Al-Risala · October 1998

All the news thats fit to print.

Al-Risala, October 1998, pp. 30–37

By Maulana Wahiduddin Khan

موزوں خبروں کے انتخاب کا فیصلہ کونہن کرے گا۔ اس کا فیصلہ اخباری انڈسٹری کا مفاد (انٹرسٹ) کرے گا نہ کہ خود خبروں کی اپنی نوعیت۔ یہیں سے اخبار یا میڈیا کا رول مکمل طور پر یک رخا ہو جاتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اخبار ہمیشہ شور یا دھماکہ والی خبروں کو زیادہ لیتا ہے۔ تعمیری خبروں کی اس کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں۔

ایک صاحب کو الرسالہ کی تنقیدوں سے اختلاف تھا۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ میں اور مجھ میں جو فرق ہے وہ صرف یہ کہ آپ لوگوں نے اپنے اکابر کو معیار بنایا ہے اور ہم نے اصحاب رسول کو معیار بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے دفاع میں کچھ باتیں کہیں ۔ مثلاً یہ کہ کیا اکابر غلطی پر تھے۔ میں نے کہا کہ آپ یا کوئی شخص جو بھی کہے ، میں اللہ کے فرشتوں کے سامنے جو الفاظ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ اس وقت جب کہ لوگ اپنے اکابر کو معیار بنائے ہوئے تھے، میں نے اعلان کیا کہ اے مسلمانوں ، اصحاب رسول کو معیار بناؤ۔

پھر میں نے کہا کہ آپ کا طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ کیوں کہ اکابر کی کوئی ایک قسم نہیں۔ یہاں درجنوں الگ الگ حلقے ہیں اور ہر حلقہ کے اپنے اکابر ہیں۔ اور ہر ایک اپنے ہی اکابر کو معیار پھر آپ کیسے یہ طے کریں گے کہ فلاں گروہ کے اکابر کو مانو اور فلاں گروہ کے اکابر کو مگر اصحاب رسول کا تو ایک ہی گروہ ہے۔ ان کو معیار ماننے کی صورت میں اس قسم کا کوئی مسئلہ سرے سے پیدا نہیں ہوتا۔

آج کل پریذیڈنٹ کلنٹن کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب ۸۰ اصغہ پر مشتمل ہے اور اس کتاب کا نام یہ ہے :

Between Hope and History: Meeting America’s Challenges for the 21st یہ کتاب الیکشن کے مقصد کے تحت لکھی گئی ہے جو نومبر ۱۹۹۶ میں ہونے والا ہے۔ یہاں کتنا زیادہ فکری آزادی ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ۲۴ ستمبر کو میں نے ایک تعلیم یافتہ امریکی سے اس کا ذکر کیا تو اس نے اس کو مایوسانہ (disappointing) قرار دیا۔ اس نے کہا کہ

لٹری پوائنٹ آف ویو سے وہ ایک معمولی کتاب ہے۔ اس کتاب میں مشکل سے ایسی کوئی سطر ہے جو کہ نومبر الیکشن کے بعد یاد رکھی جا سکے :

There is hardly a line in it that will be remembered beyond the November ۱۹۹۱ کی خلیجی جنگ میں سابق صدر امریکہ جارج بش نے عراق کے صدر صدام حسین کو یا ان کی فوج کو آخری حد تک تباہ کرنے سے پہلے چھوڑ دیا تھا۔ اب صدام حسین نے دوبارہ کردستان (جنوبی عراق) میں اپنی فوجیں داخل کردیں ۔ اس کے فوراً بعد صدر کلنٹن کے حکم سے امریکی فوجوں نے عراق پر میزائل کے ذریعہ حملے کیے۔ یہ حملے ستمبر ۱۹۹۶ کے آغاز میں کیے گئے، جب کہ میں امریکہ میں

تاہم اس بار یہ معاملہ بے حد نازک ہے۔ چنانچہ صدر کلنٹن کو ابھی وہ عالمی تائید نہیں ملی ہے جو جارج بش کو اپنے فوجی اقدام پر مل گئی تھی ۔ اس کی کم از کم ایک وجہ وہ ہے جو ایک امریکی پروفیسر نے بتائی ۔ اس نے کہا کہ صدام کو روکنا بہت ضروری ہے۔ مگر اس بار ہماری پوزیشن بہت زیادہ مضبوط نہیں ، کیوں کہ اس بار صدام خود اپنے ملک میں ہے :

