انتقام نہیں
Al-Risala, October 1998, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹ جون ۱۹۹۸ کو بی بی سی لندن نے اپنے ’’دریافت‘‘ کے پروگرام کے تحت ایک انٹرویو نشر کیا۔ یہ انٹرویو حکیم محمد سعید صاحب (کراچی) سے لیا گیا تھا۔ حکیم سعید صاحب پاکستان کے ایک میاب انسان سمجھے جاتے ہیں اسی کے ساتھ وہ معیاری صحت کے مالک انٹرویو ر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حکیم صاحب نے کہا کہ میری صحت کا راز متوازن زندگی ہے۔ میں تقلیل غذا کے اصول پر عمل کرتا ہوں اور ۲۴ گھنٹہ میں صرف ایک بار کھانا کھاتا ہوں۔ میں اپنا کپڑا خود اپنے ہاتھ سے دھوتا ہوں حتی کہ اپنی شیروانی بھی۔ اپنے غسل خانہ کی صفائی میں خود اپنے ہاتھ سے کرتا ہوں۔ ایک مرتبہ اسکول کے بچوں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں انھوں نے جواب دیا کہ میں بیماری کو اپنے قریب آنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔
انھوں نے بتایا کہ ایک بار میری والدہ سخت بیمار ہو ئیں اس وقت میں روم (اٹلی) میں تھا انھوں نے اطلاع بھیج کر مجھے بلوایا۔ میں فوراً واپس آیا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے کہا کہ اب میں مرنے والی ہوں تم کو میری آخری وصیت یہ ہے کہ تم زندگی بھر کسی سے انتقام نہ لینا۔ حکیم صاحب نے کہا کہ والدہ کی یہی نصیحت میری صحت اور کامیابی کا واحد راز ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انتقام کی نفسیات تمام انسانی خرابیوں کی جڑ ہے۔ اور انتقام نہ لینے کا مزاج تمام انسانی خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ آدمی اگر اسی ایک اصول کو پکڑ لے تو وہ اس کی ہمہ جہتی کا کامیابی کے لئے کافی ہو جائے۔
زندگی میں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کے اندر غصہ اور انتقام کے جذبات کو بھڑکادیتے ہیں۔ یہ ہر آدمی کا نازک ترین امتحان ہے۔ اگر وہ غصہ اور انتقام کے راستہ پر چل پڑے تو وہ ہر لحاظ سے ناکام ہو جائے گا اور اگر وہ غصہ اور انتقام کے جذبات کو روک لے اور مثبت ذہن کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بنائے ۔ تو وہ ہر لحاظ سے کامیاب ہوکر رہے گا۔
موجودہ دنیا میں انسان کو بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر رہنا ہونا ہے۔ دوسرے لوگوں سے بار بار ایسے تلخ تجربے پیش آتے ہیں جو اس کی انانیت کو جگائیں اور اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑکادیں۔ جب کسی آدمی کا یہ حال ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندرونی منفی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو انتقام کہا جاتا ہے اس وقت آدمی معتدل حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ جس سے اسے تلخ تجربہ پیش آیا ہے اس کے اوپر اپنے غصہ کی آگ کو انڈیل دے ، اس کو بھر پور طور پر اپنے انتقام کا نشانہ بنائے۔ اس قسم کا جذ بہ پیدا ہوتا بالکل فطری ہے۔ مگر اس جذ بہ کو استعمال کرنا انتہائی حد تک ہلاکت خیز ہے عقل مندی یہ ہے کہ جب اس قسم کی آگ آدمی کے سینہ میں بھڑ کے تو وہ اس کو اندر ہی اندر بجھانے کی کوشش کرے نہ یہ کہ اس کو ظاہر کر کے سماج میں تباہی پھیلائے اور خود بھی تباہی کا نشانہ بنے۔
ہر انتقام دوبارہ نئے انتقام کا جذ بہ پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس کا حل یہ ہے کہ انتقام کے جذ بہ کو پہلے ہی مرحلہ میں دبادیا جائے۔ انتقام کا حل انتقام لینا نہیں ہے بلکہ انتقام نہ لے کر اس کو بھلا دینا ہے۔