زوجین کا درجہ
Al-Risala, October 1998, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مردوں کو جنت میں حوریں دی جائیں گی ۔ مگر عورتوں کے لیے اس قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔ کیا قرآن کی اسکیم میں صرف مردوں کا حصہ ہے ۔ عورتوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں جب کہا گیا کہ اچھے مردوں کو اچھی عورتیں دی جائیں گی تو اس میں اپنے آپ یہ مطلب ہو گیا کہ اچھی عورتوں کو وہاں اچھے مرد ملیں گے۔ اس میں بیک وقت دونوں بات کہی گئی ہے۔ ایک کے لیے براہ راست انداز میں اور دوسرے کے لیے بالواسطہ انداز میں۔ قرآن میں حور کا لفظ چار بار آیا ہے۔ مگر اس سے زیادہ بار زوج کا لفظ آیا ہے۔ حور سے مراد خوب صورت عورتیں ہیں۔ اور زوج کے معنی جوڑے (spouse) کے ہیں۔ زوج میں عورت اور مرد دونوں شامل ہیں۔ اس لیے شوہر اور بیوی کے لیے زوجین کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ صالح مرد اور صالح عورتوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہاں ان کو ازواج مطہرۃ (البقرہ ۲۵) یعنی پاکیزہ جوڑے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مردوں کے لیے پاکیزہ عورتیں اور عورتوں کے لیے پاکیزہ مرد۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مرد و عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے برابر کے ساتھی ہیں (آل عمران) حدیث میں ہے کہ النساء شقائق الرجال، یعنی عورتیں مردوں کا نصف ہیں۔ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کو یکساں مقام دیا گیا ہے۔
قرآن میں ہے کہ ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتوں کو اپنے نیک اعمال کی بنا پر جنت میں داخلہ ملے گا (الاحزاب ۳۵)۔ دونوں کے اوپر یکساں طور پر عمل کی ذمہ داری ہے۔ اور دونوں کے لیے یکساں طور پر برابر کا انعام ۔
اسلام میں مرد اور عورت کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کے لیے کوئی فرق نہیں۔ دونوں یکساں طور پر حالت امتحان میں ہیں۔ اور دونوں کے لیے یکساں طور پر سزا یا انعام ہے۔ ان پہلوؤں سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اسی طرح جو عزت و احترام ایک
کے لیے ہے ، وہ ہی عزت و احترام دوسرے کے لیے بھی ہے ۔
البتہ میدانِ عمل (workplace) کے اعتبار سے دونوں میں کچھ فرق رکھا گیا ہے ۔ مرد کا میدانِ عمل بنیادی طور پر باہر ہے اور عورت کا میدانِ عمل بنیادی طور پر اندر ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں باہر نہیں نکلیں گی ۔ مثال کے طور پر عورتوں کے اوپر بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے ۔ اب اگر عورتیں بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول جاتی ہیں تو یہ ان کے لیے اپنے میدانِ کار کی توسیع قرار دیا جائے گانہ کہ اس سے انحراف ۔
اسلام میں عورت کا درجہ کیا ہے ، اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہوتا ہے ۔ امام البخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ حضرت بریرہ کے شوہر ایک غلام تھے جن کا نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مغیث اپنی بیوی کے پیچھے چل رہے ہیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عباس کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ مغیث کو کتنی زیادہ محبت ہے بریرہ سے اور بریرہ کو کتنا زیادہ بغض ہے مغیث سے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ سے فرمایا کہ کیا اچھا ہو کہ تم مغیث کی طرف رجوع کر لو ۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں ۔ بریرہ نے جواب دیا : تو مجھے اس کی ضرورت نہیں (لا حاجۃ فيه) فتح الباری ۹ بریرہ نے اپنے شوہر مغیث سے تفریق کرا لی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو مشورہ دیا کہ تم رجوع کر لو اور مغیث کے ساتھ زندگی گذارو مگر بریرہ نے آپ کے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا۔ اور مغیث سے رجوع پر راضی نہیں ہوئیں ۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں عورت کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے ۔ اس کے مطابق، عورت نہ صرف مرد کے برابر ہے بلکہ اس کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ خود پیغمبر اگر وحی کی بنیاد پر کوئی مطالبہ کرے تو وہ اس کو ماننے پر مجبور ہے ۔ لیکن پیغمبر کے ذاتی مشورہ کو ماننا اس کے لئے ضروری نہیں ۔