Al-Risala · October 1998

سوال و جواب

Al-Risala, October 1998, pp. 43–47

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کے دو طریقے ہیں۔ ایک، "قولی دعوت" اور دوسرے "فعلی دعوت"، فعلی دعوت کے بغیر دعوت کا عمل بے فائدہ ہے۔ مسلمان جب تک اپنے اخلاق وافعال سے اسلام کا مظاہرہ نہ کریں، محض تقریر و تحریر کے ذریعہ کوئی شخص اسلام سے قریب آنے والا اس لئے دعوتی مقصد کے تحت پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق واعمال اور سیرت و کردار کو درست کیا جائے۔ مسلمانوں کی عملی اصلاح کے بغیر صرف قولی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں (محمد یعقوب، حیدر آباد)

قولی دعوت اور فعلی دعوت کی تقسیم سراسر بے بنیاد ہے، قرآن وحدیث میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔ فعل بلاشبہ مطلوب ہے، مگر اس کا محرک ذاتی اصلاح ہے نہ کہ دعوت مثلاً روایات سے ثابت ہے کہ رسول اللہ غیر مسلموں کے مجمع میں جاتے اور ان کو خطاب کرتے ہوئے کہتے کہ، اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تم فلاح پاؤ گے ( ایها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا) مگر قرآن وحدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں آیا ہے کہ اے مسلمانوں، تم عمل صالح کرو تا کہ اس کو دیکھ کر لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ خلاف واقعہ بات مشہور ہے کہ دور اول میں لوگ مسلمانوں کے اخلاق کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اگر ایسا ہوتا تو کسی پیغمبر کو کبھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا۔ اصل یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کے دل دوسروں کی نفرت سے خالی تھے۔ انہوں نے کسی سے مادی جھگڑا

بھی نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معتدل فضا میں ملاقاتیں ہونے لگیں۔ اس دوران فطری طور پر اسلام زیر بحث آنے لگا۔ معتدل فضا میں یہی تفاعل (interaction) دعوت کے کام میں سب سے زیادہ مددگار ہے۔ میں اسلام کی عمومی اشاعت رک جانے کا سبب مسلمان کی بے عملی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تمام تر سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی قومی اور مادی تحریکوں نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرتیں پیدا کردیں۔ اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان معتدل فکری تعلق باقی اب دعوت کے مواقع کھولنے کے لئے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نفرت کو ختم کیا جائے۔ جیسے ہی نفرت کی فضا ختم ہوگی اسلام کا فطری پیغام لوگوں کے دلوں میں داخل ہونا شروع ہو جائے گا۔

قرآن کی سورہ المائدہ میں ارشاد ہوا ہے۔ ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئک هم الكفرون ( المائده ٤٤) اس آیت کو جب میں پڑھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں کہ آج ہم قرآن کریم کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ ہماری عدالتوں میں، ہمارے دیگر معاملات میں فیصلے قرآن کریم کے خلاف ہوتے ہیں آپ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعۃً ہی ہم کافر ہو گئے ہیں۔ کیا ہم اس حالت میں جو آج ہندستان میں رائج ہے جنت کے مستحق ہو سکتے ہیں (صدر الدین، پونچھ کشمیر)

اس آیت کا تعلق اجتماعی نظام سے نہیں ہے بلکہ فرد کے ذاتی عمل سے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندستان میں یا اس قسم کے دوسرے ملکوں میں قائم شدہ سیاسی

نظام سے لڑ کر اس کو بدلا جائے اور عدالتوں میں اسلامی قانون کے متعلق فیصلے کروائے اس قسم کے کسی نام نہاد انقلابی نظریہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کا خطاب تمام تر فرد سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے ساتھ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اس کے بارے میں شریعت کا مسئلہ معلوم کرے ، خواہ علماء کے ذریعہ یا دار الافتاء کے ذریعہ۔ اور جب شریعت کا مسئلہ معلوم ہو جائے تو پوری آمادگی کے ساتھ اس کو اختیار کرلے۔ مسلمان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ جو چیز شرعی قانون کے تحت اس کا حق نہیں ہے ، اس کو پانے کے لئے وہ ناحق طور پر ملکی عدالت میں پہنچ جائے اور جو چیز اس کو خدائی قانون کے تحت نہیں مل رہی تھی اس کو وہ انسانی قانون کی مدد سے حاصل کرنے کی وہ تمام افراد اس آیت کا مصداق ہیں جو اپنے نزاعات کو اسلامی اصول کے تحت طے نہیں کرتے بلکہ اس کو لے کر ملکی عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں تا کہ وہاں سے من مانا فیصلہ حاصل کر سکیں۔ اور شرعی قانون کے تحت جو چیز ان کا حق نہیں ہے اس کو وضعی قانون کی مدد سے اپنے لئے حاصل کر لیں۔

آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ ایڈجسٹمنٹ کی بات کرتے ہیں ، آپ دوسروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ نزاع کے موقع پر ایڈجسٹ کر کے رہیں۔ مگر آپ کا اپنا عمل اس کے خلاف ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسری اسلامی شخصیتوں سے جب آپ کا کوئی اختلاف ہو تا ہے تو آپ فوراً ان کے خلاف تنقید شروع کر دیتے ہیں ۔ ایڈجسٹمنٹ کے فلسفہ کے مطابق ، آپ کو ان کی تنقید یا مخالفت نہیں کرنا چاہئے ۔ احمد صدیقی ندوی ، لکھنؤ)

ایڈ جسٹمنٹ کا تعلق عمل سے ہے نہ کہ قول سے، یعنی دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو اس کی وجہ سے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے انہیں قول کے دائرہ میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرنا چاہئے۔ اختلاف کو عملی ٹکراؤ تک نہیں لے جانا چاہئے، عملی ٹکراؤ سے ہمیشہ طرح طرح کے نقصانات پیدا ہوتے ہیں، مگر سنجیدہ قولی اختلاف غیر معمولی فائدوں کا اگر کسی سماج میں قولی اختلاف یا تنقید کو ختم کر دیا جائے تو ایسے لوگوں کا ذہنی ارتقا رک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ظالم حکمراں کے خلاف قولی اعلان کو افضل جہاد بتایا مگر اسی ظالم حکمراں کے خلاف عملی خروج یا پر تشدد مخالفانہ کارروائی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

آپ کی کتاب فکرا سلامی پڑھی یہ پوری کتاب مجھے قابل اعتراض نظر آئی اس لئے کہ آپ اس کتاب کے مطابق یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو زمانہ حاضر کے مطابق ڈھالیں ۔ حالانکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ زمانہ کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے ۔ (مفتی نذر توحید مظاہری و مفتی شعیب قاسمی، چترابہار)

یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ اس کتاب کا موضوع اجتہاد ہے۔ اجتہاد کا مقصد یہ نہیں ہو تا کہ اسلام کو زمانہ حاضر کے مطابق بنایا جائے۔ بلکہ اجتہاد کا مقصد ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں از سر نو اسلام کو منطبق کرنے کی کوشش کی جائے۔

ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کو مدینہ سے بنو قریظہ کی بستیوں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ تم لوگ بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز ہر گز نہ پڑھنا۔ لیکن راستہ میں ان صحابہ کو محسوس ہوا کہ غروب آفتاب قریب آچکا ہے اور اگر انہوں نے راستہ میں عصر کی نماز نہ پڑھی تو بنو قریظہ پہنچنے تک اس کا وقت ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے راستہ میں عصر کی نماز پڑھ لی۔ صحابہ کا یہ عمل اسلام کو حالات کے مطابق ڈھالنا نہیں تھا بلکہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو منطبق کرنا تھا۔ کا نام اجتہاد ہے۔ یہ اجتہاد زندگی کی ایک فطری ضرورت ہے۔ وہ ہر حال میں اور ہمیشہ جاری مذکورہ کتاب میں اسلامی شریعت کے اسی پہلو کو زمانہ حاضر کی نسبت سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان اس اعلان کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ وہ اقتدار حاصل کر کے اسلامی قانون نافذ کریں گے۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے (محمد خالد ندوی) حضرت عائشہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے دلوں کو بدلا اور اس کے بعد شرعی قانون کا نفاذ فرمایا۔ افغانستان کے طالبان اس کے برعکس بم اور گن کے ذریعہ اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ طالبان اسلامی قانون کے نفاذ میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی انتہا پسندانہ اور متشددانہ کارروائیوں کے ذریعہ افغانستان میں جو چیز لائیں گے وہ صرف تباہی ہوگی۔ وہ نہ کوئی مادی تعمیر کر سکیں گے اور نہ اسلامی تعمیر۔

Printed page