Al-Risala · October 1998

سفر امریکہ ۳

Al-Risala, October 1998, pp. 19–23

By Maulana Wahiduddin Khan

نیو یارک میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ وہ امان اللہ خان ولد نصیب اللہ خان ہیں، وہ ۱۹۲۰ میں کریم نگر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے بعد سروس کے تحت حیدر آباد میں مقیم ہوگئے۔ کے تحت وہ اس مکان میں رہے جس کا رقبہ ۱۰۰ - ۱۰۰ تھا۔ ان کے لڑکے اور لڑکیاں نیز کئی رشتہ دار امریکہ میں تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۹۸۸ میں وہ امریکہ آئے۔

انھوں نے بتایا کہ جب میں امریکہ آنے لگا تو میں نے حیدر آباد کا مکان ایک مسلمان کو کرایہ پر کچھ عرصہ کے بعد جب میں حیدر آباد گیا اور اس کے اوپر کے حصہ میں رہنا چاہا۔ تو مذکورہ مسلمان نے سیڑھیاں بند کر دیں اور مجھے مجبور کیا کہ میں مکان چھوڑ دوں۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ نہ مکان کو خالی کرتے ہیں اور نہ ٹھیک سے کرایہ ادا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ وہ امان اللہ خاں صاحب کو بدنام کر رہے ہیں تاکہ اپنے جرم پر پردہ ڈال سکیں۔ امان اللہ خاں صاحب واپس آکر آج کل نیو یارک میں اپنی لڑکیوں کے پاس مقیم ہیں : 2583435 ,6390343 (718) .Tel حیدر آباد کا یہ واقعہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات ہر جگہ اور ہر مسلم بستی میں ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں میں آج کل بے شمار تحریکیں اسلام کے نام پر چل رہی ہیں۔ مگر کوئی بھی تحریک ایسی نہیں جو اس قسم کے معاملات میں دخل دے کر متعلقہ مسلمان کو ظلم اور سرکشی سے روکے۔ اسی لیے لعنت کی گئی کہ وہ نہی عن المنکر کا یہ کام نہیں کرتے تھے۔ مسلمان اس قانون الہی سے مستثنیٰ اگر ان کے علماء، اور ذمہ دار اپنی موجودہ روش پر قائم رہیں تو کوئی بھی دوسرا عمل انھیں مذکورہ قانون کی زد میں آنے سے بچا نہیں سکتا۔

۳۱ اگست ۱۹۹۶ کو مفتی محمد سعید خاں (پیدائش ۱۹۶۱) سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان سے سیاحت کے طور پر امریکہ آئے ہوئے ہیں۔ وہ ڈٹرائٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے۔ کی خبر سن کر ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ ان کے ساتھ تین اور نوجوان بھی تھے۔ یہ چاروں آدمی ڈٹرائٹ سے سات سو میل کا سفر طے کرکے فلاڈیلفیا پہنچے۔ ٹیلی فون سے انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ اس وقت میں فلاڈیلفیا میں ہوں۔ یہاں ۳۱ اگست کو جناب رئیس احمد انجینئر کے مکان پر ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کئی گھنٹہ تک جاری رہی۔

انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی بہت سی کتابیں پڑھیں تو کچھ سوالات پیدا ہوئے۔

چاہا کہ اس کا جواب معلوم کروں ۔ سوالات انھوں نے کاغذ پر نوٹ کر رکھے تھے۔ اس کے مطابق گفتگو