But we’re not on very firm ground this time because he is in his own نیویارک میں جناب محمد ابراہیم شیخ (7266-252-718 .Tel) سے ملاقات ہوئی۔ الرسالہ مشن سے مکمل اتفاق ہے۔ وہ الرسالہ اور کتابوں کو ۲۰ - ۲۰ بار پڑھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں الرسالہ اتنا پھیلے گا کہ وہی مسلمانوں کا عمومی فکر بن جائے گا۔ ان کی اہلیہ ایک امریکی نومسلمہ ہیں۔ ان کا نام زرینہ شیخ ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسلام کی طرف آپ کو کیسے رغبت ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے انھیں محسوس ہوتا تھا کہ ان کی زندگی میں کوئی چیز مفقود ہے۔ اس مفقود چیز کو انھوں نے اسلام میں پالیا : Before embracing Islam, there was something missing that she found

نماز ظہر کے بعد ہم لوگ اسلامک سنٹر سے روانہ ہو کر عبیدالرحمن خاں صاحب کے مکان پر گئے۔ یہاں کچھ آدمی اکٹھا ہوگئے۔ عصر تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک بات میں نے کہی کہ یہاں کے مسلمان اپنی نئی نسل کے بارہ میں بہت متر ددر ہتے ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کی اگلی نسل ’’اسلامی شناخت‘‘ کو کھودے گی۔ مگر میں ان لوگوں کے بارہ میں بہت زیادہ پرامید ہوں۔ مگر مروجہ اسلامی شناخت یا ملی شناخت در اصل تاریخی شناخت ہے۔ وہ اس اسلام کی شناخت نہیں جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں پایا جاتا تھا۔

میں نے کہا کہ قدیم نسل کنڈیشنگ کی وجہ سے اصلی اور فطری اسلام کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے۔ نئی نسل اس قسم کے ذہنی بوجھ سے آزاد ہے۔ اس لیے خالص اور بے آمیز اسلام کو زیادہ سمجھ سکتی ہے۔ امریکہ میں انگریزی کتابوں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ لٹریچر غالباً سلفی حضرات کی طرف سے فلڈ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد صوفی لٹریچر کا نمبر ہے۔ اور پھر مختلف تحریکوں اور تجارتی اداروں کے شائع کردہ لٹریچر ہیں۔ تاہم میرا احساس ہے کہ ان میں زیادہ تعداد ان کتابوں کی ہے جن میں اپنے اپنے گروہی یاذاتی رجحانات کی تبلیغ کی کوشش کی گئی ہے۔ اسلام کو موضوعی انداز میں پیش کرنے والی کتابیں نسبتاً بہت کم ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود اسلام لوگوں کے اندر جوش تبلیغ پیدانہیں کرتا بلکہ اپنا اسلام‘‘ زیادہ تبلیغی جوش پیدا کرتا ہے۔ ایک کتاب پڑھی۔ اس میں اسلامی عبادت کو جسمانی ریاضت کے ساتھ وابستہ کرکے بتایا گیا تھا کہ — اس کا ایک جملہ یہ تھا کہ یہ بات دھیان میں رکھنا چاہیے کہ اکثر اسلامی عبادتیں مثلاً نماز اور حج جسمانی صحت کے متقاضی ہیں :

It is important to point out that many of the devotions in Islam like Salat and Hajj require a body that is physically fit. Islam the Natural Way, by Abdul Wahid Hamid. مصنف نے اسلامی عبادتوں کو محض ان کے فارم کے اعتبار سے لیتے ہوئے انھیں ایک طرح کا جسمانی فعل سمجھ لیا۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ عبادات کے ساتھ جسمانی فعل کا پہلو اس کا صرف ظاہری پہلو ہے۔ اس کا حقیقی پہلو اس کی داخلی کیفیت ہے۔ اسی لیے معذور شخص کی عبادت بھی اتنی ہی کا مل قرار پاتی ہے جتنی کہ ایک تندرست آدمی کی عبادت ۔ حتی کہ اگر معذور آدمی کی

