Freedom until infringement upon others’ freedom.
Al-Risala, October 1998, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر گفتگو کے درمیان اسلام اور مغربی تہذیب کا تقابل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف ایک حد کو مانتے ہیں، اور وہ ہے ڈائرکٹ دخل اندازی۔ مگر اسلام میں ڈائرکٹ کے سوا ایک اور حد کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، اور وہ ہے ان ڈائرکٹ دخل اندازی۔ عورت اور ایک مرد اگر انفرادی سطح پر ایک دوسرے پر دست درازی نہ کر رہے ہوں تو آپ کے نزدیک اس کے بعد سب کچھ جائز ہے۔ مگر اسلام اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ انفرادی آزادی کے استعمال کے اثرات سماجی اور قومی دائرہ میں کیا ہوں گے۔ گویا اسلام نے حد کے تصور کو بالواسطہ اثرات تک وسیع کیا ہے۔ اس نے میری بات کے وزن کو تسلیم کرتے ہوئے کہا : (I think you are right)
۲ ستمبر کو ایک واقعہ ہوا جو امریکہ کے تمام اخباروں میں چھپا۔ یہاں کے ٹمپا ایرپورٹ (Tampa International Airport) پر ایک شخص یو ایس ایر کے جہاز پر سوار ہونے والا تھا۔ اس کا سامان جب ایرپورٹ کے کنوپر بیلٹ (Conveyor belt) سے گزرا تو اس کے ساتھ لگی ہوئی ایکسرے مشین نے بتایا کہ اس کے اندر دھماکہ خیز اشیاء اور گن ہیں۔ مسافر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ یہ ایک ۲۱ سالہ نوجوان رمگین (Roman Regman) تھا۔ وہ ایک مسیحی سیمنری کا طالب علم ریکارڈ کے مطابق وہ ایک گڈ اسٹوڈنٹ تھا۔
یہاں اس طرح کے کئی واقعات ہوئے ہیں جس میں اسلحہ یا بم پکڑا گیا ہے۔ مگر اس میں مسلمان ملوث نہ تھے۔ اس طرح مسلمانوں کی تشدد پسند تصویر میں کسی قدر کمی واقع ہوئی ہے ۔ ۳ ستمبر کی شام کو، ہم لوگ بروکلین پبلک لائبریری دیکھنے کے لیے گئے۔ گیٹ پر پہنچے تو اندر سے ایک سفید فام شخص نکل رہا تھا۔ یہاں عام طور پر لوگ اچانک سوال کرنا پسند نہیں مگر میرے مختلف حلیہ اور میری پگڑی کو دیکھ کر وہ چپ نہ رہ سکا۔
جناب کلیم الدین صاحب جو پتلون پہنے ہوئے تھے ان سے کہا کہ کیا یہ سکھ ہیں : Is he a Sikh? سکھ بہت چھوٹی اقلیت ہیں ۔ مگر انھوں نے اپنی شناخت ساری دنیا میں اس طرح قائم کر رکھی ہے کہ وہ دور سے پہچانے جاتے ہیں ۔ لائبریری میں داخل ہوئے ۔ یہ ایک محل نما تین منزلہ عمارت تھی۔ اس میں ہر قسم کی سہولتیں اور انتظامات اعلیٰ معیار کے ساتھ موجود تھے ۔ تیسری منزل پر مذہب کا شعبہ تھا ۔ وہ بھی کافی جامع تھا ۔ میرے ذہن نے امریکہ کی اس پبلک لائبریری کا تقابل دہلی کی پبلک لائبریری سے کیا تو دہلی کی لائبریری اس کے مقابلہ میں ایسی نظر آئی جیسے راشٹرپتی بھون کی لائبریری کے مقابلہ میں کسی جھگی جھونپڑی کی لائبریری ۔
یہاں ہر قسم کی کتابیں مفت پڑھنے کے لیے دی جاتی ہیں ۔ لائبریری کی وسیع دنیا میں ہر قسم کی علمی سہولتیں موجود ہیں ۔ ہر ضرورت کے لیے کثرت سے کمپیوٹر لگے ہوئے ہیں ، آپ خود انھیں استعمال کریں ، لائبریری کے عملہ کی مدد سے ان سے فائدہ اٹھائیں۔
میں نے کمپیوٹر کے دو تجربے کیے ۔ پچھلے سالوں میں (Living with Islam) کے عنوان سے مغربی جرائد میں کئی مقالے شائع ہوئے ہیں ۔ ہم نے کمپیوٹر سے اس کے حوالے پوچھے ۔ ہی اس کی اسکرین پر تمام حوالے آگئے ۔ پھر ہم نے ایک اور بٹن دبائی تو ساتھ لگی ہوئی 'مشین پر ہلکی آواز شروع ہوئی اور ایک مقالہ کا پورا پرنٹ آؤٹ نکل کر باہر آ گیا ۔ پھر دوبارہ بٹن دبائی تو اس نے ایک اور مقالے کا مکمل پرنٹ آؤٹ نکال کر ہمیں دے دیا :
