Let us agree to disagree
Al-Risala, October 1998, pp. 37–43
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ ٹالرنس کی اہمیت اسلام میں بھی اتنی ہی ہے جتنا کہ ہندو ازم میں۔ ہے کہ ہندو ازم میں ٹالرنس کی بنیاد باہمی اعتراف (mutual recognition) پر ہے اور اسلام میں ٹالرنس کی بنیاد باہمی احترام (mutual respect) پر ۔ اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر عین وہی ہے جو سائنٹفک کمیونٹی میں عملاً رائج ہے ۔
اسلامک سنٹر میں عربی اخبار المسلمون (۵ مئی ۱۹۹۵) دیکھا ۔ اس میں ایک رپورٹ فلسطین کے بارہ میں چھپی ہوئی تھی ۔ اس کا عنوان یہ تھا کہ قدس اسلامی امت کو پکار رہا ہے : القدس تصرخ الامۃ الاسلامیة ۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس طرح کا عنوان ظاہر کرتا ہے کہ فلسطین کے معاملہ میں امت نے کچھ نہیں کیا ، اور اب فلسطین مسلمانوں کو مدد کے لیے پکار مگر یہ سراسر خلاف واقعہ بات ہے ۔ ۱۹۴۸ میں جب فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا تو شیخ حسن البنا نے قاہرہ میں پرجوش تقریر کر کے ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں ایک لاکھ سے زیادہ مصری شریک تھے ۔ جلوس کا نعرہ یہ تھا کہ اے فلسطین، ہم حاضر ہیں : لبيك يا فلسطين ۔
اس کے بعد فلسطینیوں ، عربوں اور ساری مسلم دنیا نے اس محاذ پر ہر قسم کی بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے فلسطین کے محاذ پر مزید کھو دیا۔ ان کی قربانیاں انھیں کچھ بھی دلانے میں کامیاب نہیں ہوئیں ۔ گویا آج مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان فلسطین کی مدد کے لیے نہیں دوڑے ۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مدد کے لیے دوڑ پڑنے کے باوجود انھیں ناکامی
کے سوا اور کوئی چیز حاصل نہیں۔ گویا آج اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امت کو فلسطین کی مدد کے لیے پکارا جائے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ غور کیا جائے کہ مسلمانوں کی کامل مدد کے باوجود ان کی مدد مفید کیوں نہیں ہوئی ۔
۷ ستمبر کو ماؤنٹ ہالی کے اسلامک سنٹر میں ڈاکٹر نجم اختر (۳۲ سال) سے ملاقات ہوئی۔ (301-3360241 .Tel) انھوں نے الیکٹرانک کمیونی کیشن میں ڈاکٹریٹ تک تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ امریکہ کی ایک بڑی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن (Locheed Martin) میں ہیں۔ یہ کمپنی فوجی اہمیت کے سامان تیار کرتی ہے۔ انھیں یہودیوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے ۔ اب وہ یہاں سے چھوڑ کر سعودی عرب جارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ۔ یہودیوں کی ترقی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت پارٹی ورکر ہوتے ہیں اور بہت لگن والے (extremely dedicated) ہوتے ہیں یہی ان کی ترقی کا اصل راز ہے۔
