Al-Risala · October 1998

دانش مند کون

Al-Risala, October 1998, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

عن شداد بن اوس قال قال رسول الله ﷺ الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت والعا جز من اتبع نفسه هواها وتمنى على الله (المشكاة المصابيح الجزء الثالث صفحه ١٤٥٤) حضرت شداد ابن اوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دانش مند وہ ہے جو نفس پر قابو رکھے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل اور عاجز وہ ہے جو خواہشات کی پیروی کرے ۔ اور اللہ پر جھوٹی امیدیں قائم کرے ۔ جب آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ زیادہ عمل کرنے کے بعد بھی وہ اپنے کو کم سمجھتا ہے ۔ اس کا یہ احساس اس کو سر تا پا عمل بنا دیتا ہے۔ نیکی کے ہر موقع پر وہ نیک کرداری کا ثبوت دیتا ہے ۔ اس کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کو خدائی احکام کے تابع نہ کرے ۔ اس کا زندہ ایمان اس کے لئے قول طیب اور عمل صالح کی ضمانت بن جاتا ہے۔

مگر جو لوگ ایمانی کمزوری کا شکار ہوں، ان کے اندر اس قسم کا طاقتور جذبہ باقی نہیں اب خدا کے احکام ان کے رہنما نہیں ہوتے بلکہ ان کی خواہشات ہی ان کے لئے رہنما بن جاتی ہیں۔ اب انہیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ جب بھی وہ بولیں تو سچ بولیں۔ وہ اپنے عمل کو عمل صالح کا مصداق ثابت کریں۔

اس دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں ۔ ان کو اپنی خواہشات کے سوا کسی اور چیز کی فکر نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے تمام اوقات اور اپنی تمام صلاحیتوں کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے

لئے خدا کیے یہاں وہ انعام نہیں جو ایک اعلیٰ انسان کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ تاہم مسلم قوموں کی ایک صفت یہ ہے کہ خواہ زوال کے نتیجہ میں ان کے یہاں قول طیب اور عمل صالح باقی نہ رہا ہو۔ تب بھی اسلامی عقائد ان کے یہاں باقی رہتے ہیں مگر یہ سب کچھ رسمی سطح پر ہوتا ہے نہ کہ زندہ یقین کی سطح پر۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگی دو عملی کی روش پر قائم ہو جاتی ہے۔ اپنی حقیقی عملی زندگی میں وہ مکمل طور پر خواہشات اور مادی مفادات کے پیرو بنے رہتے اسی کے ساتھ وہ اپنی خیالی دنیا میں جھوٹی امیدوں کا ایک خود ساختہ محل بنا لیتے جہاں وہ اپنے دینی عقائد کے ساتھ زندہ رہ سکیں ۔ دنیوی اعتبار سے وہ پوری طرح ایک فعال زندگی گزارتے ہیں ، لیکن اخروی اعتبار سے وہ صرف خوش فہمیوں میں جینے والے بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی حقیقی عمل کے بغیر ہی بڑے بڑے نتیجہ کی امید قائم کر لیتے ہیں۔ ان کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہمارے معاملات پیشگی طور پر درست ہو چکے ہیں، دنیا اور آخرت میں ہمارا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں۔ آدمی بیک وقت دو چیزوں پر یکساں درجہ کی توجہ نہیں دے سکتا۔ جو آدمی آخرت کو اہمیت دے وہ آخرت سے تعلق رکھنے والی باتوں کو بے حد اہمیت دے گا۔ اس کے مقابلہ میں دنیوی چیزیں اس کی نظر میں غیر اہم ہو جائیں گی۔ اور جو آدمی دنیا کو اہمیت دے وہ دنیا کے معاملات کو بے حد سنگین سمجھے گا۔ اس کے مقابلہ میں آخرت سے تعلق رکھنے والی باتیں اس کو زیادہ اہم دکھائی نہ دیں گی۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ کون آخرت پسند ہے اور کون

Printed page