عبادت میں داخلی کیفیت بڑھ جائے تو وہ تندرست آدمی کی عبادت سے زیادہ افضل ہو جائے گی۔ ایدھی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کا مرکز پاکستان میں ہے۔ مگر اس نے مختلف ملکوں میں نیزامریکہ میں بھی شاخیں کھولی ہیں۔ نیویارک برانچ کی طرف سے اس کا آرگن ویلفیر جرنل کے نام سے شائع یہ بیک وقت اردو، انگریزی دونوں زبانوں میں ہوتا ہے۔ اس میں مسلسل الرسالہ کے اردو اور انگریزی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اسپین کا سفر نامہ پورا کا پورا اس جرنل نے قسط وار شائع کیا ہے۔ نیویارک کے قیام کے زمانہ میں میں نے 1996 کے کچھ شمارے دیکھے جن میں الرسالہ کے اردو اور انگریزی مضامین نقل کیے گئے تھے۔ یہ جرنل اخباری سائز پر ہے اور نیویارک سے چھپتا ہے (718-6395120 .Tel)

4 ستمبر کی شام کو نیویارک کے میاں اصغر علی صاحب اور ان کے ساتھی ملاقات کے لیے انھوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ دوسری قوموں میں بہت جلد اتفاق ہو جاتا ہے۔ میں سے کسی کی قیادت کو مان کر متحد ہو جاتے ہیں۔ مگر مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد قائم نہیں ہوتا۔ ہمیشہ آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں۔ اس بنا پر کچھ لوگ شبہ کرنے لگے ہیں کہ شاید مذہب اسلام میں کوئی خرابی تو نہیں۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں جب مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہوا تو ہمارے لکھنے اور بولنے والے لوگوں نے مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ تم دنیا کے امام ہو، اٹھو اور عام یاگی امامت و قیادت اس طرح تمام مسلمانوں میں برتری کا جذبہ ابھار دیا گیا یہ ایک بے معنی بات تھی کیونکہ زندگی میں اصل ضرورت تواضع کی ہے نہ کہ برتری کی۔ امام تو ایک ہوتا ہے۔ باقی تمام لوگوں کو مقتدی بننا پڑتا ہے ۔ 10 ہزار میں 9999 آدمیوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، تب ایک شخص آگے بڑھ کر امامت اس لیے صحیح بات یہ تھی کہ لوگوں میں اطاعت کا جذبہ ابھارا جاتا۔ تواضع اتحاد کی جڑ ہے اور برتری اختلاف کی جڑ۔

انھوں نے کہا کہ انسان تو خدا کا خلیفہ ہے۔ یعنی وہ خدا کا ڈپٹی اور نائب ہے۔ پھر اس طریق تعبیر میں کیا میں نے کہا کہ یہ نظریہ بذات خود بے اصل ہے کہ انسان خدا کا نائب اور ڈپٹی ہے۔ کا عبد ہے۔ اسی لیے کلمہ شہادت میں یہ نہیں ہوتا کہ ا شہد ان محمداً خليفته ورسوله

بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اشھدُ ان محمداً عبدہ و رسولہٗ۔

پھر میں نے کہا کہ اس قسم کی تعبیرات کے عملی نتائج کو دیکھ کر جدید طبقہ اسلام کے بارے میں تشکیک میں پڑگیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے لوگوں پر تنقید کرکے ان کی غلطی کو واضح کیا جائے جنھوں نے اس قسم کی تعبیرات پیش کیں۔ اگر آپ تنقید نہ کریں تو لوگ خود اسلام کے بارہ میں مشتبہ ہو جائیں گے ۔ تنقید کرنا گویا اس الزام کو اسلام سے ہٹا کر کچھ افراد پر ڈالنا ہے، اور تنقید نہ کرنا گویا افراد کو بچا کر اسلام پر الزام کو باقی رہنے دینا ۔

نیویارک سے نکل کر ہم لوگ الغزالی اسکول پہنچے۔ یہ ایک ہائی اسکول ہے جس کو عربوں نے قائم کیا ہے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ عرب اساتذہ بیشتر میری کتابیں پڑھے ہوئے تھے۔ اسکول میں ہال کی صورت میں ایک مسجد بھی ہے۔ اس کے دروازہ پر ایک طالب علم کے ہاتھ کا لکھا ہوا حسب ذیل کتبہ ہے: اذا دخلت المسجد فلا تجلس حتى تصلى ركعتين (ديم عبداللہ العبد القادر )

