Al-Risala · October 1998

دیوار قہقہہ

Al-Risala, October 1998, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک پرانا قصہ ہے کہ کہیں ایک بہت لمبی اور اونچی دیوار تھی۔ جو لوگ دیوار کے اس پار رہتے تھے انھیں دیوار کے اُس پار کا حال کچھ معلوم نہ تھا۔ چنانچہ دیوار کے اِس پار بسنے والوں کے دل میں تجسس انھوں نے چاہا کہ دیوار کے دوسری طرف کا حال معلوم کریں۔

اس مقصد کے لیے ایک بہت لمبی سیڑھی بنائی گئی اور پھر ایک آدمی کو تیار کیا گیا کہ وہ اس سیڑھی پر چڑھ کر دیوار کے اوپر تک جائے اور وہاں جاکر یہ دیکھے کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے۔ وہ آدمی سیڑھی کے ذریعہ دیوار کے اوپر چڑھا مگر جب اس نے اوپر پہنچ کر دیوار کے دوسری طرف کا منظر دیکھا تو وہ اتنا زیادہ بے خود ہوا کہ وہ قہقہہ لگا کر اس کی طرف کو گر پڑا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی کو اس مقصد کے لیے تیار کیا گیا مگر جب وہ اوپر پہنچا تو وہ بھی پہلے شخص کی طرح قہقہہ لگا کر دیوار کی دوسری طرف کود گیا۔ اسی طرح بہت سے لوگ دريافت حال کے لیے دیوار پر چڑھائے گئے مگر ہر ایک قہقہہ لگا کر دوسری طرف کو دتار ہا اور دیوار کے دوسری طرف کا حال بدستور لوگوں کے لیے غیر معلوم رہا۔ اس تجربہ کی بنا پر اس دیوار کا نام دیوار قہقہہ مشہور ہو گیا۔ یہ قصہ تمثیل کی زبان میں موجودہ زمانہ کی ایک صورت حال کو بتاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلم دنیا (یا مشرقی دنیا) کے باہر مغربی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا، نئے علوم پیدا ہوئے، فکر وعمل کی ایک نئی تعمیر ہوئی، یہ نئے اسباب اتنے طاقت ور تھے کہ اس کے ذریعہ اہل مغرب نے ساری دنیا پر براہ راست یا بالواسطہ غلبہ حاصل کر لیا۔

اس کے بعد مسلم دنیا (یا مشرقی دنیا) کے نوجوان تعلیم یا کسی اور مقصد کے تحت مغربی دنیا کی طرف جانے لگے یہ عمل پچھلے تقریباً سوسال سے جاری ہے۔ یہ مسلم نوجوان گویا وہ لوگ تھے جو مشرق اور مغرب کے درمیان قائم شدہ دیوار پر چڑھے تاکہ دوسری طرف کا حال معلوم کریں۔ وہ مغرب کو اور مغربی تہذیب کو جانیں اور پھر واپس آکر اہل مشرق کو اس سے باخبر کریں۔

مگر دوبارہ یہ ہوا کہ ان مشرقی نوجوانوں کا یہ سفر دیوار قہقہہ کی چڑھائی کے ہم معنی بن گیا۔ جب مغربی دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا تو وہ اس سے اتنا زیادہ مسحور ہوئے کہ وہ بے تابانہ اس کی

طرف ٹوٹ پڑے وہ مسلم تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کے دل دادہ ہو گئے وہ ایسا نہ کر سکے کہ مغربی درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اسلام کی نمائندگی کے تقاضے پورے کریں وہ دنیا کی قوموں کے سامنے اسلام کے داعی بن جائیں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ اسلام سے تو انھوں نے صرف رسمی قسم کا تعلق رکھا۔ عملی طور پر وہ پوری طرح مغرب اور مغربی تہذیب کے خادم بن کر رہ گئے۔

یہ صورت حال آج بہت بڑے پیمانے پر قائم ہے۔ مسلم دنیا کے بیشتر باصلاحیت نوجوان مغربی علوم کو سیکھ کر مغرب کی سیاسی اور اقتصادی مشین کے پرزے بنے ہوئے ہیں۔ وہ بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملاً وہ خدمتِ اسلام کے بجائے خدمتِ مغرب کو اپنا مقصدِ حیات بنائے

دیوار قہقہہ تو شاید ایک افسانوی دیوار ہو، مگر جدید دیوار قہقہہ پورے معنوں میں ایک حقیقی دیوار ہے اور اسی کے ساتھ نہایت سنگین مسئلہ بھی۔ اس جدید دیوار نے اہل اسلام کے بہترین افراد کو ان سے چھین لیا ہے۔ اس نے ہمارے انتہائی لائق نوجوانوں کو خدمتِ اسلام کے میدان سے ہٹا کر خدمتِ غیر اسلام کے میدان میں سرگرم کر دیا ہے۔

اس مسئلے کا ایک جزئی حل یہ ہے کہ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جہاں ان نوجوانوں کو چھٹیوں کے زمانہ میں بلایا جائے اور ہر سال کم از کم ایک مہینہ ان کو یہاں گزارنے کا موقع دیا جائے یہاں یہ کوشش کی جائے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ انھیں اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ جہاں، میں وہ وہاں ون مین لومن کے اصول پر رہ سکیں ۔ یعنی اپنا معاشی کام کرتے ہوئے وہ بہتر رہ رکان لوگوں کو اسلام کا پیغام بھی پہنچائیں۔

Printed page