میں نے پوچھا کہ ہمارے یہاں کی جو کتابیں آپ نے پڑھیں ان کا خلاصہ آپ نے اسلام کی آئیڈیالوجی سب سے زیادہ طاقت ور آئیڈیا لوجی ہے ۔ جدید تحقیقات نے صرف ان کی صداقت میں اضافہ کیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اسلام کو آئیڈیالوجی کے اعتبار سے لے کر اس کا مزید فائدہ یہ ہو گا کہ اسلام کو نیا خون حاصل ہو گا جس کی آج اسلام کو شدید ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جہاں تک تصور دین کا تعلق ہے ، دوسرے علماء سے مجھے کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ میرا سارا اختلاف صرف تدبیر کار کے بارہ میں ہے۔ میرا کہنا ہے کہ دور جدید بدلا ہواز مانہ تھا۔ ہمارے رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ عصری تقاضوں کو سمجھ کر اس کے مطابق تدابیر اختیار کرتے ۔ مگر انھوں نے قدیم ذہن کے تحت اقدا مات کیے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اقدامات سے امت کو نقصان کے سوا کچھ اور نہیں ملا۔ تدبیر کار کے بارے میں یہ تنقیدی مطالعہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ہم دوبارہ وہ غلطی نہ کریں اور آئندہ زیادہ بہتر اور صحیح منصوبہ کے تحت اپنے اقدامات کر سکیں۔

جناب رئیس احمد صاحب (فلا ڈلفیا) کے مکان پر انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا ایڈیشن ۱۹۹۲ تھا۔ اس کو جگہ جگہ سے دیکھا۔ اس کتاب کا جو ایڈیشن میرے پاس ہے اس میں کئی جگہ کا لی سیاہی سے کسی تصویر یا عبارت کو مٹا دیا گیا ہے۔ مثلاً جموں اینڈ کشمیر کے عنوان کے تحت جو مضمون ہیں اس میں میری انسائیکلو پیڈیا میں ابتدائی پیرا گراف مٹا دیا گیا ہے۔ اس کو حکومت ہند کے حکم کے تحت مٹایا گیا مگر موجودہ ایڈیشن میں وہ پورا حصہ موجود ہے۔ اسی طرح اسلام کے بارہ میں جو مضامین ہیں ان میں بھی میری انسائیکلو پیڈیا میں کئی جگہ مٹایا ہوا ہے۔ مثلاً معراج (Miraj) میں رسول اللہ کی تصویر تھی اس کو عربوں کے اصرار پر مٹا دیا گیا ہے ، مگر یہ تمام قابل اعتراض حصے موجودہ نسخے میں موجود میں نے سوچا کہ لوگوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سے تو اپنا غیر مطلوب منظر مٹا دیا مگر بقیہ ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے وہ بدستور اسی طرح اپنی پوری صورت میں موجود ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کسی ناپسند ید ہ منظر کو دیکھنے کے لیے آدمی اپنی آنکھیں بند کرلے جب کہ عین اسی وقت ساری دنیا

کی آنکھیں اس کو دیکھ رہی ہوں ۔

ایک بار ایک پاکستانی خاندان اپنے عزیز کی شادی کی سالگرہ (wedding anniversary) میں جا رہا تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ بدعت شاید پاکستان سے یہاں آئی ہے ۔ انھوں نے برأت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو پہلے سے مغربی لوگوں میں مروج تھی ، ہم لوگوں نے ان سے لے لیا ہے ۔ میں نے کہا کہ پاکستان ویسٹ کو اسلامائز کرنے کے لیے بنایا گیا تھا ، مگر اب وہ خود اسلام کو ویسٹرنائز کرنے کا کام کر رہا ایک پرشور اسلامی تحریک کا یہ انجام بھی کیسا عجیب ہے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ تو باہم ملنے کے لیے ہے - تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ " انڈیا میں مسجدیں ڈھائی جا رہی ہیں .... " میں نے کہا کہ کلام کا یہ انداز بے حد غیر اسلامی ہے ۔ یہ جنرلائزیشن ہے ، اور جنرلائزیشن بلاشبہ اسلام میں جائز نہیں۔ صحیح ہے کہ انڈیا میں ایک مسجد ۶دسمبر ۱۹۹۲ کو ڈھائی گئی تھی ۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ اس کے بعد بھی انڈیا میں تقریباً چار لاکھ مسجدیں محفوظ حالت میں موجود ہیں ۔ انڈیا میں ایک مسجد ڈھائی گئی ہے نہ کہ مسلسل طور پر وہاں مسجدیں ڈھائی جا رہی ہیں ۔

پھر میں نے کہا کہ خود امریکہ میں جہاں آپ ہیں وہاں بھی ایک مسجد کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا ہے ۔

