Hope is back in America.
Al-Risala, September 1998, pp. 42–46
By Maulana Wahiduddin Khan
کلنٹن نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہمیں تعلیم کی ہر سطح پر امتیاز (excellence) کو اپنا نشانہ بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مذہبی آزادی میں یقین رکھتا ہوں۔ تقریر کی آزادی میں یقین رکھتا ہوں۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ لوگ محنت کے ساتھ کام کریں اور قانون کی پوری پابندی کریں :
I believe in religious liberty, I believe in freedom of speech, and I believe in working hard and abiding by the rules. ۳۰ اگست کو نماز جمعہ کے بعد تقریر سے فارغ ہوا تو ایک نوجوان الگ سے آکر ملے۔ انھوں نے کہا کہ میری بہن کی عمر ۳۰ سال ہو چکی ہے۔ مگر ابھی تک ان کا رشتہ نہ ہو سکا آپ ان کے لیے کوئی دعا لکھ دیں۔ میں نے دل میں دعا کی کہ خدایا اس خاتون کا کوئی مناسب رشتہ ہو جائے۔ پھر ان کو کاغذ پر ایک آیت لکھ کر دی اور کہا کہ اس کو فجر کے بعد دس بار، اور عشاء کے
بعد دس بار پڑھ لیا کریں۔ وہ یہ ہے : رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر (القصص - القصص:۲۴) ۲۹ اگست کی شام کو ہم لوگ نیو یارک کے ساحل اٹلانٹک کو دیکھنے کے لیے گئے۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر ہے۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ کیسی عجیب نشانی ہے کہ سمندروں کے پانی میں نمک ملا دیا گیا ہے۔ نمک ایک محفوظ رکھنے والا عنصر (preservative) ہے۔ اس کی وجہ سے سمندر کا پانی خراب ہونے نہیں پاتا۔ اب دوسرا سوال یہ تھا کہ انسان نمکین پانی کو استعمال نہیں کر سکتا، اس کو میٹھا پانی چاہیے ۔ یہ ضرورت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ پانی ہلکا عنصر ہے اور نمک اس کے مقابلہ میں بھاری ہے۔ چنانچہ گرمی کے موسم میں سمندر کا پانی بھاپ بن کر اڑتا ہے تو نمک نیچے رہ جاتا ہے اور صرف پانی نکل کر اوپر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد دھوپ اور ہوا اور زمینی کشش کے زیر اثر یہ غیر نمکین میٹھا پانی بارش کی صورت میں برستا ہے اور دوبارہ زمین پر آکر انسان کی ضرورت پوری کرتا ہے۔
دو متضاد تقاضوں میں یہ توازن اتفاقی طور پر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی قادر مطلق ذہن ہو جو عالمی سطح پر اس کی منصوبہ بندی کرے۔ اس طرح کے بے شمار واقعات کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں جو تمام آوازوں سے زیادہ بلند آواز میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق اور ناظم ہے۔ اس کے بغیر نہ دنیا بن سکتی اور نہ وہ قائم رہ سکتی۔ ہمارے سامنے یہاں کا مشہور پل (suspension bridge) ہے جو اٹلانٹک کے دو جزیروں لانگ آئی لینڈ اور اسٹر پن آئی لینڈ کو ملاتا ہے۔ یہ ایک لٹکا ہوا پل ہے جو لوہے کے رسوں پر قائم کیا گیا ہے۔ وہ ایک کلومیٹر لمبا ہے۔ انڈیا میں اس کی مثال ہگلی کا پل ہے جو ہاوڑہ
اٹلانٹک کے ساحل پر دیر تک بیٹھ کر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ ہمارے یہاں آج کل عبادت کے مختلف ماڈل رائج ہو گئے ہیں ۔ سلفی ماڈل ، وغیرہ۔ مگر یہ سب کے سب فارم میں فرق کی بنیاد پر بنے ہیں۔ ایک سیٹ آف فارم ان کا ہے اور دوسرا سیٹ آف فارم اُن کا۔ مگر عبادات میں اصل چیز اس کی داخلی اسپرٹ ہے، اور اس پر زور کسی کے یہاں بھی نہیں ۔
