Al-Risala · October 1998

Bi-lingual students were much more smarter.

Al-Risala, October 1998, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب نے اس کے خلاف بولتے ہوئے کہا کہ یہ تو سفید فام لوگوں کی ایک سازش انھوں نے دیکھا کہ ایشیائی طلبہ سفید فام طلبہ جیسی انگریزی بولتے ہیں تو انھوں نے سروے کا ڈرامہ کیا ۔ اس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو انگریزی کے ساتھ دوسری زبان بھی سکھائیں تاکہ ہمارے بچے اچھے انگریزی داں نہ بن سکیں اور سفید فام بچوں سے پیچھے رہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ دلیل کا جواب الزام سے دینا ہے ۔ اگر آپ کو کولمبیا یونیورسٹی کی رپورٹ سے اتفاق نہیں ہے تو آپ دوبارہ ایک نیا سروے کرائیں۔ اور نئے سروے کے ذریعہ اپنی بات کو ثابت کریں ۔ سروے کا جواب سروے ہے ۔ الزام کبھی سروے کا جواب نہیں بن سکتا ۔ میں ایک سڑک پر ٹہلنے جاتا تھا ۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کشادہ جگہین ہیں جہاں بنچیں لگی ہوئی ہیں ۔ یہاں صبح اور شام کو لوگ آکر بیٹھتے ہیں ۔ ایک روز یہاں ایک سفید فام امریکن سے گفتگو ہوئی ۔ پہلے میں نے یہاں کے سسٹم کی تعریف کی ۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا ایک مائنس پوائنٹ ہے جو پوری نیشن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔ اور وہ ہے فریڈم کا لامحدود میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہر چیز کی ایک حد (Limit) ہوتی ہے ۔ اور آپ لوگ بھی ہر معاملہ میں اس حد کو مانتے ہیں ۔ مگر فرد کی آزادی کے تصور کو آپ لوگ بے قیدی اور عورت

اور مرد کے درمیان فری مکسنگ تک لے گئے ہیں۔ آخر یہاں بھی آپ لوگ حد کو کیوں نہیں قائم کرتے۔ اس نے کہا کہ، ہم تو حد کو قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ آزادی اس وقت تک جب تک وہ دوسرے کی آزادی میں دخل اندازی نہ بنے :

Printed page