دوسری بات یہ کہ یہودیوں میں قومی سوچ بہت زیادہ ہے۔ کوئی یہودی خواہ وہ کہیں بھی ہو، وہ ہمیشہ اسرائیل کے بارہ میں سوچ رہا ہوتا ہے ۔ حتی کہ وہ مذہب کو بھی اس معاملہ میں رکاوٹ نہیں بناتا ۔ اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اگر میرے کام کا ہے تو میں مسلمان کو لوں گا ، یہودی کو نہیں لوں گا۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے کام کے لیے بہترین آدمی کون ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ میرا انٹرویو ہوا تو کل پانچ امیدوار تھے۔ ان میں ہندو، عیسائی ، یہودی سب میں اکیلا مسلمان تھا۔ مگر انھوں نے میرا انتخاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی آپ کو نماز پڑھنے سے نہیں روکتا ۔ مگر لوگ خود نماز چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ مجھے دوسروں کے جیسا ہونا چاہیے ۔ وہ اس میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں سے الگ نہ دکھائی دیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ یہودی کمپنی میں تعصب کیا گیا تو وہ غلط وہ اپنی کمزوری کا الزام دوسرے کے اوپر ڈال رہا ہے۔
نیویارک میں میرا قیام خواجہ کلیم الدین ایم ایس سی کے مکان بروکلین) میں تھا ۔ ۵ ستمبر ۱۹۹۶ کی صبح کو یہاں سے روانگی ہوئی ۔ راستہ میں ہم لوگ چند پل سے گزرے۔ معلوم ہوا کہ نیویارک میں ۶۷ واٹر کراسنگ ہیں۔ نیویارک مختلف جزیروں پر واقع ہے ۔ ایک جزیرہ سے دوسرے
جزیرہ میں آنے جانے کے لیے بہت سے راستے بنائے گئے ہیں۔ کچھ پانی کے اوپر سے پل کی صورت میں اور کچھ پانی کے نیچے سے سرنگ کی صورت میں۔ دونوں قسم کے راستوں کے لیے ایک مشترک لفظ واٹر کراسنگ ہے۔
خواجہ کلیم الدین صاحب نے بتایا کہ نیو یارک میں انھوں نے ایک عرب سے ملاقات ان کو الرسالة مشن کی کچھ کتابیں دیں اور کہا کہ اس ملک میں ہمیں دعوت کا کام کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے پڑوسیوں کا حق ادا کریں گے بلکہ دعوت کے ذریعہ ہمیں دوسری قوموں کے افراد حاصل ہوں گے جو ہمارے لیے بے حد کارآمد ثابت ہوں گے۔ نے جواب دیا کہ یہ تو ایک رسکی کام ہے۔ کیا معلوم کہ اسی بہانے دشمن قوم کے افراد ہمارے اندر داخل ہو جائیں تاکہ وہ ہمارے راز دریافت کریں اور اندر سے ہمیں نقصان پہنچائیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام تصور یہ ہے کہ تمام قومیں ہماری دشمن ہو گئی ہیں اور وہ ہمارے خلاف سازش کرتی رہتی ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ خود یہ تصور شیطان کی سب سے بڑی سازش ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ ہم کو مدعو قوموں سے متنفر کر دے تاکہ ہم ان کے اوپر اسلام کی دعوت کا کام کرنے کا خیال ہی چھوڑ دیں۔ خواجہ کلیم الدین صاحب نے کہا کہ یہ (Them versus us) کا تصور ہے جو قومی ہے نہ کہ اسلامی۔
نیو یارک میں خواجہ کلیم الدین صاحب کے یہاں ایک روز میں کھانے کی میز پر تھا۔ کے چھوٹے صاحب زادے لقمان میاں ایک پلیٹ لائے اور اس کو میرے سامنے رکھ دیا۔ کے گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس میں سے لیجیے۔ میں نے پلیٹ کو اپنے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا: mere sight is horrible - وہ میرے ہندوستانی لہجہ کو پوری طرح سمجھ نہ سکے۔ مزید وضاحت کے بعد انھوں نے اس بات کو اپنی زبان میں اس طرح کہا : Even looking at it makes me feel sick. سوال کے جواب میں میں نے بتایا کہ بوقت ضرورت میں گوشت بھی کھا سکتا ہوں مگر میں پیدائشی اعتبار سے ویجیٹیرین ہوں۔ میری والدہ اگر چہ گوشت کھاتی ہیں، مگر میرے والد مکمل طور پر ویجیٹیرین تھے جن کا انتقال ۱۹۲۹ میں ہو گیا۔ میری چچازاد بہن مریم مرحومہ کا یہ حال تھا