نیو یارک گویا امریکہ کا بمبئی ہے۔ بمبئی کے مقابلے میں یہاں کم از کم دس گنا زیادہ کاریں ہوں گی۔ ان میں تقریباً ۹۹ فی صد بڑے سائز کی گاڑیاں ہیں۔ مگر نیو یارک میں بمبئی کے مقابلے میں بہت کم اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہاں کی گاڑیوں میں ایک کنورٹر (converter) لگا ہوتا پٹرول جلنے کے بعد اس سے دھواں (گیس) نکلتا رہتا ہے۔ کنورٹر یہ کرتا ہے کہ وہ مضر گیس کاربن مونوساکسائڈ (carbon monoxide) کو کم مضر گیس کاربن ڈائی آکسائڈ (carbon dioxide) میں تبدیل کر دیتا ہے۔ گاڑی کے چلنے کے دوران اس کے اندر یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ ۳۰ اگست کو جمعہ تھا۔ پروگرام کے مطابق مجھے مسلم سنٹر نیو یارک میں جمعہ کا خطبہ دینا تھا اور نماز ہم لوگ ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہو کر ڈیڑھ گھنٹہ میں وہاں پہنچے۔ خطبہ میں مسنون عربی مضمون کے ساتھ میں نے انگریزی میں نماز کی بابت کچھ باتیں کہیں۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ نماز کا ایک ظاہری پہلو ہے اور دوسرا اس کا داخلی پہلو ہے۔ دونوں کی اہمیت ہے۔ اور نماز کا حقیقی فائدہ اس وقت مل سکتا ہے جب کہ نماز کی ظاہری ہیئت بھی اچھی طرح ادا ہو، اور اس کی داخلی اسپرٹ (خشوع) بھی پوری طرح پائی جائے ۔
خطبہ کا وقت ہونے لگا تھا۔ میں خطبہ ختم کر کے منبر سے اترا کہ نماز پڑھاؤں اس وقت مرکز کے ذمہ دار آگئے۔ انھوں نے کہا کہ خطبہ چند منٹ پہلے ختم ہو گیا ۔ کچھ لوگ جو دفاتر میں کام کرتے ہیں وہ خطبہ میں شریک نہیں ہو پاتے ۔ وہ ٹھیک ڈیڑھ بجے آتے ہیں تاکہ تکبیر اولی کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جائیں۔ آخر یہ طے ہوا کہ نماز میں قرائت لمبی کی جائے تاکہ کم از کم جماعت میں ان کی شرکت ہو جائے ۔
اس تجربہ کے بعد سنن ابی داؤد کی وہ روایت میری سمجھ میں آئی جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : من زار قوما فلا يمتهم ولیؤمهم رجل منهم (جو شخص کسی قوم میں جائے وہ ان کی امامت نہ کرے۔ خود ان کا اپنا آدمی امامت کرے)
اس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ مقامی آدمی جو پہلے سے نماز کی امامت کر رہا ہے وہ وہاں کے حالات کو بخوبی جانتا ہے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھا سکتا ہے۔ جب کہ باہر کا آدمی مقامی حالات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کوئی ایسی بات کر سکتا ہے جو مقامی صورت حال
سے مطابقت نہ رکھتی ہو اور اس کی وجہ سے غیر ضروری طور پر کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے۔ نماز جمعہ کے بعد دوبارہ مسجد میں ایک خطاب ہوا۔ اس خطاب میں آخرت اور جہنم سے متعلق کچھ حدیثیں پیش کیں اور ان کی تشریح کی۔
۲۱ اگست کو ظہر کی نماز کے بعد نیو یارک سے فلا ڈلفیا کے لیے روانگی ہوئی۔ دریا کے نیچے لمبی ٹنل تھی۔ میرے ساتھی نے کہا: "ہمارے یہاں پانی کے اوپر سے سفر ہوتا ہے یہاں پانی کے نیچے سے سفر ہو رہا ہے۔ یہ ۸۰ میل کا سفر تھا۔ پورا سفر جنان عن یمین وشمال (سبا-۱۵) کا منظر پیش کر رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف سر سبز قدرتی مناظر اور ان کے درمیان جگہ جگہ خوب صورت مکان، سڑک نہایت عمدہ اور اس کے اوپر پھسلتی ہوئی زرق برق گاڑیاں۔ پورا سفر ایک مسحور کن ماحول میں ہوا۔
آخر کار ہم لوگ بنسلیم (Bensalem) پہنچے جو فلا ڈلفیا کی ریاست میں واقع ہے۔ سب سے پہلے ہم لوگ جناب رئیس احمد انجینئر کی رہائش گاہ پر اترے۔ یہ ایک نہایت مرصع اور پرکشش مکان تھا۔ یہ تمام مناظر ذاتی طور پر تو میرے لیے کوئی کشش نہیں رکھتے تھے۔ کیوں کہ میں طبعی طور پر سادگی کا دلدادہ ہوں۔ میرے لیے ساری کشش صرف سادگی میں ہے۔ مگر ہمارے ایک پاکستانی ساتھی نے کہا کہ یہ چیزیں بھلااپنے ملک میں کہاں ہیں، اسی لیے تو ہمارے نوجوان دیوانہ ہو کر امریکہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