۳۱ اگست کی شام کو عشاء کی نماز رئیس احمد صاحب ( فلاڈلفیا ) کے مکان پر پڑھی گئی ۔ کئی تعلیم یافتہ مرد اور عورتیں رہائش گاہ پر جمع ہو گئے ۔ چنانچہ ساڑھے گیارہ بجے تک سوال وجواب کی صورت میں گفتگو ہوئی ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ایک ہے کسی چیز کاشرعاً بدعت ہونا، اور دوسرا ہے اس بدعت کے خلاف دھوم مچانا ۔ میں نے کہا کہ کسی چیز کے بدعت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ فوراً اس کے خلاف پرشور مہم شروع کر دیں " بدعت " کے خلاف تحریک چلانے کا تعلق حالات سے ہے نہ کہ نفس مسئلے سے ۔ یعنی اگر مخالفانہ تحریک سے مثبت نتیجہ نکلنے کی امید ہو تو تحریک چلائی جائے گی ، ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی ۔ مفتی محمد سعید خاں صاحب ( راول پنڈی ) الرسالة اور کتابوں کو بہت شوق سے پڑھ رہے ہیں ۔ مگر ان کا خیال تھا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہونا چاہیے ۔ خاص طور پر بڑی شخصیتوں

پر تنقید سے لوگ بھڑکتے ہیں۔

میں نے کہا کہ بھڑکنے والے کون ہیں، وہ ایک محدود طبقہ ہے۔ اس وقت امت میں ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو آزاد خیال ہیں۔ اس کے سامنے یہ سوال ہے کہ دورِ جدید میں ہمارے علماء اور رہنماؤں نے بار بار مجاہدانہ اقدامات کیے، مگر یہ اقدامات صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کا سبب بنے۔ وہ اس ذہنی کش مکش میں مبتلا ہیں کہ کیا اسلام میں کوئی کمی ہے۔ اسلام دور جدید میں صحیح رہنمائی دینے سے محروم ہے۔ یہ لوگ جب الرسالہ میں اس قسم کی تنقیدوں کو پڑھتے ہیں تو اسلام پر ان کا اعتماد از سر نو قائم ہو جاتا ہے۔ وہ ناکامی کے واقعات کو ان رہنماؤں کی تدبیر کار کی غلطی یا اجتہادی خطا قرار دے رہے ہیں نہ کہ اسلام کی کمزوری۔ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ جس چیز کو لوگ اسلام کی کمزوری کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے اس کو بشری کمزوری کے خانہ میں ڈال دیا۔

۳۱ اگست کی شام کو فضل الرحمن صاحب، مفتی سعید صاحب وغیرہ سے پاکستان پر گفتگو فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش بنوایا، ہم کیسے اس کو معاف کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش نہیں بنوایا۔ بلکہ اس نے بنگالیوں کی پاکستان کے خلاف ناراضگی کو استعمال کیا۔ محمد بن قاسم نے سندھ میں داہر کے خلاف ناراض ہندوؤں کو استعمال کیا۔ میں طارق نے شاہ کے خلاف ناراض گروپ کو استعمال کیا :

You have to know that your enemy will fish in your troubled water. مفتی محمد سعید خاں صاحب کا تقریباً دو دن کا ساتھ رہا۔ یکم ستمبر کی صبح کو ۹ بجے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس گئے۔ آخر وقت میں میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے آخری تاثرات انھوں نے میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے جو بغیر کسی مزید اضافہ کے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم - فکری ہلاکت کئی طرح پر واقع ہوتی ہے۔ اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی رائے پر مٹے اور یہ سمجھنے لگے کہ بس صرف اسی کی رائے کسی معاملے میں درست ہے اور

بقیہ سب لوگ غلطی پر ہیں ۔ ایسا شخص صرف اپنے ذہنی خول میں جیتا ہے اور خارجی حالات اُس کی ذہنی سطح سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ۔ اس لیے جب وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اپنے خول کے پاٹ اور خارجی حالات کے پاٹ میں پس جاتا ہے ۔

Printed page