کہ جس چمچہ سے گوشت نکالا گیا ہو اس چمچہ سے اگر دال یا سبزی نکالی جائے تب بھی وہ اس کو نہیں کھا سکتی تھیں ۔ اس طرح میرے خاندان میں کئی عورت اور مرد ویجیٹیرین رہے ہیں۔ میں بائی برتھ ویجیٹیریان ہوں نہ کہ بائی چوائس۔
۵ ستمبر ۱۹۹۶ء ــــ اس وقت میں ماؤنٹ ہالی (Mount Holly) کے اسلامک سنٹر میں ہوں ۔ یہ ایک خوب صورت دنیا ہے جو فطرت کی خوب صورت تر دنیا میں واقع ہے۔ چاروں طرف فطرت کا سر سبز حسن پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک پر سکون ماحول ہے جس میں کسی چڑیا کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی قریب کی سڑک سے گزرنے والی کسی کار کی آواز۔ پچھلے ۲۵ سال میں مسلمانوں نے امریکہ میں اس طرح کے تقریبا ایک ہزار اسلامک سنٹر بنائے ہیں ۔ یہ سنٹر آبادیوں کے عین درمیان بھی ہیں اور موجودہ سنٹر کی طرح آبادی کے ہر پرسکون مقام پر بھی۔ میں نے ایک تقریر میں کہا کہ دورِ اول میں صحابہ کرام اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ اور مدینہ میں صحابہ کی قبریں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ حضرت خالد کی قبر شام میں ہے اور حضرت معاذ بن جبل کی قبر اردن میں ۔ اسی طرح صحابہ کرام کی زیادہ تعداد ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں جاکر آباد ہوگئی یہ دراصل جذبہ دعوت تھا جس نے انھیں عرب کے باہر مختلف ملکوں میں پہنچا دیا۔ زمانے کے مسلمانوں کا کیس بھی یہی ہے۔ یہ مسلمان ابتدائی طور پر جب یہاں آئے تو وہ معاش کے جذبہ کے تحت آئے۔ مگر حالات نے انھیں مجبور کیا کہ وہ یہاں اپنی اسلامیت کو زندہ کریں۔ کیوں کہ انھیں محسوس ہوا کہ اگر ہم نے اپنی اسلامی شناخت کھو دی تو ہم یہاں بالکل بے جگہ ہو کر رہ جائیں گے ۔ اب انھوں نے مسجدیں اور ادارے اور سنٹر بنانے شروع کر دیے ۔ طرح اب یہی ہوتا جارہا ہے کہ عملاً وہ یہاں اسلام کے نمائندہ اور داعی بن کر رہیں ۔ مولانا محمد ذکی الدین شرفی نوجوانی کی عمر سے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی تحریریں پڑھتے رہے ہیں ۔ وہ ان کے گہرے معتقد ہیں ۔ ایک روز انھوں نے ایک بات کہی۔ پھر میری فرمائش پر حسب ذیل الفاظ کا غذ پر لکھ کر مجھے دیے : مولانا مودودی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے جدید ریاست (modern state) کے تناظر میں قرآن کا تصور توحید
انتہائی تسلسل، وضاحت اور یقین محکم کے ساتھ بیان کیا (۶ ستمبر ۱۹۹۶)
اس عبارت میں جس چیز کو "جدید ریاست" کہا گیا ہے، وہ دراصل ریاست کا کمیونسٹ تصور تھا جو عرصہ ہوا ختم ہو گیا۔ مارکس نے ریاست کو ایک ہمہ گیر اور کلی ادارہ کے طور پر پیش کیا انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اس فکر کا غلغلہ بلند ہوا۔ مولانا مودودی، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، اس سے متاثر ہوئے اور اسلام کے تصور توحید میں سیاسی حاکمیت کا تصور شامل کر کے اسلام کو ایک کلی ریاست کے روپ میں مگر یہ قرآن کا تصور توحید نہیں تھا بلکہ وہ قرآن کی کچھ آیتوں کی غلط اور غیر علمی تفسیر تھی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تعبیر کی غلطی)