مغرب کی نماز ہم لوگوں نے فلاڈلفیا کی مسجد فرنٹ اسٹریٹ میں پڑھی۔ یہاں مسجد میں میرا خطاب رکھا گیا تھا۔ میں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلام کا مقصد تعمیر شعور اور میکر بلڈنگ اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف مین ہے نہ کہ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ یا اور کچھ۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک پاکستانی مسلمان سے میں نے پوچھا کہ امریکہ میں آپ لوگوں کے لیے پلس پوائنٹ کیا ہے اور مائنس پوائنٹ کیا۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ ہماری فرسٹ جنریشن تو اپنی آئیڈینٹی باقی رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ مگر سیکنڈ جریشن اور اس کے بعد کی جریشن کے لیے اپنی آئیڈینٹی کو باقی رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ میں نے کہا کہ انسان تقابل کے تحت ایک کو لیتا ہے اور دوسرے کو چھوڑتا ہے۔
آپ نے پاکستان اور امریکہ کا تقابل کیا تو امریکہ آپ کو اقتصادی اعتبار سے بہتر نظر آیا۔ آپ پاکستان کو چھوڑ کر یہاں آگئے۔ اسی طرح آپ کی اگلی جنریشن اسلامی آئیڈنٹٹی پر اس وقت باقی رکھ سکے گی جب کہ اس کو امریکی کلچر کے مقابلہ میں اسلامی کلچر زیادہ اعلیٰ دکھائی دے گا۔ کام موجودہ نسل کو کرنا ہے۔ مگر موجودہ نسل ڈالر کمانے میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اسے کسی اور کام کی فرصت نہیں۔
۳۱ اگست کی رات جناب فضل الرحمن صاحب کے مکان پر گزاری۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۷۳ء میں جب میں یہاں آیا تو کافی تلاش کے بعد میں نے ایک سروس حاصل کی۔ مگر اتفاق سے اس کے چند ہی دن کے بعد عید آگئی۔ میں نے چاہا کہ میں عید منانے کے لیے آفس سے ایک دن کی چھٹی لوں۔ میرے تمام دوستوں نے منع کیا کہ ابھی تو تم نے سروس جوائن کی اور ابھی تم چھٹی مانگو گے تو وہ چھٹی نہیں دیں گے بلکہ فائر کر دیں گے (سروس ختم کر دیں گے)، مگر میری طبیعت نہیں مانی۔ میں نے اپنے دفتر میں چھٹی کی درخواست دے دی۔ سپروائزر ایک یہودی تھا۔ اس نے وہی بات کہی جس سے میرے دوستوں نے مجھے ڈرایا تھا۔ نے کہا کہ یہ کوئی پاکستان نہیں ہے کہ ابھی آئے اور ابھی چھٹی۔ سروس اور عید دونوں تم کو ایک ساتھ نہیں مل سکتی۔ تم سروس یا عید دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو۔
اس نے کہا کہ ہم تم کو چھٹی تو نہیں دے سکتے، البتہ ہم تم کو فائر کر سکتے ہیں۔ اس نے کہا کہ لنچ کے وقت تک میں تم کو مہلت دیتا ہوں۔ تم سوچ لو کہ تم کو سروس چاہیے یا عید۔ اس وقت تک تم مجھ کو بتادو۔ لنچ کے بعد اس نے پوچھا کہ کیا فیصلہ کیا۔ میں نے کہا کہ یہ میرا مذہب کا معاملہ ہے۔ معاملہ میں میں کمپرومائز نہیں کر سکتا۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس نے کہا کہ جاؤ اپنی عید مناؤ کل کے لیے تمہاری چھٹی ہے۔ پھر اس نے کہا کہ تم اسی طرح ہمیشہ اپنے مذہب پر قائم رہنا :۔ Son, stand for your religious rights. فضل الرحمن صاحب کے مکان کے بیسمنٹ میں نماز با جماعت ادا کی۔ صبح سویرے ہی کافی لوگ آ گئے ۔ نماز کے بعد درس کی صورت میں ایک تقریر کی۔ اس میں اس آیت کو موضوع بنایا گیا تھا کہ : لقتد كان لكم ۔