Al-Risala · October 1998

سعید ۲ ستمبر ۱۹۹۶

Al-Risala, October 1998, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ کے لیے یہ میرا پانچواں سفر تھا۔ میں نے دیکھا کہ جو لوگ اپنے ملکوں سے یہاں آئے ہیں وہ اپنے ملکوں کے مقابلے میں یہاں زیادہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ ذہن اپنے اپنے ملکوں سے نکل کر یہاں آتے ہیں۔ مگر اس بار تفصیلی مشاہدہ کے بعد میری رائے یہ نہیں ہے کہ استثنائی طور پر یہ افراد ایسے ہوتے ہیں جو واقعی غیر معمولی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ بلکہ آنے والوں میں زیادہ تعداد اوسط ذہن کے لوگوں کی ہوتی ہے۔

میرا احساس یہ ہے کہ زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں آکر لوگ زیادہ محنت کرتے ہیں۔ وہ آخری حد تک پر امن رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ وہ سسٹم سے مکمل طور پر ایڈجسٹ کر کے رہتے ہیں۔

یکم دسمبر ۱۹۹۶ کی صبح کو ہم لوگ رئیس احمد (فلا ڈلفیا) کے مکان پر تھے۔ ناشتہ کا انتظام تھا۔ مفتی سعید احمد خاں صاحب وغیرہ سب مل کر، ہم لوگ چھ آدمی تھے۔ کے بعد چائے کے لیے بیٹھے، میز پر ڈبل روٹی کے ساتھ مکھن اور جیلی تھی۔ لوگ ایک ایک پیس اٹھا کر اس پر مکھن اور جیلی لگا رہے تھے ۔ میں نے کہا کہ گھر پر میرا معمول کا ناشتہ یہی ہے۔ میری لڑکی فجر بعد مجھے دو پیس مکھن اور جیلی لگا کر دیتی ہیں ، ایک گلاس پانی کے ساتھ میں اس کو کھاتا ہوں اور آخر میں ایک پیالی چائے پی لیتا ہوں ۔

پھر میں نے کہا کہ اس قسم کا کام مجھے بالکل نہیں آتا ۔ چنانچہ ہوائی جہاز کے سفر میں ناشتہ کے لیے ڈبل روٹی اور مکھن اور جیلی آتی ہے تو میں تینوں کو الگ الگ کھا لیتا ہوں ۔ دوران میں نے کہا کہ بعض باتیں نحو وصرف کے اعتبار سے درست ہوتی ہیں، مگر وہ حقیقت کے اعتبار سے غلط ہوتی ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص میرے بارہ میں کہے کہ ان کو ایک پیالی چائے

بنانا یا ڈبل روٹی کی ایک پیس پر مکھن لگانا بھی نہیں آتا تو وہ قرآن کی تفسیر کیا لکھیں گے۔ تو یہ بات نحو و صرف کے اعتبار سے درست، مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہوگی۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعار درست انداز میں نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ وہ تو ایک شعر صحیح نہیں پڑھ سکتے تو وہ قرآن کیا پڑھیں گے۔ تو یہ بات نحو و صرف کے اعتبار سے درست، مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط بات ہوگی۔

مفتی سعید احمد صاحب سے نہایت تفصیلی باتیں ہوئیں۔ علمی گفتگوؤں کے علاوہ میرے ذاتی حالات بھی انھوں نے دریافت کیے۔ سننے کے بعد یکم ستمبر کی صبح کو انھوں نے کہا کہ آپ زندہ کیسے ہیں ۔ اچانک میری زبان سے نکلا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں زندہ ہوں ۔ کشمیر کے لوگ ریاست کے جس حصہ کو ”آزاد کشمیر“ کہتے ہیں ، وہاں سے کشمیری مسلمان بڑی تعداد میں یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں ، اور مزید آتے رہتے ہیں۔ ایجنٹوں کو وہ اس کے لیے بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں۔ میں نے ایک کشمیری سے کہا کہ آپ لوگوں کا خواب آزاد کشمیر ہے۔ آزاد کشمیر کو پاکستان کے زیر قبضہ حصہ میں آپ بالفعل حاصل کر چکے ہیں۔ اور اب ہندوستان کے زیر قبضہ علاقہ میں اس کی توسیع کی خونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے۔ کہا کہ ہاں۔

پھر میں نے کہا کہ اپنے بیان کے مطابق ، آپ اپنے مقصد کو کشمیر کے ایک حصہ میں حاصل کر چکے ہیں اور اسی لیے اس کو آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ پھر اپنے اس محبوب ملک میں آپ کیوں نہیں اس کو چھوڑ کر آپ امریکہ میں کیوں آگئے ، جس کو آپ لوگ ظالم اور کافر کہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی تحریک اسلامی تحریک تو کیا ، عام معنوں میں وہ کوئی سنجیدہ سیاسی تحریک بھی نہیں ۔ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔

آج کل امریکہ میں الیکشن کا چرچا ہے۔ مگر ساری مہم بالکل مہذب انداز میں چل رہی ایک طرف ڈیمو کریٹک پارٹی ہے جس کے امید وار مسٹر کلنٹن ہیں۔ ان کی مخالف ریپبلکن پارٹی ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے ایک نعرہ دیا جس کو اے بی سی کہا جاتا یعنی : anybody but Clinton

امریکی لوگ محنتی ہیں ۔ مگر اسی کے ساتھ وہ تفریح پسند ہیں ۔ یکم ستمبر سے تین دن کے لیے کاروں پر ادھر ادھر جائیں گے اور تفریحات میں گزار کر واپس آئیں گے ۔ امریکہ میں جو ایشیائی مہاجرین آئے انھوں نے اپنے بچوں کو نہ صرف انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلائی بلکہ اپنے گھر کے اندر بھی وہ انگریزی ہی بولنے لگے ۔ ان کا نظریہ تھا کہ دو زبان کے درمیان رہنے سے بچے کنفیوز ہو جائیں گے ۔ ان بچوں کی زبانیں آج تقریبًا ویسی ہی ہیں جیسی قدیم امریکیوں کی زبانیں ہیں ۔

پانچ سال پہلے کولمبیا یونیورسٹی نے اس معاملہ کا ایک سروے کرایا جو کئی سال تک جاری اس سروے کی رپورٹ ایک سال پہلے شائع ہوئی ہے۔ اس سروے کے مطابق ، یک لسانی کے مقابلہ میں دو لسانی طلبہ زیادہ بہتر پائے گئے :

Printed page