امریکہ میں (دوسرے مغربی ملکوں کی طرح) چائلڈ ابیوز (child abuse) کا سرکاری ادارہ ہے جو سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کرتا ہے ۔ وہ سرپرستوں کے مقابلہ میں بچوں کا دفاع کرتا کلیم الدین صاحب نے ایک دل چسپ بات بتائی۔ ان کی بچی ذکریٰ یہاں پبلک اسکول میں ایک سال پہلے کا واقعہ ہے، وہ اسکول گئی تو اس کی خاتون ٹیچر نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں رنگ کی مانند کچھ لگا ہوا ہے۔ اس نے فوراً بچی کے والدین کو ٹیلی فون کیا ۔ ان کو شبہ تھا کہ بچی کے والدین نے اس کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے جس کا نشان اس کے ہاتھ پر ہے ۔ نے تحریری طور پر بتایا کہ بچی کے ہاتھ پر جو نشان ہے وہ دراصل مہندی کا نشان ہے جو ہمارے کلچر میں "میک اپ" کے مقصد کے تحت استعمال کی جاتی ہے تب جاکر انھیں چھٹی ملی۔ الغزالی اسکول سے پھر ایک اور صاحب کے ساتھ روانگی ہوئی۔ یہ ایک سفید فام نومسلم مسٹر عبد الرحمن تھے۔ ان کا سابق نام مسٹر بینڈر (Timothy B. Bender) تھا۔ ان کی عمر ۴۷ سال ہے اور انھوں نے اسی سال ۱۹۹۶ میں اسلام قبول کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کس چیز نے آپ کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے کہا کہ جنت کا شوق۔ میں نے پوچھا کہ اسلام قبول کرنے

کی بعد آپ خوش ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ بہت خوش (very happy)

عبدالرحمن صاحب کے ساتھ روانہ ہو کر میں ڈاکٹر سلیم اے خان کے اسٹور میں پہنچا جو ٹرنٹن میں واقع ہے۔ یہاں دوسری طبی چیزوں کے علاوہ آکسیجن مشین (Oxygen concentrator) سپلائی کی جاتی ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے ہے جو اپنی سانس کے ذریعہ بقدر ضرورت آکسیجن نہیں لے سکتے ۔ یہ مشین ہوا سے آکسیجن لے کر انھیں باہر سے آکسیجن پہنچانے کا کام کرتی ہے۔ راستہ میں ایک جگہ گایوں کافارم نظرآیا ۔ مگر وہ بھی پارک کی طرح تھا۔ تمام جانور خوب صورت دیواروں کے اندر تھے کوئی جانور سڑکوں یا راستوں پر گھومتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ میں نے سوچا کہ گائے کے تقدس کے نام پر جھگڑے انڈیا میں ہوتے ہیں۔ اور صحیح معنوں میں گائے کا حق امریکہ میں ادا کیا جاتا ہے جو گائے کے تقدس کا قائل نہیں۔

مولانا ذکی صاحب نے بتایا کہ یہاں والنٹیرزم بہت زیادہ ہے۔ بہت سے کام مثلاً راستوں کی صفائی اور قانون کا احترام) لوگ بالکل رضا کارانہ طور پر انجام دیتے ہیں۔ سوچا کہ امریکہ میں دو سو برس سے جمہوریت کا نظام قائم ہے۔ ہر چار سال پر بالکل پر امن طور پر حکومت بدل جاتی ہے۔ جیتنے والا حکومت چلاتا ہے ، ہارنے والا اپنی ہار مان لیتا ہے۔ اس طرح ہے کہ یہاں کا سماج تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں اس کے لیے تیار کیا جا چکا ہے۔ کسی ملک میں اسلامی نظام بھی اس وقت قائم ہوگا جب کہ وہاں کے سماج کو اس کے موافق بنایا جا چکا ہو۔ سماجی تعمیر کے بغیر حکومت کی تشکیل کا خیال ایک دیوانہ پن ہے نہ کہ کوئی واقعی

