارا کام فرق کو مٹانا نہیں ہے ، بلکہ فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے سماجی اور قانونی اعتبار سے سب کو یکساں درجہ دینا ہے۔ فرق کو مٹانا ممکن نہیں۔ البتہ اس کو سماجی امتیاز تک پہنچنے سے روک دینا ممکن ہے ، اور ہمیں یہی دوسرا کام کرنا چاہیے۔ جس سماج میں اس فطری حقیقت کو مانا جائے وہ سماج کامیاب ہوگا۔ اور جس سماج کے لوگ اس فطری حقیقت کو تسلیم نہ کریں وہ سماج تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گا۔ کیوں کہ فطرت کی قائم کی ہوئی حقیقتوں کو بدلنا کسی کے بس میں نہیں۔
اگر آپ کے راستہ میں ایک ابھری ہوئی چٹان ہو تو چٹان سے لڑکر اس کو زمین کے برابر کرنے کی کوشش نہ کیجئے۔ بلکہ اس سے کتراتے ہوئے اس کے دائیں بائیں کی طرف سے اپنا راستہ نکال لیجئے ۔
اس اصول کو انسانی زندگی میں اختیار کرنا انسان کے آگے جھکنا نہیں ہے بلکہ وہ خدا کے آگے جھکنا ہے۔ یہ کسی انسان سے موافقت نہیں بلکہ خود خدا سے موافقت ہے۔ ایسے موقع پر موافقت کی روش کو وقار کا مسئلہ بنانا گویا خدا کے آگے سرکشی کرنا ہے ، اور کون ہے جو خدا کے آگے سرکشی کر کے اس دنیا میں کامیابی حاصل کر سکے۔