۱- دی اکونومسٹ ۴ اپریل ۱۹۹۲ ۲- دی اکونومسٹ ۱۸ مارچ ۱۹۹۵ یہاں کچھ لوگوں نے زبانی طور پر ایک قصہ بتایا ۔ یہ ایک سفید فام عورت سوسن اسمته (Susan Smith) کا قصہ تھا۔ میں اس قصہ کو حوالے اور تاریخ کے ساتھ زیادہ متعین صورت میں جاننا چاہتا تھا ۔ مجھے عورت کا نام معلوم نہ تھا ۔ یہاں کی ایک خاتون کارکن سے ذکر کیا تو اس نے فوراً اس کا نام بتا دیا ۔ اب کمپیوٹر پر یہ نام بتایا گیا اور فوراً ہی اسکرین پر اس کے بارہ میں تفصیلی معلومات آنا شروع ہو گئیں ۔ اس واقعہ کی رپورٹیں اور اس کے بارہ میں آرٹیکل کثرت
سے کمپیوٹر کے اندر فیڈ کیے ہوئے تھے۔ کمپیوٹر نے ان سب کی معلومات ہم کو دینا شروع کر دیا۔ میں، ہم نے دو رپورٹوں کو حاصل کرنے کے لیے کمپیوٹر کا بٹن دبایا۔ اگلے ہی لمحہ پاس رکھی ہوئی مشین پر اس کا پرنٹ آؤٹ نکل کر باہر آگیا۔
یہ واقعہ امریکہ کی سفید فام نسل کے لیے یک بے حد شرم ناک واقعہ ہے۔ مگر وہ کسی کی بیٹی کے بغیر اپنی مکمل صورت میں کمپیوٹر کے خزانہ میں موجود تھا اور کوئی بھی آدمی کسی بھی وقت اس کو بلا قیمت حاصل کر سکتا تھا۔ یہی آزادی اور موضوعیت مغربی ملکوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہاں میں نے ایک غیر یہودی سے پوچھا کہ امریکہ میں یہودی اتنا زیاوہ چھائے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے اور ان کی طاقت کا راز کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، یہودیوں پر پچھلی تاریخ میں بہت مظالم ہوئے ۔ خود امریکہ میں بھی شروع شروع میں عیسائی ان پر بہت زیاد تیاں کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں یہودیوں میں ایک قسم کا جذبہ بقا (survival instinct) پیدا چنانچہ وہ ہر معاملہ میں ذمہ داری اپنے آپ پر لیتے ہوئے جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں ملک کی قوت کے لیے بہت کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ دینے والا سماج (giver society) بن گئے ہیں۔ اس طرح دھیرے دھیرے ان کے خلاف نفرت ختم ہوگئی۔
ایک طالب علم سے بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ یہاں کے اچھے اسکولوں میں بالکل غیر متعصبانہ ماحول ہے۔ مثلاً کوئی یہودی نوجوان اگر ایک واقعہ کو لے کر عربوں کی برائی بتائے تو فوراً کوئی بول دے گا کہ تم جنرلائزیشن کر رہے ہو۔ تم کو آبجیکٹو رہنا چاہیے۔ اس طرح یہاں کے طالب علم کے اندر متعصبانہ ذہن پرورش نہیں پاتا۔
مذکورہ اسباب کی بنا پر میری رائے ہے کہ مغربی تہذیب دجال کا ظہور نہیں، اپنے امکانات کے اعتبار سے وہ اسلام کے حق میں تائیدِ الٰہی کا ظہور ہے۔ اس نے وہ تمام اسباب پیدا کر دیے ہیں جو ادخال الکلمہ کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے۔ اب ہمیں ایک طرفہ طور پر مدافعت کرکے وہ حالات پیدا کرنا ہے جس میں نارمل انداز میں اسلام کی اشاعت ہونے لگے۔ نیو یارک ٹائمس یہاں کا بہت مشہور اخبار ہے۔ دہ (۱۸۵۱) جاری ہوا تھا۔ اس کی پیشانی پر ہر روز یہ جملہ لکھا ہوتا ہے ــــــــ تمام خبریں جو چھاپنے کے قابل ہوں :