چلتے ہوئے ایک جگہ سڑک مڑی تو وہاں موٹے حرفوں میں ڈیڈ اینڈ (dead end) لکھا مولانا ذکی صاحب نے کہا کہ اسی طرح مغربی تہذیب بھی اپنے ڈیڈ اینڈ پر پہنچ چکی ہے۔ مثلاً سابق صدر جارج بش نے چھ بلین ڈالر ڈرگ کے استعمال کو روکنے پر خرچ کیے ۔ ایک فی صد بھی کمی نہ ہوسکی۔ ہتھیاروں کی انڈسٹری پر انھوں نے اپنی اقتصادیات کو قائم کیا۔ اب اس کے مواقع دن بہ دن ختم ہوتے جارہے ہیں۔ فیملی لائف یہاں کی تباہ ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ مگر اسلام کو ان کے سامنے متبادل کے طور پر لانے کے

لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی قومی لڑائی کو، اپنی نفرت کی پالیسی کو ختم کرنا ہوگا۔ راستہ میں ایک بڑی خوب صورت دکان دوبارہ ایک پارک نما میدان میں کھڑی ہوئی یہ گاؤں کی گرو سری (کھانے پینے کے سامان کی دکان) تھی۔ ہمارے یہاں شہروں میں بھی اس قسم کی صاف ستھری دکان نہیں۔

انھوں نے ایک صاحب کا قول بتایا کہ ”مولانا مودودی اتنے بڑے ہیں کہ کوئی ان سے چھوٹا بھی نہیں“ میں نے کہا کہ یہ تو لفظی تنگ بندی ہے۔ دوسرا شخص کہہ سکتا ہے کہ ”مولانا مودودی اتنے چھوٹے تھے کہ ہر شخص ان سے بڑا ہے“ میں نے کہا کہ ہمارے یہاں تنقید اور تعریف دونوں میں اس طرح کے الفاظ بولنے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے الفاظ سے نہ کسی کا بڑا ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ کسی کا چھوٹا ہونا۔

پروگرام کے مطابق تھوڑی دیر کے لیے مذکورہ اسٹور پر بیٹھا۔ وہاں لوگوں سے مختصر گفتگو اس کے بعد جناب محمد ذکی الدین الاشرفی آ گئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ان کے گھر پہنچا۔ یہاں غسل کیا۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ ذکی الدین صاحب سے نہایت مفید باتیں پھر انھوں نے مجھ کو اسلامک سنٹر (ٹرنٹن) پہنچایا جس کے وہ ڈائرکٹر ہیں۔ ذکی الدین صاحب نہایت ذہین آدمی ہیں۔ عربی تعلیم کے بعد امریکہ آ کر انھوں نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ انھوں نے اپنے کئی قصے سنائے ۔

دوپہر کا کھانا مولانا ذکی الدین الاشرفی کے مکان پر کھایا۔ اس کے بعد ان کے صاحب زادہ محمد نقی الدین ذکی (پیدائش ۱۹۰۵ء) کے ہمراہ قیام گاہ (ماؤنٹ ہالی) کے لیے روانگی ہوئی۔ میں ان سے گفتگو ہوتی رہی۔

انھوں نے کہا کہ کالج میں میرے تعلقات زیادہ تر ہندو لڑکوں سے ہیں۔ ان سے اکثر مذہب پر گفتگو ہوتی ہے۔ ہندو طلبہ کہتے ہیں کہ اسلام میں ٹالرنس نہیں ہے۔ ہند و ازم کا کہنا ہے کہ سچائی صرف ہندو دھرم میں نہیں ہے۔ بلکہ سچائی ہر جگہ ہو سکتی ہے۔ مگر آپ لوگ کہتے ہیں کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ اسی وجہ سے ساری لڑائی ہے۔ اگر آپ لوگ ہمارے نقطۂ نظر کو مان لیں تو فرقہ وارانہ جھگڑے ختم ہو جائیں۔

میں نے کہا کہ ان لوگوں کا ایسا کہنا درست نہیں ۔ سماجی امن کے لیے اصل چیز ٹالرنس کی اسپرٹ ہے نہ کہ یہ عقیدہ کہ ہر مذہب یا ہر نظریہ سچا ہے۔ مثلاً یہاں امریکہ میں آپ دیکھئے، اکیڈمک حلقہ میں کوئی متشددانہ لڑائی نہیں ۔ اس کی وجہ نہیں ہے کہ ہر اسکالر دوسرے اسکالر کے نقطہ نظر کو درست مانتا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ اختلاف کے وقت وہ کہہ دیتے ہیں :

Printed page