ایک گفتگو
Al-Risala, October 1998, pp. 10–13
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۶ جون ۱۹۹۸ کو پٹنہ کے جناب نواب حیدربنجارا سے (251179 :Tel) ملاقات ان کے ساتھ بہار کے ایک سابق ہندو وزیر بھی تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر بستی میں اور ہر قوم میں خدا کے پیغمبر آئے۔ کے مطابق بھارت میں بھی ضرور خدا کے پیغمبر آئے ہوں گے۔ ایسی حالت میں اگر ہم رام اور کرشن اور بدھ کو پیغمبر مانیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قرآن میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ پیغمبروں میں فرق نہ کرو، اور تمام پیغمبروں پر ایمان (البقرہ-۱۳۶) اس لئے دوسرے پیغمبروں کو ماننا خود ہمارے عقیدہ کی تکمیل کے لئے
میں نے کہا کہ اصولی طور پر یہ بات درست ہے۔ کہ ہر بستی اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے (فاطر۔ ۲۴) حدیث کے مطابق ان خدائی فرستادوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اجمالی ایمان کے طور پر یقیناً ہم ان تمام پیغمبروں کو مانتے ہیں مگر جب کسی شخصیت کو نام لے کر پیغمبر بتایا جائے تو ضروری ہے کہ اس کے لئے ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود ہو، محض ذاتی قیاس کی بنا پر ہم کسی متعین شخص کو پیغمبر نہیں کہہ رسالت پر ایمان کی تکمیل کے لئے تمام پیغمبروں پر نام بنام ایمان لانا ضروری نہیں، صرف مجمل ایمان سے یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔
اس معاملہ میں پہلا ذریعہ قرآن و حدیث ہے۔ مگر جب ہم قرآن کو اس نظر سے دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں نام لے کر جن پیغمبروں کا ذکر آیا ہے، ان کی
تعداد دو در جن سے زیادہ نہیں۔ اس لئے ان مذکورہ شخصیتوں کے بارے میں تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے۔ جہاں تک دوسرے پیغمبروں کی بات ہے، ان کے بارے میں جاننے کا مزید ماخذ صرف دو ہو سکتے ہیں، تاریخ اور دوسرے مذہبوں کی مقدس کتا بیں ۔
جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے، وہ پیغمبر اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے پیغمبر کا ذکر نہیں کرتی، حتیٰ کہ پیغمبر اسلام سے پہلے قریبی زمانہ میں آنے والے پیغمبر حضرت مسیح کا خالص تاریخی اعتبار سے، پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر بقیہ تمام پیغمبر غیر معلوم اور غیر مذکور شخصیتیں ہیں۔ ایسی حالت میں تاریخ کے حوالہ سے کسی پیغمبر کو پیغمبر ماننے کا سوال ہی نہیں۔
اس کے بعد دوسرا ماخذ مذہب کی مقدس کتابیں ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک ماخذ بائبل بائبل میں کچھ ایسے نبیوں کے نام آئے ہیں جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، مثلاً نحمیاہ اور یرمیاہ وغیرہ۔ چنانچہ علمائے اسلام نے بائبل کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے ان شخصیتوں کو بھی خدا کے پیغمبر کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
اس کے بعد ہندو ازم کو لیجئے ۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق رام اور کرشن کو مقدس شخصیت مانا جاتا ہے۔ اس بنا پر کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ رام اور کرشن کو ہمیں پیغمبر ماننا چاہیے مگر خالص علمی اعتبار سے اس قسم کا نظریہ درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خود ہندو مذہب میں رام اور کرشن کو پیغمبر نہیں مانا جاتا بلکہ ان کو اوتار مانا جاتا ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اور اوتار کے درمیان بنیادی فرق موجود ہے۔
اسلامی تعلیم کے مطابق، پیغمبر عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔
مزید خصوصیت صرف یہ ہے کہ خدا اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چنتا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ اس پر اپنا کلام اتارتا ہے۔ اس کے بر عکس ہندو مذہب میں جب ایک شخص کو اوتار کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا اس شخص کی صورت میں دنیا میں ظاہر یہ وہی چیز ہے جس کو فلسفہ کی زبان میں تجسیم (incarnation) کہا جاتا ہے۔ طرح اوتار کا مطلب تجسیمی خدا(incarnate-god) ہے۔ نہ کہ اسلامی معنوں میں پیغمبر ایسی کسی شخصیت کو اگر اوتار کہا جائے تو یہ اسلامی عقیدہ کے خلاف ہوگا اور اگر اس کو پیغمبر کہا جائے تو ہندو عقیدہ کے خلاف۔
پھر جب خود ہندو مذہب رام اور کرشن کو پیغمبر نہ بتا رہا ہو تو ہم خود سے کس طرح ان کے اوپر پیغمبر کا لیبل لگا دیں گے۔ کسی مذہبی نظام کی کوئی شخصیت اس پہلو سے اس وقت قابل غور ہو سکتی ہے جب کہ وہ مذہبی نظام اس کے پیغمبر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ شخصیت کو وہ پیغمبر خدا کی حیثیت سے پیش نہ کرے، اس پہلو سے اس کا نام سرے سے زیر بحث لایا نہیں جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ رام اور کرشن کو پیغمبر کہنا اتناہی غیر علمی ہے جتنا محمد اور ابراہیم کو اوتار کہنا۔
اب گو تم بدھ کے معاملہ کو لیجئے ۔ کچھ لوگ ان کو خدا کا پیغمبر بتاتے ہیں مگر یہ درست اس لئے کہ گو تم بدھ کی موجود تعلیمات کے مطابق، وہ سرے سے خدا کے وجود ہی کو چنانچہ بدھ مذہب کو ایک غیر خدائی مذہب (godless religion) کہا جاتا پھر جو شخصیت خدا کے وجود ہی کو نہ مانتی ہو اس کو خدا کا پیغمبر کس طرح کہا جائے ایسے قول پر تو وہ مثل صادق آئے گی کہ : مدعی سست گواہ چست۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوؤں نے بطور خود یہ اعلان کیا کہ گو تم بدھ ایک
اس طرح انھوں نے گوتم بدھ کو ہندو او تاروں میں شامل کر لیا۔ مگر بدھ مذہب کے لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ جب ہم خدا کے وجود ہی کو نہیں مانتے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم گوتم بدھ کو خدا کا اوتار بتائیں۔
اوپر جو کچھ کہا گیا، اس کا تعلق صرف ان مذہبی شخصیتوں سے ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور سے پہلے پیدا ہوئیں۔ پیغمبر اسلام کے بعد پیدا ہونے والی مذہبی شخصیتوں پر اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق، محمد ﷺ پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کے بعد پیدا ہونے والی کسی شخصیت کو اس حیثیت سے زیر غور لانا سرے سے ممکن ہی نہیں، خواہ اس نے اپنے کو پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا ہو یا نہ
آخری بات یہ ہے کہ جو لوگ مذکورہ قسم کا نظریہ پیش کرتے ہیں وہ اس لئے ایسا کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ پیدا مگر میل ملاپ کا تعلق اس قسم کے کسی نظریہ سے نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مذاہب کے درمیان کبھی داخلی لڑائی نہ ہوتی۔ جیسا کہ معلوم ہے مہاتما گاندھی کو جس شخص نے قتل کیا وہ ایک ہندو تھا نہ کہ مسلمان۔ اسی طرح نواب زادہ لیاقت علی خاں کو جس نے قتل کیا وہ ایک مسلمان تھا نہ کہ ہندو۔ یہی پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔ میل ملاپ کی بنیاد باہمی احترام ہے نہ کہ مذہبی اشتراک۔