ایک واقعہ دو انجام
Al-Risala, October 1998, pp. 14–16
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی کے اوکھلا وہار کے علاقہ میں ایک تقریری پروگرام کے تحت جانا ہوا۔ الدین سے اوکھلا وہار تک کے اس سفر میں مندرجہ ذیل افراد میرے ساتھ تھے: برادرم محمد خالد ندوی، مسجد کے امام قاری محمد سمیع اللہ صاحب، اور واحد علی انجینئر صاحب 6922073 :Tel ۱۰ جون ۱۹۹۸ کی شام کو میں اس مسجد میں پہنچا جس کو عام طور پر جسولا وہار کی مسجد کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے بارے میں مجھے کوئی واقفیت تھی۔ عشاء کے وقت جب میں وہاں پہنچا تو یہ میرے لئے ایک غیر متوقع منظر تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ مسجد جس کا نام اقراء مسجد ہے کسی آبادی میں نہیں ہے بلکہ ایک کھلی ہوئی جگہ پر ہے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ یہاں مسجد کے چاروں طرف مسلمانوں کی بہت بڑی کالونی تھی۔ اس کالونی کے اندر انھوں نے یہ مسجد بنائی تھی۔ مگر یہ کالونی غیر قانونی تھی اور دلی کے ماسٹر پلان کے خلاف بنائی گئی چنانچہ ۱۹۸۹ میں راجیو گاندھی کی حکومت کے زمانہ میں اس قسم کی دوسری بہت سی کالونیوں کی طرح اس کو بھی مکمل طور پر توڑ دیا گیا ۔ ڈی ڈی اے کے عملہ نے بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے ہزاروں مکانوں کو ڈھادیا۔
آخر میں مسجد کی باری تھی مگر یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا DDA کا ایک ملازم جس کا نام پنڈت شرما تھا وہ بلڈوزر کا آپریٹر تھا۔ اس نے مسجد کو بلڈوزر کرنے سے انکار اس کے افسر نے سختی کے ساتھ حکم دیا مگر وہ راضی نہیں ہوا۔ افسر نے دھمکی
دی کہ میں تم کو ملازمت سے برخوست کردوں گا تو پنڈت شرمانے کہا کہ آپ جو چاہیں کریں، مگر میں مسجد پر اپنا بلڈوزر نہیں چلا سکتا۔ چنانچہ پوری کالونی مکمل طور پر ڈھادی گئی مگر یہ مسجد اکیلی عمارت کی حیثیت سے کھڑی رہی۔ ایک عرصے تک یہ مسجد غیر آباد پڑی ہوئی اب قاری محمد سمیع اللہ صاحب نے اس کو آباد کیا ہے۔ انھوں نے اس کی نئی تعمیر کر کے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کر دیا ہے جس کا نام مدرسہ الحراء ہے۔ ایک طرف جسولا وہار کی یہ مسجد ہے جس کو توڑنے سے ہندو انکار کر دیتا ہے دوسری طرف ایودھیا کی مسجد ہے جس کو ہندو اقدام کر کے توڑ ڈالتا ہے۔ یہ فرق کیوں۔ کی وجہ یہ ہے کہ جسولا وہار کا ہندو ایک نارمل ہندو تھا۔ جب کہ ایودھیا کا ہندو ایک غیر نارمل ہندو تھا جس کی انا کو نا اہل مسلم لیڈروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکادیا گویا کہ جسولا وہار کا ہندو اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکا کر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہو گا جو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں پیش آیا۔ یہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہونچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے (وان تصبرو ا وتتقوا لا يضركم كيدهم شئيا ان الله بما يعملون محیط) آل عمران۔
اس آیت کے مطابق، اس دنیا میں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو خدا کی ضمانت ہے کہ مخالفین کی سازش یقینی طور پر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ البتہ اگر اہل ایمان بے صبری کی
روش اختیار کریں تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ اغیار کی سازش کی زد میں آ جائیں گے۔ مذکورہ دونوں مثالیں اس کا کھلا ہوا نمونہ ہیں۔ ایودھیا کی مسجد کے معاملہ میں جذباتی لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے غیر صابرانہ روش اختیار کی۔ اس نتیجہ یہ ہوا کہ ایودھیا کی مسجد کو کچھ مشتعل ہندوؤ ں نے توڑ دیا۔ اس کے برعکس دہلی کی مسجد کے معاملہ میں کوئی جذباتی لیڈر اشتعال دلانے کے لئے موجود نہ تھا۔ یہاں فطرت نے مسلمانوں کی رہنمائی کی چنانچہ انھوں نے صبر اور خاموشی کی روش اختیار کر لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی کی مسجد جہاں تھی وہیں بدستور قائم رہی، بلکہ سرکاری حکم کے باوجود ہندو نے اس کو توڑنے سے انکار کر دیا۔
جسولاوہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کا تقابل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں کلی طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تمثیل یا تقابل کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں کے درمیان کلی یکسانیت پائی جائے۔ تمثیل یا تقابل ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان جزوی مشابہت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ کلی مشابہت کے اعتبار سے۔
قرآن مجید میں بتوں کی مثال مکڑی سے دی گئی ہے (العنکبوت۔ ۴۱) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بتوں میں مکڑی کی طرح پاؤں ہوتے ہیں یا وہ بھی مکڑی کی طرح جالہ بنتے یہ مثال صرف ایک مشترک جزو کے اعتبار سے ہے جو دونوں کے درمیان یکساں طور پر پایا جارہا ہے اور وہ ہے کمزوری۔