Al-Risala · November 1998

ظالم انسان

Al-Risala, November 1998, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

پانی اس مقام سے اندر داخل ہو جاتا ہے جہاں سوراخ ہو۔ ٹھیک اسی طرح ظالم انسان عین اس مقام سے آپ پر حملہ کرتا ہے جو آپ کا نازک مقام (vulnerable point) پانی کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لئے سوراخ کو بند کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح آپ کو چاہئے کہ اپنے نازک مقام کی نگرانی کرتے رہیں تاکہ ظالم لوگوں کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ آپ کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں۔

یہ صورت حال امتحانی آزادی کی بنا پر ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی۔ آپ اس کو ختم نہیں کر سکتے۔ البتہ آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ اپنے معاملات کو ایسی محتاط صورت میں انجام دیں کہ کسی ظالم کو آپ پر ظلم کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ ظالم سے اس قسم کا تحفظ کوئی مشکل کام نہیں ۔ وہ ہر ایک کے بس میں ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو سر گرم رکھے اور جو معاملہ کرے اس کے تمام پہلوؤں کو پیشگی طور پر سمجھ لے۔ اس سلسلہ میں مشورہ نہایت مفید چیز ہے۔ اگر آدمی کے اندر مشورہ کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو تو مشورہ ہی اس معاملہ میں اس کے تحفظ کے لئے کافی ہو جائے گا۔

خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ آج پیش آیا ہے وہ اس سے پہلے ہزاروں لوگوں کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ ماضی اور حال کے لوگوں میں وہ تجربات بار بار دہرائے جا چکے ہیں جس سے آپ آج دوچار ہو رہے ہیں۔ اس لئے اگر آپ اپنی آنکھوں کو کھلا رکھیں تو آپ جان لیں گے کہ کسی معاملہ میں ایک غلطی کر کے آپ جس ناخوشگوار

تجربہ سے دوچار ہونے والے ہیں عین اسی قسم کی غلطی کی ایک مثال کسی اور شخص کی زندگی میں پہلے سے موجود ہے۔

دوسروں کے تجربات آپ کے لئے بہترین رہنماہیں۔ اگر آپ دوسروں کے تجربات سے سبق لینا سیکھ لیں تو یہ بات آپ کے لئے اس کی ضمانت بن جائے گی کہ آپ کو ان نقصانات سے دوچار ہونا نہ پڑے جس سے دوسرے لوگ اپنی کسی غلطی کی بنا پر دوچار

قرآن میں ایک طرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ خدا پر اعتماد و توکل کرو۔ قرآن میں یہ بھی حکم ہے کہ تم لوگ اپنے بچاؤ کا انتظام رکھو۔ (النساء ۷۱) اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا اگرچہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ ہر چیز مکمل طور پر اسی کے قبضہ میں ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا خدا نے امتحان کے لئے بنائی ہے۔ اس امتحانی مصلحت کی بنا پر خود خدا نے ہر عورت اور مرد کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ بالکل ضروری تھی۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر امتحان کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی امتحانی آزادی کی بنا پر یہ صورت حال ہے کہ ہر آدمی کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ اب اگر لوگوں سے ان کی آزادی چھینی جائے تو امتحان کا مقصد فوت ہو اس لئے اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ وہ خدا پر توکل کرتے ہوئے شریر لوگوں سے اپنے بچاؤ کا انتظام بھی ضرور رکھیں۔

اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لئے ہے جو توکل اور بچاؤ کے اس دو طرفہ تقاضے کی رعایت کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔

Printed page