Al-Risala · September 1998

Accept the status quo

Al-Risala, September 1998, pp. 49–50

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا کہ اسٹیٹس کو ازم اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ اس کا مطلب بے عملی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قائم شدہ عملی صورت حال کو مان کر بقیہ دائروں میں جد و جہد کرنا۔ دوسرے لفظوں میں ، مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا۔ مسئلہ کا واحد قابل عمل حل یہی ہے۔

۱۰ جون ۱۹۹۸ کو جسولا وہار (دہلی) کی مسجد میں ایک پروگرام تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد یہاں صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ہوئی۔ اس کا موضوع تعلیم کی اہمیت تھا، بتایا گیا کہ اسلام میں علم اور تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔ اسی لئے ہر زمانہ میں یہ رواج رہا ہے اور آج بھی ہے کہ ہر مسجد کے ساتھ ایک مدرسہ اور ہر مدرسہ کے ساتھ ایک مسجد ہوتی ہے۔ علم اور عبادت دونوں ایک وقت اسلام کی بنیاد ہیں۔

ایک جلد میں مکمل قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکز توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی مسائل اور معلوماتی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے دعوتی اور تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید وہ طالبین قرآن کے لیے فہم قرآن کی کنجی ہے۔

Printed page