ریاست کا جدید تصور، مارکسی تصور سے بالکل مختلف ہے۔ جدید سیکولر جمہوری نظام میں ریاست سمٹ کر "انتظامیہ" کے ہم معنی بن گئی ہے۔ ایڈمنسٹریشن کے باہر تقریباً تمام شعبے آزاد انسانی شعبے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ مولانا مودودی اپنے حال میں گرفتار تھے اور ان کے معتقدین ماضی میں گرفتار ہیں۔ اول الذکر کا کیس اگر مرعوبیت کا کیس ہے تو ثانی الذکر کا کیس شخصیت پرستی کا کیس۔
۶ ستمبر کی شام کو میں ماؤنٹ ہالی کے سنٹر میں اوپر کی منزل میں واقع اپنے کمرہ میں لکھنے پڑھنے کے کام میں مشغول تھا کہ مجھے بتایا گیا کہ دو ہندوصاحبان آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ ہوا یہاں میری موجودگی کا علم ان کو کس طرح ہوا۔ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ مسٹر کملیش شاہ (Tel. 908-3294006) اور مسٹر بھر ت جانی (Tel. 908-2831863) ہیں۔ میں ان کو بالکل جانتا ان کو بمبئی سے مہیش بھائی نے خبر دی تھی کہ اس وقت میں امریکہ میں ہوں۔ نے مختلف جگہوں پر ٹیلی فون کر کے میرا پتہ معلوم کیا اور پھر یہاں پہنچ گئے۔ یہ لوگ ایک بہت بڑی تحریک سے وابستہ ہیں۔ اس کا سنٹر بمبئی میں ہے۔ امریکہ کی تقریباً ہر ریاست میں ہزاروں ہندو ان کی تحریک سے وابستہ تھے۔ وہ ایک بڑا اجتماع یہاں کرنا چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ میں اس میں اپنے خیالات پیش کروں۔ مگر طے شدہ پروگرام کی بنا پر کسی بڑے اجتماع کے لیے میں وقت نہیں دے سکتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے ۸۰ علوم درکار ہے۔ ان ۸۰ علوم میں مہارت کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ عام مسلمان کس طرح اسلام کو سمجھیں۔ کیا قرآن صرف ماہرین علوم کے لئے اترا ہے، عام انسانوں کے لئے عام لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ سمجھے بغیر قرآن کے الفاظ کی تلاوت کرتے رہیں، اور قرآن کو سمجھنے کا کام ماہرین علوم کے لئے چھوڑ دیں۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور) ” ۸۰ علوم “ میں مہارت کا نظریہ نہ قرآن وحدیث میں کہیں ملتا ہے اور نہ وہ کسی صحابی سے منقول ہے۔ اس کے برعکس قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ، اللہ تعالیٰ نے قرآن کو آسان بنا دیا تاکہ لوگ اسے سمجھیں (القمر ۴۰) ایسی حالت میں قرآن فہمی کا مذکورہ نظریہ خود قرآن کے مزید یہ کہ یہ قابل عمل بھی نہیں۔ اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ میں کوئی اسلامی شخصیت یا کوئی عالم ایسا نہیں جو ان مفروضہ ۸۰ علوم میں کامل مہارت رکھتا ہو۔ اب اگر مذکورہ اصول کو مان لیا جائے تو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ اسلام کی پوری تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں گذرا جو قرآن کو حقیقی طور پر سمجھے اور اس کی توضیح و تفسیر کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لئے اصلا صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے ۔ ایک ، عربی زبان کی بخوبی واقفیت ، اور دوسرے وہ چیز جس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے ، (البقرہ ۲۸۲) یعنی حسن نیت ، سنجیدگی اور سچی عربی زبان سے بخوبی واقفیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ قرآن کے بیانات کا بنیادی فہم حاصل کر سکے۔ اور تقویٰ اس بات کا ضامن ہے کہ وہ دوسرے ضروری ماخذوں سے بھر پور
استفادہ کرے مثلاً حدیث سے۔ اور اسی کے ساتھ وہ اس حد تک سنجیدہ ہو کہ اس غلطی سے بچ جائے جس کو تفسیر بالرائے کہا جاتا ہے۔