Al-Risala · November 1998

زندگی کیا ہے

Al-Risala, November 1998, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے مرکزی تصور کیا ہے۔ وہ کون سا بنیادی نکتہ ہے جس کی روشنی میں زندگی کے تمام معاملات کی توجیہ کی جاسکتی ہے۔

خدائی تعلیم کے مطابق، یہ مرکزی نکتہ یا بنیادی تصور، صرف ایک ہے۔ الفاظ میں وہ ابتلاء (الملک ۲) ہے۔ یعنی آزمائش (test) ۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی خدائی ٹسٹ پر ہے۔ خدا کے فرشتے ہر لمحہ اس ٹسٹ کی رپورٹ تیار کر رہے ہیں۔ اسی رپورٹ پر اگلے مرحلہ حیات میں آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور پھر کسی کو جنت میں داخلہ ملے گا اور کسی کو جہنم میں۔

یہ ٹسٹ کیا ہے۔ وہ ٹسٹ یہ ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں جن احوال سے دوچار ہوتا ہے ان میں وہ کیا رسپانس دیتا ہے۔ ایک قسم کا رسپانس آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے اور دوسری قسم کا رسپانس اس کو جہنم والوں کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ اصولی اعتبار سے اس رسپانس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک کو ربانی رسپانس کہا جا سکتا ہے اور دوسرے کو شیطانی رسپانس۔ ربانی رسپانس یہ ہے کہ آدمی جب کسی صورت حال سے دوچار ہو تو وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس معاملہ میں خدا کی مرضی کیا ہے۔ نے آپ کو غصہ دلا دیا تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ غصہ کا جواب غصہ سے دینا اللہ کو پسند ہے یا غصہ کا جواب معافی سے دینا۔ اسی طرح اتفاقی اسباب سے کسی کا مال آپ کے قبضہ میں آگیا تو آپ کو سنجیدگی کے ساتھ یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہئے کہ ایسا مال مجھے اپنے پاس رکھنا چاہئے یا اس کو اصل مالک کی طرف لوٹا دینا چاہئے۔

اسی طرح ایک صورت حال سامنے آتی ہے جب کہ جھوٹ بول کر مقبولیت ملتی ہے اور سچ بولنے سے آدمی کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی محبوبیت کھودے گا۔ ایسے موقع پر چاہئے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ معلوم کرے کہ دونوں میں سے کون سا سپانس خدا کو اس سے مطلوب ہے اور پھر اس کو اختیار کر لے۔

آدمی ہر لمحہ مختلف احوال سے دوچار ہوتا ہے۔ صبح و شام اس کے ساتھ مختلف قسم کے معاملات پیش آتے رہتے ہیں۔ یہ احوال و معاملات سب کے سب امتحان کے پرچے آدمی کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ ان پرچوں کو کس طرح حل کرتا

ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذاتی خواہش پر چلے۔ وہ صرف اپنے ذاتی فائدے کو وہ ہر معاملہ میں اپنی ذاتی رائے کو اختیار کرے۔ ایسا آدمی اپنے امتحانی پرچے کو حل کرنے میں ناکام ہو گیا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ خدا اور رسول کی طرف رجوع کرے۔ وہ قرآن و حدیث میں اس کا مسئلہ تلاش کرے۔ اور پھر خدا کی کتاب اور رسول کی سنت سے جو حکم ملے اس کو دل کی پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔

موجودہ دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا نہ انعام کے لئے ہے اور نہ سزا کے لئے۔ بلکہ دونوں ہی آزمائش کے لئے ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر معاملہ کو اسی نظر سے دیکھے۔ جب اس کو کوئی چیز ملے تو وہ خدائی قانون کے مطابق اس کا حق ادا کرے۔ اور جب کوئی چیز اس سے چھینی جائے تب بھی وہ وہی کرے جو خدائی قانون میں ایسے موقع پر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

Printed page