Al-Risala · November 1998

دورِ قرآن

Al-Risala, November 1998, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

لندن کے انگریزی اخبار سنڈے ٹائمَس میں ایک تفصیلی رپورٹ چھپی ہے۔ رپورٹ کو مرتب کرنے والے جان ہارلو(John Harlow) ہیں۔ اس رپورٹ کا تعلق اصلًا بائبل سے ہے۔ اس کے ساتھ اس میں قرآن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کو دہلی کے انگریزی اخبار میں نقل کیا گیا۔

بائبل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دس سال پہلے تک مذہبی کتابوں میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب تھی۔ مگر اب اس کی مانگ میں قابلِ لحاظ حد تک کمی ہو گئی ہے۔ چرچ کی طرف سے بائبل کی مانگ کو برقرار رکھنے کی مختلف تدبیریں کی جا رہی ہیں۔ کے طور پر بائبل کے مختلف اجزاء کو نئے نئے عنوان دے کر چھاپنا۔ مگر قرآن کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں قرآن کے ترجمہ کی مانگ برابر بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۱۸۱۵ اور ۱۹۷۵ کے درمیان بائبل کے ۲ بلین سے زیادہ نسخے تقسیم کئے گئے۔ مگر جہاں تک فروخت کا تعلق ہے وہ نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے جب کہ قرآن کے ترجمہ کی فروخت مسلسل طور پر بڑھ ایک پبلشر کلیر پیٹرسن (Claire Paterson) نے کہا کہ اب ہمیں قرآن کا ترجمہ چھاپنا چاہیے۔

More than 2.5 billion Bibles were distributed between 1815 and 1975, but sales have markedly slowed down while those of the Koran have continued to increase. Claire Paterson, a Canongate ed- itor, said: Maybe we should do the Koran next. (The Sunday Times) (The Times of India, New Delhi, August 16,1998)

موجودہ زمانہ میں اس قسم کے مختلف واقعات پیش آرہے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ شاید اب وہ دور آگیا ہے جس کو مسند احمد کی ایک روایت میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ ایک ایسا دور آئے گا جب کہ اسلام کا کلمہ ساری دنیا میں پھیلے گا اور وہ ہر گھر میں داخل ہو

یہ اتنا بڑا کام ہے جو صرف اہل اسلام کے ذریعہ انجام نہیں پاسکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو واقعہ بنانے کے لئے دوسری قوموں کو اس عمل (process) میں شریک کر دیا۔ اس حقیقت کی طرف بخاری کی ایک روایت میں اشارہ موجود ہے۔ مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک اللہ اس دین کی تائید فاجر آدمی سے بھی کرے گا (ان اللہ لیؤید الدین بالرجل الفاجر)

اشاعت اسلام کے اس بین اقوامی منصوبہ کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے پچھلی صدیوں کے درمیان بہت سی بڑی بڑی تبدیلیاں فرمائیں۔ اس کے لئے مذہبی آزادی کا دور پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہوئی۔ کمیونی کیشن کو اس حد تک بڑھایا گیا کہ ساری دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہوگئی۔ مذہبی کتابوں کے مطالعہ کا ذوق عام ہو گیا۔ ایسی سامنے آئیں کہ ان کے بعد اسلام کو نئی علمی اور تاریخی اہمیت حاصل ہو گئی۔ ظہور کے بعد اسلام دوبارہ دنیا والوں کے لئے قابل توجہ چیز بن گیا۔ اس طرح کے مختلف حالات نے ادخال کلمہ کے پراسس کو موجودہ زمانہ میں تیز تر کر دیا ہے۔ یہ اشاعتی پراسس یقینی طور پر مسلسل جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری نشانہ تک پہنچ جائے۔

Printed page